ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

عمران خان اور بین الاقوامی سیاست : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

ہم نے جتنا کرنا تھا کر لیا،دنیا نے کشمیر کے معاملے پر مایوس کیا ، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، اسی لاکھ کشمیریوں کے ساتھ جو ہوا اگر آٹھ امریکیوں کے ساتھ ہوتا توکیا دنیا ایسے ہی خاموش رہتی؟اب آنے والے حالات اور جنگ کی ذمہ دار دنیا اور بھارتی حکومت ہوگی ،اسی لاکھ کشمیریوں کو جیسے قید کیا گیا اگر ایسے ہی 80 لاکھ یہودیوں کو قید کیا جا تا تو دنیا کا ردعمل ایسا ہوتا؟اب یہ مسئلہ ایک ہی طرف جائے گا، اب ہم دنیا کی مدد کا انتظار نہیں کریں گے، اب دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کشمیر کے مسئلہ کو کیسے حل کرتا ہے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نیویارک میں میڈیا کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے، ادھر طیب اردگان دنیا کو فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی تصاویر دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کررہے تھے کہ اصل دہشت گردی مسلمان نہیں کررہے بلکہ کوئی اور کررہا ہے۔

ٹرمپ اور خان کی مشرکہ پریس کانفرنس میں خان کی باڈی لینگویج بہت کچھ کہہ رہی تھی، ٹرمپ کشمیر پر میڈیا کے جوابات کو گول مول کررہا تھا اور اس کی وجہ آنے والا امریکی الیکشن تھا جس میں اسے امریکی بھارتی باشندوں کا بہت بڑا ووٹ بنک درکار ہے،اور یہی وجہ اسے مودی کے ساتھ اس ہال میں بھی لے گئی جہاں ٹرمپ کو ہندوزم کی تعریفوں کے پل باندھنے پڑے۔ مودی کے لیے جو بھی ٹرمپ نے کہا بار بار ہندوزم کا لفظ استعمال کیا اور مودی اس پر تالیاں بجاتا رہا۔ جبکہ پاکستان سے زیادہ مسلمان بھارت میں ہیں۔ حیران کن طو ر مودی امریکہ ہندوستان نہیں ہندوﺅں کا نمائندہ بن کر گیا ہے اور آر ایس ایس کی پیداوار کی بھارتی حکمرانی کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔ یہ سب میرے سامنے تھا اور میں کیوبا کے انقلابی رہنما پر Fidel Castro پر امریکی سی آئی اے کے خفیہ قاتلانہ حملوں کی تاریخ پڑھ رہا تھا۔



28نومبر 2006ءکو ایک ڈاکومنٹری دنیا کے سامنے آتی ہے جس میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے کیوبا کے وزیر اعظم کو 638 بار مختلف طریقوں سے مروانے کی کوشش کی اور وہ ہر بار بچ گیا۔ انہوں نے کبھی اس کے سگار میں بم لگایا،کبھی اس کے تیراکی کے لباس میں بم لگادیا، کبھی زہر والا پین اس کو تحفے میں پہنچایا گیا اور کبھی ایک خاتون کو اس کے پیچھے زہر کی گولیاں دے کر بھیجا گیا۔ امریکی سی آئی اے ہر بار ناکام ہوگئی اور کیسٹرو بچتا رہا اور کیوبا میں امریکی تھنک ٹینکس اور مفادات کے برعکس کام جاری رکھا۔ ایس جوزف کی کتاب Paradox of American Power کا مطالعہ کریں تو بھی آپ کو سمجھ آئے گی کہ امریکہ کو سپر پاور بنانے کے لیے امریکی سی آئی اے نے کیا کیا اور وہ کئی سالوں سے کس طرح پوری دنیا میں اپنا کام کرتی آرہی ہے۔ کیسٹر بچ گیا، مگر تاریخ میں اندرا گاندھی ،راجیو گاندھی، لیاقت علی خان، بھٹو خاندان ،حتی کہ ضیا الحق ، لیڈی ڈیانا، سمیت جتنے بھی عالمی رہنما قتل ہوئے یا مار دیے گئے،ان میں کہیں نہ کہیں سی آئی اے کا عمل دخل رہا اور یہ بات ہر تحقیق میں ثابت بھی ہوئی۔



امریکی سی آئی اے کے اس مشن کو ہائی ویلیو ٹارگٹ کا نام دیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ایسے جتنے بھی قتل ہوتے ہیںان کا مقصد صرف امریکہ کاسپر پاور درجہ برقرار رکھنا اور دنیا پر اس کی حکمرانی ہوتا ہے۔ جنگوں میں جس طرح صدام حسین ،کرنل قذافی کا خاتمہ کیا گیا ،افغانستان میں طالبان کا پیدا کیا جانا، پھر 9/11، پھر طالبان کو دہشت گرد قرار دینا اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا انٹرنیشنل لیبل ، گستاخانہ خاکوں اور عرب سپرنگ میں حسنی مبارک کا تختہ الٹنے سمیت ،یہ سب پینٹاگون میں ہوتا رہا اور اس کی تمام پلاننگ میں سی آئی اے ملوث تھی۔اسی طرح افریکی ریاستوں میں بدامنی، چین کو تجارتی سطح پر شکست اور ایران سعودی شیعہ سنی فساد یہ سب پیدا کئے جاتے رہے اور امریکہ اپنے مفادات کی حفاظت میں پوری دنیا کو قربان کرتا رہا۔ مسئلہ کشمیر سی آئی اے کی تعریف میں شاید اتنا اہم نہیں تھا، مگر بھارتی راءاور سی آئی اے کے براہ راست دستِ راست موساد کے لیے کشمیر بھی اہمیت کا حامل تھا۔سب جانتے ہیں کہ کشمیر میں ہونے والے جہاد کو 9/11 سے پہلے آزادی کی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس کو طالبان دہشت گردی کے ساتھ ملایا گیا اور یوں کشمیروں کے لیے آزادی کی جنگ لڑنا محال ہوگیا۔ادھر طالبان راءکی مدد سے پاکستان کے اندر ہی امریکہ کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے لگ گئے،پاکستان ایک پر ایک بم دھماکے کے بعد کمزور ہوتا گیا اور بارڈر کے اس پار آر ایس ایس طاقت پکڑتی گئی۔



مودی نے آرٹیکل 370 اٹھا لیا اور اس میں اسے براہ راست اسرائیل کی پشت پناہی تھی اور کشمیریوں پر ناختم ہونے والا کرفیو نافذ کردیا گیا۔ اب کوئی کہاں سوچ سکتا تھا کہ پاکستان اتنی طاقت حاصل کرلے گا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں اٹھائے ،نہ صرف یہ بلکہ طیب اردگان، مہاتیر محمد مل کر مسلمانوں کے پوری دنیا میں بہتر امیج کے لیے آواز اٹھانا شروع کردیں اور اردگان امریکہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کی بربریت کی تصاویر دکھائے،عمران گستاخانہ خاکوں پر کھل کر بات کرے۔ سی آئی اے کی اصطلاح معتدل اسلام کو رد کرکے ایک اسلام، پیارے نبی ﷺ کے اسلام کی بات کرے اور امریکی صدر کو کشمیر کے معاملے پر پوری دنیا کے سامنے بھیگی بلی بننا پڑے۔ وہ بار بار ثالثی کی بات کرے اور ساتھ ہی مودی کو اپنا بہترین دوست کہتے ہوئے ، خان کو دنیا کا بہترین لیڈر قرار دے،اس پر اعتماد کا اظہار کرے اور اسے اپنا بہترین دوست کہے۔ ادھر خان ایران اور سعودی تنازعہ کے حل کے لیے امریکی صدر کی تھپکی لے اور مشرقی وسطی سے فساد کی جڑ ہی ختم ہوجائے۔ ملکی سطح پر مہنگائی،معاشی بدحالی اور دیگر مسائل کو کچھ دیر بھول کر اگر خان کے بین الاقوامی وقار کو دیکھا جائے اور اس ضمن میں اس کا موازنہ شاہ سلیمان ،امارت کے امیروں اور دیگر عرب لیڈروں کے ساتھ کیاجائے تو خان نے اس بار سب کو مات دے دی ہے۔ خان نے موجودہ امریکہ دورے میں جو کام کیے ہیں ، واقعی ان کو کرنے کے لیے اس ایٹمی ریاست کو خان جیسا لیڈر ہی چاہیے تھا۔



خان نے مودی سرکار کو ٹف ٹائم نہیں دیا، بلکہ مودی کو بین الاقوامی سطح پر ہلا کر رکھ دیا ہے اور جس طرح کئی دہائیوں میں پہلی بار اسلام کے تشخص کو اصل معنوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا وہ بھی خان ہی کی کامیابی ہے۔ خان یقینا خطروں کا کھلاڑی ہے اور جو خان کررہا ہے وہ یقینا جیب سے پرچیاں نکال کر پڑھنے والے نہیں کرسکتے تھے۔عمران خان، طیب اردگان اور مہاتیر محمد، اسلامی ریاستوں کی اس سے بہتر ترجمانی کیا ہوسکتی ہے؟ پورے مشرقی وسطی کے مفاد پرست رہنماﺅں کو ان لیڈروں سے سیکھنا ہوگا۔ ایک گونج یہ کہتی ہے کہ سی آئی اے کو یہ سب ہضم نہیں ہوگا۔ جس اسرائیل کی بقا کی خاطر پوری دنیا میں آگ لگا دی گئی۔ اس پر سمجھوتا کیسے ہوگا؟ جس سپرپاور درجے کی خاطر صدام ، قذافی مروا دیے گئے٬ شام ،عراق،لیبیا ، افغانستان میں نسلیں برباد کردی گئیں اس پر سمجھوتاکیسے ہوگا؟ ایران سعودی تنازعہ حل ہوگیا تو امریکہ حکمرانی کس پر کرے گا اور اگر مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو ایک طاقتور ترین مسلم ایٹمی مسلم ریاست ابھر نے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا جو پہلے ہی چین کی بہترین اتحادی ہے۔ جن کو یہ لگتا ہے عمران بطور سفارت کار مودی سے ہار رہا ہے ان کو تاریخ پڑھنا ہوگی۔ ٹرمپ نے براہ راست چین کو تجارت کے نام پر نشانہ بنایا،امریکہ سعودی کا دوست ایران کا دشمن ہے اور عمران امریکہ کے کہنے پر ایران سعودی عرب کی دوستی کرانے چلا ہے جبکہ ہم چین کے اتحادی بھی ہیں اور سی پیک اور گوادر بھی چین کے لیے کھول رکھا ہے۔ انٹرنیشنل سیاست دہشت گردی کے نام پر صلیبی، یہود و ہندو گٹھ جوڑ اور امریکہ بطور سپر پاور ریاست کے گرد گھوم رہی ہے۔ سی آئی اے اب متحرک ہوگی۔ بھٹو نے بھی اسلامی ریاستوں کو اکٹھا کرنے کی ایسی ہی سعی کی تھی ۔ عمران خان ، طیب اردگان اور مہاتیر محمد کی اللہ حفاظت فرمائے۔ بین الاقوامی سیاست کوئی بھی نیا موڑ لے سکتی ہے اور اس دوران اگر سی آئی اے Fidel Castro کی طرح ناکام رہی تو تاریخ بدل سکتی ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ کشمیر اپنے گرد پوری دنیا کی سیاست کو لپیٹ دے،ایسے میں مودی کی انتہا پسندی یا تو پوری دنیا ،خاص کر عرب رہنماﺅں کی عیاشی اور تجارت کی سب سے بڑی منڈی ہندوستان کو ایٹم کے دھوئیں میں اڑوا دے گی اور ایسے میں پاکستان سمیت پوری دنیا عالمی لیڈروں کی مجرمانہ خاموشی کے نتائج بھگتے گی ،یا پھر کشمیر آزاد ہوجائے گا۔ عمران نے جس سیاست کا آغاز کرکٹ کے بلے سے کیا تھا،وہ دھرنوں پانامہ سے ہوتی ،یونائیٹڈ نیشن کے دفتر وں میں اسلام کی سربلندی کی باتوں تک آپہنچی ہے۔آنے والا وقت بین الاقوامی سونامی ہوگا۔نبی پاک ﷺ کی شان میں جب گستاخی کی جاتی ہے ہمارے دلوں کو چوٹ پہنچتی ہے ۔ادھر میں کالم کی آخری سطور لکھ رہا تھا ادھر خان یونائیٹڈ نیشنز میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کررہا تھا۔ خان چھا گیا ٬ کرفیو زدہ اسی لاکھ کشمیری جب بھی خان کی یہ تقریر سن پائیں گے٬ وہ خان کو وہی درجہ دیں گے جو ایک قوم اپنے بانی کو دیا کرتی ہے۔ کشمیر اب آزاد ہوگا۔ خان کے آخری الفاظ تھے میرا ایمان ہے لاالہ الااللہ ہے لڑیں گے تو آخری حد سب کو معلوم ہے۔کیا کشمیروں کو پوری دنیا میں ایسا وکیل مل سکتا تھا؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker