ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

ان آنکھوں کے سحر کی اصل حقیقت :گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

بارش میں اشارے پر گاڑی رکی تو 19 ،20 سال کی وہی جوان نقاب پوش آنکھیں، بارش میں بھی فرنٹ سکرین صاف کرتی دکھائی دیں۔ یہ اب معمول تھا، اس اشارے پر جب گاڑی رکتی ،وہ آتی گاڑی کا شیشہ صاف کرتی اور ایسا کما ل صاف کرتی کہ مجھے اس کی عادت سی ہوگئی۔ میں شیشہ نیچے کرتا، پچاس کا نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھتا،آنکھوں سے وہ شکریہ ادا کرتی اور میں اپنی منزل پر نکل جاتا۔ ایک بار جب گھر کے ڈرائیور کو میں نے کار کا شیشہ صاف کرنے پر ڈانٹا تو میں نے پہلی بار ان آنکھوں کا اثر اپنی ذات پر محسوس کیا، پھر کئی بار ایسا ہوا کہ اشارہ کھلا بھی ہوتا تو میں کار روک دیا کرتااور وہ آکر شیشہ صاف کردیا کرتی۔ تین ماہ یہ عمل جاری رہا اور اس دوران ایک بھی بار نہ میں نے اس سے کوئی بات کی اور نہ ہی ادھر سے کوئی کلام ہوا۔ میں شادی شدہ آدمی، اشارے پر گاڑیاں صاف کرتی اس لڑکی سے بہت متاثر تھا۔ میری ذات جانتی تھی کہ اس لڑکی کے اچھے کام اور اس کی آنکھوں سے شکریہ ادا کرنے کے سحر نے مجھے جکڑ لیا تھا۔ مجھ جیسے لکھاری کے اندر کا کونسا روپ مجھ پر حاوی ہورہا تھا،میں اب اس کی تلاش میں تھا۔



اگر اس کا تعلق ٹھرک سے تھا،تو ساری زندگی کبھی کوئی کشش زدہ چیز نہیں رہی، کوئی حوس تھی تو اتنی پاکیزہ کیوں تھی؟ اور اگر کچھ اور تھا تو وہ کیا تھا؟ میں نے رات کے آخری پہر مشہور آسٹریلوی لکھاری Bronnie Ware کی کتاب زندگی کے پانچ بڑے پچھتاوے پڑھنا شروع کی تو مجھے نقاب پوش آنکھوں کے سحر کا جواب ملنے لگا۔ Bronnie Ware ایک ہسپتال میں نرس تھی اور وہ کسی بیماری کی آخری سٹیج پر Palliative یعنی آخری مراحل کی نگہداشت ان مریضوں کو فراہم کیا کرتی تھی۔وہ رات کو ایسے کسی کینسر کے مریض یا ایڈز کے آخری سٹیج کے مریض کے پاس بیٹھ جایا کرتی تھی اور ان سے پوچھا کرتی تھی کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا کیا ہے؟ وہ یہ تحقیق کرتی گئی اور یوں اس نے دنیا کی بہترین کتاب لکھ دی۔اس کتاب کو پوری دنیا میں Best Seller کے ایوارڈ سے نواز گیا اور اس نے کئی زندگیاں بدل ڈالیں۔ میں نقاب پوش آنکھوں کے سحر میں کتاب کے صفحے پلٹنے لگا تو پہلے نمبر پر جس پچھتاوے کا ذکر تھا،وہ یہ تھا کہ وہ تمام مرنے والے زندگی میں پروفیشنل نہیں رہے، مطلب جو کام وہ کرنا چاہتے تھے،وہ انہوں نے نہیں کیا۔



وہ بس کوئی بھی کام کرتے رہے،کوئی ماں باپ کے پریشر میں ڈاکٹر بن گیا،کوئی انجینئر بن گیا،کسی نے کاروبار کرلیا، مگر جو وہ کرنا چاہتے تھے وہ نہ کیا،اس میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی تھی جو ایپل کے سٹیو جاب سے بے حد متاثر تھی،وہ لڑکی بہترین فوٹو گرافر بننا چاہتی تھی، مگر وہ بزنس پڑھتی رہی اور زندگی میں اس نے کچھ حاصل نہ کیا۔ سٹیو جاب کی زندگی ایسے کئی افراد کے لیے متاثر کن کیوں تھی؟ وہ شخص جو ایک نکما انسان تھا؟ جسے یونیورسٹی سے دھکے دے کرنکال دیا گیا تھا؟ اس شخص نے ایسا کیا کیا کہ اس نے پوری دنیا ہی بدل دی۔ سٹیو جاب ایپل کمپنی کا مالک تھا،اس کی ایجاد ایک ٹچ سکرین ہے کہ جس نے آج کی دنیا ہی بدل دی اور اس نے یہ سب صرف اپنے پروفیشنلزم سے حاصل کیا۔ وہ نالائق تھا، بیک بینچر تھا،کلاس میں پچھلی نشست پر بیٹھا کرتا تھا ،مگر اس نے زندگی میں پروفیشنل طریقے سے وہ کیا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ سٹیو جاب کو گانے سننے کا بہت شوق تھا، اس نے اس عمل کو آسان بنانے کے لیے ایک چھوٹا سا آلہ بنایا کہ جس سے گانے سنے جاسکتے تھے، آج دنیا اسے آئی پوڈ کے نام سے جانتی ہے۔ اس میں مزید جدت لانے کے لیے سٹیو جاب نے اس میں ٹچ سکرین کا فیچر ڈال دیا اور یوں ہاتھ سے چلنے والی سکرین ایجاد ہوگئی اور پھر سیل فون ٹیکنالوجی کا جنم ہوا۔ کئی لاکھوں ڈالر کی اس ایجادکے سافٹ وئیر کا فارمولہ سٹیو جاب نے جس صفحے پر بیچا ،اس کو اگر آپ کسی انگریزی کے ٹیچر کو پڑھائیں تو وہ اس کا تمسخر اڑائے۔اس صفحے میں قومے، فل سٹاپ اور سپیلنگ کی کئی غلطیاں ہیں،مگر وہ صفحہ دنیا کی تاریخ کا آج تک کا مہنگا ترین صفحہ ثابت ہوا۔ ایپل کا بزنس آج میرے ملک پاکستان کے پورے سال کے بجٹ سے زیادہ ہے،یعنی ہمارا پورا ملک اتنا نہیں کماتا ،جتنا یہ اکیلی کمپنی کما رہی ہے۔ ایپل کمپنی پاکستان سمیت بائیس ممالک کا قرض ایک دن میں اتار سکتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اتنی ہی رقم چند ماہ میں دوبارہ کمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لڑکی نے دنیا کے پانچ سو امیر ترین اشخاص کی ایک فہرست تیار کر رکھی تھی،وہ سب اس کام کے پروفیشنل تھے،جو وہ کرنا چاہتے تھے۔وہ سب انتہائی نالائق ، نکمے ،کام چور تھے، مگر کامیاب تھے،دنیا کے امیر ترین لوگ تھے۔ ان سب میں تین خوبیا ں تھیں ،جنہوں نے انہیں اس مقام پر پہنچایا تھا،یہ تمام لوگ consistent تھے، یعنی کچھوے کی چال سے اپنے کام پر لگے رہتے تھے، نکمے تھے، تب بھی متواتر نکمے تھے۔ دوسرا یہ درویش تھے، یعنی ان کی جماعت میں کوئی اول آرہا ہو،دوم آرہا ہو،کسی کو ایوارڈ مل رہا ہو،ان کی جوتی کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ تیسرا یہ انتہائی درجے کے ڈھیٹ تھے، دنیا جو مرضی کہے انہوں نے اپنا آپ نہیں بدلنا۔ یہ تین وہ صلاحتیں تھیں، جو ایک انتہائی پروفیشنل انسان میں ہونی چاہیں ، مگر اس لڑکی کا سب سے بڑا پچھتاوا وہ خواہش تھی جو ان تمام چھ سو امیر ترین افراد میں مشترک تھی، ان سب نے زند گی میں وہ کیا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ ان میں ایک بھی نام ایسا نہیں تھا کہ جس نے اپنے ذائقے،اپنے شوق ،اپنے دل کے خلاف کام کیا ہو۔Bronnie Ware لکھتی ہیں کہ رات کے کسی پہر سناٹوں میں جب یہ لوگ روتے تو میں ان کو تسلی دیتی اور یہ رب سے صرف کاش ایک اور موقع کی امید کیا کرتے تھے۔یہ تیس پینتیس سال کی کینسر سے لڑتی لڑکی ، ہر وقت کیمرے سے وارڈ کے اندر کی تصاویر بناتی،وہ موت سے لڑتی اپنی پہلی خواہش کو آخری کرنے کی جہد میں تھی اور اس کام میں وہ انتہائی پروفیشنل تھی۔اس کی فوٹو گرافی پر رشک آتا،اس کے ہاتھ چومنے کو دل کرتا اور رات کے آخری پہر وہ بھی کاش کے لفظ کو لے کر گھنٹوں رویا کرتی تھی۔ ایک دن وہ سٹیو جاب بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے مرگئی۔ایک انتہائی پروفیشنل لڑکی جس نے اپنے شوق سے بیماری کے آخری حصے میں مجھے اس قدر متاثر کر دیا،اگر وہ اپنا شوق پورے کرنے لگ جاتی تو شاید وہ بھی سٹیو جاب کی طرح کچھ کر پاتی۔ رات کے آخری پہر میں نے کتاب بند کی اور گھر کی بالکونی میں کھڑا ہوگیا، رات کے دو بج رہے تھے،سامنے دور دریا میں پڑنے والی بارش کی بوندوں کو میں آنکھوں میں جذب کرنے کی کوشش کرنے لگا،


اندھیرا بہت تھا، مگر مجھے نقاب پوش آنکھوں کی گہرائی سمجھ آنے لگی تھی۔ میرے سامنے دریا تھا،وہ بہنے کے لیے بنا تھا،پوری آب و تاب سے بہہ رہا تھا،بادل بارش کے لیے بنے تھے ،وہ بھی اپنا کام کررہے تھے، اور وہ لڑکی جس کام کے لیے بنی تھی ،وہ اس کو پوری ایمانداری اور پروفیشنل طریقے سے کر رہی تھی۔ مجھے اس لڑکی کی آنکھوں میں کوئی محبت زدہ کشش نہیں تھی،وہ میری گاڑی کا شیشہ صاف کرتی ،میں اس کو دیکھتا رہتا،مجھے اس سے نہیں،اس کے کام کے انداز سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ نہ اس دوران فون استعمال کرتی تھی، نہ گانے سن رہی ہوتی تھی اور نہ ہی ایک گاڑی والے بابو کو زیادہ لفٹ کراتی تھی۔اس کی آنکھیں جو شکریہ ادا کیا کرتی تھیں وہ اس پروفیشنل ethics کا حصہ تھی،جس پر گورے کتابیں لکھ لکھ تھک گئے، مگر وہ ہماری قوم کی رگوں میں داخل نہ ہوا۔ ہم نے ادارے تباہ کردیے، کام نہ کرنے کے چکر میں کرپشن کے زہر کا پیالہ پی لیا،رشوت دے لی، دنیا کے ساتھ آخرت اجاڑ لی، مگر نہ ہم نے اپنے اندر کی تڑپ کو پہچانا اور نہ جس پیشے میں گئے اس سے محبت کی۔ پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈالا تو فون کو چمٹے رہے، مریض دیکھے تو انسٹا گرام کھولے رکھا، بینک میں حساب کیا تو بیوی بچوں سے فون پر لگ گئے، سیاست کی تو خاندانی کاروبار ،ملکی اداروں کے ساتھ کھچڑی کردیے، تھانوں میں لگے تو اپنی جیب گرم کرتے رہے،یہاں تک کہ کرکٹ بھی کھیلی تو جمائیاں لیتے رہے، ہم بطور قوم کہیں اس گاڑیاں صاف کرتی لڑکی سے بہت پیچھے رہ گئے۔ میں تین ماہ جس کیفیت سے گزرا وہ کسی کے کام کی لگن دیکھ کر اس سے عشق کی کیفیت تھی،وہ عشق مجھے اس لڑکی کی ذات سے نہیں اس کے پروفیشنلزم سے تھا اور یقینا وہ اسی کام کے لیے بنی تھی اور وہ اس سے اتنی ہی محبت کرتی تھی،جتنا سٹیو جاب اپنے آئی پوڈ سے کرتا تھا۔ رات گزر گئی،نقاب پوش آنکھوں کے سحر کا جو راز مجھ پر کھلا تھا،اس کی آخری منزل باقی تھی۔ میں نے اگلے روز ،اشارے پر گاڑی روکی،وہ گاڑی کا شیشہ صاف کرتی رہی اور میں اسے دیکھتا رہا،وہ قریب آئی،میں نے ایک ہزار کا نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھا۔اس نے شکریے یا کچھ اور کہنے کی بجائے،جھٹ سے اپنے چھوٹے پرس سے نو سو پچاس روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے،انہی نقاب پوش آنکھوں سے میرا شکریہ ادا کیا اور چل دی۔اس نے آج بھی مجھے سے کوئی بات نہ کی اور بات کرنے کو بچا بھی کیا تھا؟ ان نقاب پوش آنکھوں کے سحر کا راز تھا،وہ بھی رات کی طویل بارش میں دہل گیا تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker