پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے کوڈ آف کنڈکٹ یا اصول اخلاقیات کے مطابق اگر کسی ڈاکٹر کا نام طلاق کے کسی مقدمے میں آ جاتا ہے تو پی ایم ڈی سی اس کی رجسٹریشن منسوخ کر سکتی ہے یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس بنیاد پر طلاق دیتا ہے کہ اس کے کسی ڈاکٹر کے ساتھ تعلقات ہیں یا کسی ڈاکٹر کی اہلیہ اس سے اس بنیاد پر خلع طلب کرتی ہے کہ اس کے کسی مریضہ یا کلیگ کے ساتھ نامناسب تعلقات ہیں تو پی ایم ڈی سی اس کا لائسنس منسوخ کر سکتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اخلاقی ضوابط ایک ڈاکٹر کو اس قدر اعلیٰ کردار کا مالک دیکھنا چاہتے ہیں۔
اب آتے ہیں اساتذہ کی طرف ، ایک استاد کو تو ڈاکٹر سے بھی زیادہ کردار کی بلندی پر فائز ہونا چاہیے۔
ہم مشرقی لوگ خود کو اخلاقیات کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں لہذا میں ہماری نظروں میں مبینہ طور پر بدکردار اور بے حیا مغرب کے ایک ملک امریکہ کی تعلیمی اخلاقیات میں سے کچھ مثالیں پیش کروں گا۔
امریکہ میں یونیورسٹی استاد کے code of ethics کے مطابق ایک استاد میں درج ذیل خصوصیات ضروری ہیں ؛ دیانتداری ، رہبری leadership ،سالمیت integrity، وفاداری، ذمہ داری ، پیشہ ورانہ رویہ اور مقصدیت objectivity . استاد کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ ، ان کے والدین اور اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق کو نجی یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کرے۔
تعلیمی ترامیم 1972 کی رو سے ایک استاد کے اپنے شاگرد کے لیے غیر ضروری چھونے سے لے کر ذومعنی جملے اور اشارے تک کو جنسی ہراسانی قرار دیا گیا ہے ۔
پروفیسر جین گیلپ لکھتے ہیں کہ ایک پروفیسر اپنے شاگرد کی شخصیت ذہانت اور کردار کی تعمیر کرتا ہے لہذا استاد اور شاگرد کے رشتے کو والدین اور بچوں کے رشتے parent child relationship جیسا ہونا چاہیے ، اس میں کسی بھی درجے کی جنسیت کا داخل ہونا نا صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ incest (محرمات سے مباشرت ) ہے ، یعنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ جنسی تعلق کے مترادف ہے۔
معروف ماہر تعلیم پروفیسر سمتھسن لکھتے ہیں کہ استاد اور شاگرد کے درمیان جنسی تعلق چاہے وہ باہمی رضامندی سے ہی کیوں نا ہو جنسی ہراسانی اور جنسی استحصال شمار ہو گا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ طلبہ سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں، اپنے اساتذہ سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کا کہا مانتے ہیں لہذا وہ اپنی رضامندی سے بھی جنسی شکار بن سکتے ہیں لیکن یہ جنسی استحصال ہی شمار ہو گا۔
پروفیسر آسٹن کہتے ہیں کہ ہمارا طلبہ کے ساتھ ایک مقدس اعتماد کا رشتہ ہے لہذا کوئی بھی جنسی تعلق چاہے وہ دوطرفہ محبت کے نام پر ہی کیوں نا ہو اس پورے اکیڈمک کنوئیں کو زہر آلود کر دے گا۔
کل ایک ممتاز ماہر تعلیم اور معروف ترقی پسند دانشور کی ایک فیسبک پوسٹ نظر سے گزری جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یونیورسٹیوں میں آنے والی تیس سے چالیس فیصد طالبات اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں ہوتی ہیں ۔ محترم ہماری تہذیب اور روایات میں بچیاں اپنے جیون ساتھی تلاش نہیں کرتیں اور یونیورسٹی میں تقریباً سو فیصد بچیاں تعلیم حاصل کرنے ہی آتی ہیں، ان میں سے اکثریت کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہوتا ہے ، وہ پڑھ لکھ کر ڈگری حاصل کر کے باعزت روزگار کی خواہاں ہوتی ہیں تاکہ اپنے خاندان کو سپورٹ کر سکیں ، وہ ہرگز بر ڈھونڈنے یونیورسٹی نہیں آتیں ۔ انہیں اچھے نمبروں اور گریڈز سے پاس ہونا ہوتا ہے تاکہ میرٹ پر نوکری حاصل کر سکیں ۔ ایک عام مشاہدہ ہے کہ ہماری بچیاں بچوں سے زیادہ لائق اور محنتی ہوتی ہیں اور وہ اپنی محنت کا جائز صلہ چاہتی ہیں ۔ ان کا حق انہیں ملنا چاہیے، انہیں جنسی بھیڑیوں کے استحصال اور بلیک میلنگ سے تحفظ چاہیے۔
آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں ان طالبات کی جیون ساتھی کی تلاش میں سہولت کاری کرتا تھا اور انہیں کہتا تھا کہ جاؤ اپنے متوقع خاوندوں کے ساتھ شجر محبت کی چھائوں میں بیٹھو اور ڈوئیٹ گائو ۔۔۔ یہ حسیں وادیاں ۔۔۔ یہ کھلا آسماں ۔۔۔ آ گئے ہم کہاں ۔۔۔ او میرے ساجنا ۔ اگرچہ رجعت پسند جماعتیے اس کارخیر پر مجھے ڈراتے دھمکاتے تھے لیکن میں جان پر کھیل کر بھی کار محبت کو فروغ دینے سے پسپائی اختیار نہیں کرتا تھا۔۔ تالیاں۔
جناب یہ ترقی پسندی ہے تو ہم رجعت پسند اور تنگ نظر ہی بھلے۔
یہ سب کچھ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سیاہ کرداروں کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
کبھی کوئی سٹینڈ ود وی سی کا ٹرینڈ چلاتا ہے تو کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ طالبات خود ان فرشتوں کو بہکاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اچھے گریڈ پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں ، کبھی اسے سرائیکی وسیب میں فروغ علم کے خلاف سازش قرار دیا جاتا ہے تو کبھی ایک چودھری وزیر کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جس نے اسلامیہ یونیورسٹی کو ناکام بنا کر اپنی پرائیویٹ یونیورسٹی کو کامیاب کرنا ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ پاکستان کے کلچر میں بھی استاد کو باپ سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ تو حدیث میں بھی ہے ۔۔۔ اور بھارت کی سنسکرتی میں بھی گرو کو پتا سمان کہا گیا ہے ۔ اب اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو اچھے گریڈز کا لالچ دے کر یا فیل کرنے کی دھمکی دے کر اس کا جنسی استحصال کرے تو اس کا مقام کیا ہونا چاہیے !!!!
اس کا جواب اساتذہ کرام اور دانشوران عظام کے ذمہ ہے ۔۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

