ناموں کے حوالے سے لکھے گئے میرے مضمون پر بہت دلچسپ اور معلوماتی کامنٹس آئے لیکن میرا موضوع یہ تھا کہ کچھ ناموں کو بظاہر خوبصورت اور تہذیب یافتہ بنانے کے لیے جھوٹ اور بدنیتی سے کام لیا گیا ہے۔
اب آج کا موضوع۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے بھارتی فلمیں یا ڈرامے دیکھے ہوں گے ، ان میں فوج یا پولیس کا کوئی جونیئر کسی سینئر کو سیلوٹ کرتا ہے یا اس کے سامنے پیش ہوتا ہے یا اس کی فون کال ریسیو کرتا ہے تو کہتا ہے جے ہند سر اور افسر بھی جواب میں جے ہند کہتا ہے اور یہ محض فلموں میں نہیں حقیقتاً ایسا ہی ہوتا ہے ، آپ بھارتی فلمیں ڈرامے نیوز شو دیکھیں یا بیرون ملک بھارتیوں سے ملیں تو آپ دیکھیں گے کہ انہیں اپنی اس پہچان پر کس قدر فخر ہے اور وہ ہر جگہ اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستانی ایسا کیوں نہیں کرتے (بلکہ اب تو بدقسمتی سے بیرون ملک اپنی شناخت چھپانا پڑتی ہے)۔
در اصل ہمارا اپنی دھرتی ، اپنی تاریخ اور اپنی جڑوں سے تعلق قائم ہونے ہی نہیں دیا گیا ، ہماری تاریخ حملہ آوروں کی تاریخ ہے اور ہمارے اندر سکول سے ہی یہ راسخ کر دیا جاتا ہے کہ ہم برتر لوگ ہیں ہم باہر سے آئے ہیں ہم یہاں کے نہیں ، مطلب یہ کہ ہماری جڑیں اس مٹی ، اس دھرتی میں نہیں ۔
اگرچہ یہاں کے لوگوں کی بھاری اکثریت یہیں کی ہے ، باہر سے آئے ہوئے اقلیت میں ہیں ، نسلی طور پر ہندوستان میں بھی وسط ایشیا سے آنے ہوئے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن وہ اپنی دھرتی ماتا سے جڑ گئے ہیں ( ہمارے ہاں تو یہ دھرتی ماں کا تصور بھی شاید کفر کے زمرے میں آتا ہے ) ۔
ہمارے ہاں نا صرف یہ کہ باہر سے آئی ہوئی اقلیت اپنے خارجی ہونے پر ڈٹی ہوئی ہے بلکہ اس دھرتی سے اگے ہوئے قدیم پودے بھی بیرونی ہوائوں میں سانس لیتے ہیں ۔ اتنے قریشی عرب میں نہیں ہوں گے جتنے پاکستان میں ہیں ۔ پاکستان میں آپ کو سعودی عرب کی آبادی سے زیادہ قریشی ہاشمی انصاری عباسی وغیرہ ملیں گے۔ کچھ زیادہ پڑھے لکھے حضرات تو آرائیں برادری کو عرب اور الراعی لکھتے ہیں ۔ مولانا نور احمد فریدی مرحوم مرتے دم تک بلوچوں کو عرب ہاشمی اور حضرت امیر حمزہ کی اولاد ثابت کرنے کی سرتوڑ کوششیں فرماتے رہے۔ ہمارے فیس بک کے البلوشی دوستوں کو مبارک ہو کہ وہ نا صرف عرب ہیں بلکہ سید بھی ہیں ۔ اگرچہ ہمارےایک نجیب الطرفین سید دوست نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو سامی یا عربی ڈی این اے دس فیصد سے بھی کم نکلا۔
اور ایک بڑی تعداد بخاری ترمذی بدخشانی شیرازی تبریزی بغدادی اصفہانی سمرقندی اور پتہ نہیں کہاں کہاں کی ہے ۔ باہر سے ہیں بھائی ہم ، ہم اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں ، ہمارا اس کمتر نسل والی زمین سے کوئی رشتہ نہیں۔
یہی ہو رہا ہے نا ! یہاں رہ کر مال بنائو اور باہر بھاگ جائو یا مال باہر بھیج دو۔۔۔۔۔۔ کسی کو حکومت سے نکالا جائے تو وہ بیرون ملک پاکستانیوں سے کہتا ہے کہ پاکستان پیسے بھیجنا بند کر دو ۔ شوکت ترین صاحب پہلے شخص نہیں تھے جو اپنے وزراء خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا کہہ رہے تھے، ماضی میں بھی کئی جمہوریت پسند امریکہ اور یورپ سے اپیلیں کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت تک امداد نہ دی جائے جب تک جمہوریت نہ آ جائے یعنی وہ اقتدار میں نہ آ جائیں ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ سے شکایت لگائی جاتی ہے ، کتنا بڑا جوک ہے امریکہ اور انسانی حقوق کی محافظت۔
خیر جانے دیں موضوع سے ہٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس دھرتی کے ماں نہ ہونے پر اشرافیہ اور اجلافیہ دونوں متفق ہیں۔۔۔۔ تو پھر یہاں سدھار اور خوشحالی کیسے آئیں گے۔
دو دلچسپ مثالیں
ٹھٹھہ کے قریب مکلی ہے ، جہاں کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے ، اس مکلی کی وجہ تسمیہ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک درویش خاتون تھیں مائی مکلی ان کی وجہ سے یہ نام پڑا ، مائی مکلی کی قبر ہم نے بھی دیکھی ہے لیکن دور کی کوڑی لانے والے مورخ لکھتے ہیں کہ ایک مجذوب درویش حج کی نیت سے پاپیادہ مکہ جا رہے تھے جب وہ یہاں سے گزرے اور یہاں بزرگانِ دین کے مزارات اور ان پر تجلیات و انوار کی بارش دیکھی تو چلانے لگے ھذا مکہ لی ، ھذا مکہ لی ( یہ میرے لیے مکہ ہے یہ میرے لیے مکہ ہے ) اور یہاں ڈیرہ لگا لیا ۔ ۔۔ اس طرح یہاں کا نام مکلی پڑ گیا۔
دوسری مثال سندھ کے تاریخی شہر سکھر کی ہے جس کے بارے میں مورخ فرماتے ہیں کہ عرب حملہ آوروں نے یہاں کی گرمی کی وجہ سے اسے سقر یعنی جہنم نام دیا جو بعد میں سکھر پڑ گیا ۔ غور فرمائیں عرب کیا سائیبیریا سے آئے تھے کہ سکھر انہیں جہنم لگا ، کیا یہاں صحرائے عرب سے زیادہ گرمی پڑتی تھی ! مزید یہ کہ شہر دریائے سندھ کے کنارے بسا ہوا تھا اور یہاں وسیع نخلستان تھے تو یہ کس زاویے سے جہنم لگتا تھا ؟ ( یہ نظریہ کہ کھجوروں کے جھنڈ عرب قافلوں کے پڑاؤ تھے اور ان کی پھینکی ہوئی گٹھلیوں اور ان کے اونٹوں کے فضلے سے نکلی ہوئی گٹھلیوں سے یہاں کھجوریں پیدا ہوئیں من گھڑت ثابت ہو چکا ہے، ماہرین علم الآثار و علم حیاتیات بتاتے ہیں کہ برصغیر میں ہزاروں سالوں سے کھجور موجود ہے ) ۔ کچھ اور میٹھے مورخ حضرات کہتے ہیں دراصل یہاں گنے کی کاشت ہوتی تھی اور شکر بنتی تھی لہذا عرب اسے شکر کہنے لگے جو بعد میں سکھر ہو گیا۔ او بھلے لوگو اس کا عربوں کی آمد سے پہلے بھی تو کوئی نام ہو گا یا مھنجو دڑو ہڑپہ مہر گڑھ مولستھان اور ہاکڑہ جیسی تہذیبوں کے وارث اپنے شہروں کے نام نہیں رکھتے تھے اور اسے مستقبل کے حملہ آوروں کی صوابدید پر چھوڑ دیتے تھے !
اب آج کا موضوع۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے بھارتی فلمیں یا ڈرامے دیکھے ہوں گے ، ان میں فوج یا پولیس کا کوئی جونیئر کسی سینئر کو سیلوٹ کرتا ہے یا اس کے سامنے پیش ہوتا ہے یا اس کی فون کال ریسیو کرتا ہے تو کہتا ہے جے ہند سر اور افسر بھی جواب میں جے ہند کہتا ہے اور یہ محض فلموں میں نہیں حقیقتاً ایسا ہی ہوتا ہے ، آپ بھارتی فلمیں ڈرامے نیوز شو دیکھیں یا بیرون ملک بھارتیوں سے ملیں تو آپ دیکھیں گے کہ انہیں اپنی اس پہچان پر کس قدر فخر ہے اور وہ ہر جگہ اس کا اظہار کرتے ہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستانی ایسا کیوں نہیں کرتے (بلکہ اب تو بدقسمتی سے بیرون ملک اپنی شناخت چھپانا پڑتی ہے)۔
در اصل ہمارا اپنی دھرتی ، اپنی تاریخ اور اپنی جڑوں سے تعلق قائم ہونے ہی نہیں دیا گیا ، ہماری تاریخ حملہ آوروں کی تاریخ ہے اور ہمارے اندر سکول سے ہی یہ راسخ کر دیا جاتا ہے کہ ہم برتر لوگ ہیں ہم باہر سے آئے ہیں ہم یہاں کے نہیں ، مطلب یہ کہ ہماری جڑیں اس مٹی ، اس دھرتی میں نہیں ۔
اگرچہ یہاں کے لوگوں کی بھاری اکثریت یہیں کی ہے ، باہر سے آئے ہوئے اقلیت میں ہیں ، نسلی طور پر ہندوستان میں بھی وسط ایشیا سے آنے ہوئے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن وہ اپنی دھرتی ماتا سے جڑ گئے ہیں ( ہمارے ہاں تو یہ دھرتی ماں کا تصور بھی شاید کفر کے زمرے میں آتا ہے ) ۔
ہمارے ہاں نا صرف یہ کہ باہر سے آئی ہوئی اقلیت اپنے خارجی ہونے پر ڈٹی ہوئی ہے بلکہ اس دھرتی سے اگے ہوئے قدیم پودے بھی بیرونی ہوائوں میں سانس لیتے ہیں ۔ اتنے قریشی عرب میں نہیں ہوں گے جتنے پاکستان میں ہیں ۔ پاکستان میں آپ کو سعودی عرب کی آبادی سے زیادہ قریشی ہاشمی انصاری عباسی وغیرہ ملیں گے۔ کچھ زیادہ پڑھے لکھے حضرات تو آرائیں برادری کو عرب اور الراعی لکھتے ہیں ۔ مولانا نور احمد فریدی مرحوم مرتے دم تک بلوچوں کو عرب ہاشمی اور حضرت امیر حمزہ کی اولاد ثابت کرنے کی سرتوڑ کوششیں فرماتے رہے۔ ہمارے فیس بک کے البلوشی دوستوں کو مبارک ہو کہ وہ نا صرف عرب ہیں بلکہ سید بھی ہیں ۔ اگرچہ ہمارےایک نجیب الطرفین سید دوست نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو سامی یا عربی ڈی این اے دس فیصد سے بھی کم نکلا۔
اور ایک بڑی تعداد بخاری ترمذی بدخشانی شیرازی تبریزی بغدادی اصفہانی سمرقندی اور پتہ نہیں کہاں کہاں کی ہے ۔ باہر سے ہیں بھائی ہم ، ہم اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں ، ہمارا اس کمتر نسل والی زمین سے کوئی رشتہ نہیں۔
یہی ہو رہا ہے نا ! یہاں رہ کر مال بنائو اور باہر بھاگ جائو یا مال باہر بھیج دو۔۔۔۔۔۔ کسی کو حکومت سے نکالا جائے تو وہ بیرون ملک پاکستانیوں سے کہتا ہے کہ پاکستان پیسے بھیجنا بند کر دو ۔ شوکت ترین صاحب پہلے شخص نہیں تھے جو اپنے وزراء خزانہ سے ملکی مفاد کے خلاف آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا کہہ رہے تھے، ماضی میں بھی کئی جمہوریت پسند امریکہ اور یورپ سے اپیلیں کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت تک امداد نہ دی جائے جب تک جمہوریت نہ آ جائے یعنی وہ اقتدار میں نہ آ جائیں ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ سے شکایت لگائی جاتی ہے ، کتنا بڑا جوک ہے امریکہ اور انسانی حقوق کی محافظت۔
خیر جانے دیں موضوع سے ہٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس دھرتی کے ماں نہ ہونے پر اشرافیہ اور اجلافیہ دونوں متفق ہیں۔۔۔۔ تو پھر یہاں سدھار اور خوشحالی کیسے آئیں گے۔
دو دلچسپ مثالیں
ٹھٹھہ کے قریب مکلی ہے ، جہاں کہا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے ، اس مکلی کی وجہ تسمیہ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک درویش خاتون تھیں مائی مکلی ان کی وجہ سے یہ نام پڑا ، مائی مکلی کی قبر ہم نے بھی دیکھی ہے لیکن دور کی کوڑی لانے والے مورخ لکھتے ہیں کہ ایک مجذوب درویش حج کی نیت سے پاپیادہ مکہ جا رہے تھے جب وہ یہاں سے گزرے اور یہاں بزرگانِ دین کے مزارات اور ان پر تجلیات و انوار کی بارش دیکھی تو چلانے لگے ھذا مکہ لی ، ھذا مکہ لی ( یہ میرے لیے مکہ ہے یہ میرے لیے مکہ ہے ) اور یہاں ڈیرہ لگا لیا ۔ ۔۔ اس طرح یہاں کا نام مکلی پڑ گیا۔
دوسری مثال سندھ کے تاریخی شہر سکھر کی ہے جس کے بارے میں مورخ فرماتے ہیں کہ عرب حملہ آوروں نے یہاں کی گرمی کی وجہ سے اسے سقر یعنی جہنم نام دیا جو بعد میں سکھر پڑ گیا ۔ غور فرمائیں عرب کیا سائیبیریا سے آئے تھے کہ سکھر انہیں جہنم لگا ، کیا یہاں صحرائے عرب سے زیادہ گرمی پڑتی تھی ! مزید یہ کہ شہر دریائے سندھ کے کنارے بسا ہوا تھا اور یہاں وسیع نخلستان تھے تو یہ کس زاویے سے جہنم لگتا تھا ؟ ( یہ نظریہ کہ کھجوروں کے جھنڈ عرب قافلوں کے پڑاؤ تھے اور ان کی پھینکی ہوئی گٹھلیوں اور ان کے اونٹوں کے فضلے سے نکلی ہوئی گٹھلیوں سے یہاں کھجوریں پیدا ہوئیں من گھڑت ثابت ہو چکا ہے، ماہرین علم الآثار و علم حیاتیات بتاتے ہیں کہ برصغیر میں ہزاروں سالوں سے کھجور موجود ہے ) ۔ کچھ اور میٹھے مورخ حضرات کہتے ہیں دراصل یہاں گنے کی کاشت ہوتی تھی اور شکر بنتی تھی لہذا عرب اسے شکر کہنے لگے جو بعد میں سکھر ہو گیا۔ او بھلے لوگو اس کا عربوں کی آمد سے پہلے بھی تو کوئی نام ہو گا یا مھنجو دڑو ہڑپہ مہر گڑھ مولستھان اور ہاکڑہ جیسی تہذیبوں کے وارث اپنے شہروں کے نام نہیں رکھتے تھے اور اسے مستقبل کے حملہ آوروں کی صوابدید پر چھوڑ دیتے تھے !
فیس بک کمینٹ

