ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

طویل خزاں اور تبدیلی؟ یقین مانو سوال ہو گا : / ڈاکٹر عفان قیصر

یہ 2010 ءکا بد ترین سیلاب تھا۔ ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ ہورہی تھی اور ہمارے میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں تو بجلی جیسے آتی ہی نہیں تھی۔ تین چار ،چارجنگ پنکھے اور ان میں پسینے سے شرابور میں اور میرا دوست ڈاکٹر فہد۔ ہر چہرے پر مایوسی نظر آتی تھی۔ جس سے بات کرو وہ ملکی حالات کا رونا رونے لگ جاتا۔ ایک دن پورے شہر میں پیٹرول ملنا بند ہوگیا، پتہ لگا کہ آئل ریفائنری میں بھی سیلاب کا پانی چلا گیا ہے۔یہ وہ دن تھا جب فہد اور میں سڑک پر ایک فٹ پاتھ کنارے بیٹھ کر شدید مایوسی کی حالت میں پہلی بار ملکی حالات پر رو پڑے ، میڈیکل کی پڑھائی شدید مشکل تھی، اور ساتھ یہ سب جھیلنا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ کبھی کبھی خود سے اور کبھی زندگی سے خوف آنے لگتا، دونوں کے گھر کے معاشی حالات بہت اچھے تھے، مگر ہماری ذاتی زندگی ، یعنی کوالٹی آف لائف، بدتر تھی،اور ذمہ دار ملکی حالات تھے، دہشت گردی عروج پر تھی، ہر گلی میں بم پھٹتے تھے اور سوائے آنسوﺅں کے کچھ نہ تھا۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں سوشل میڈیا کا آغاز ہوا تھا۔ اس لیے ابھی خبر کو پھر ہم تک پہنچنے کے لیے نیوز چینلز کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ سخت محنت کی، بہت برا وقت ساتھ دیکھا ڈاکٹر بن گئے۔ سوچا تھا کہ اب حالات بہتر ہوں گے، اپنے نہ سہی ملک کے ہی سہی۔ اس وقت عمران خان صاحب کی سیاست نے نوجوانوں کی رگوں میں تازہ تازہ انقلاب کی روح پھونکنا شروع کی تھی، بالکل ویسے جیسے کوئی نیا فلمی ہیرو نوجوان لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بنتا ہے ،ہم بھی عمران کے نظریے کے پیچھے پاگل ہونے لگے تھے۔ ویسے بھی لمبے آمریت کے دور کے بعد، جمہوریت میں وہی چہرے،زرداری صاحب کا صدر بن جانا اور ملکی ترقی کا گراف مسلسل پستی کی جانب جاتے رہنا کہاں برداشت ہوتا تھا۔ 2013ءمیں جب عمران خان الیکشن کی مہم کے دوران کنٹینر سے گرے تو دوسری بار میں اور فہد پھر سڑک کنارے ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اکٹھے روئے، اور ہم پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے لیے اور متحرک ہوگئے،اسی دور میں گونج کا کالم ہماری قوم کا مہاتیر بھی اخبارات کی زینت بنا۔ 2013 ءکے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ناکامی اور نواز شریف صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد، کنٹینر دھرنے، مینار پاکستان جلسے اور ہر جگہ عمران خان صاحب کی کہی ایک ایک بات دل میں تیر ہوئی اور یوں یہ جوان لڑکی کے ہیرو والی محبت ،عشق میں بدل گئی۔ ڈاکٹرز کے ساتھ آئے دن ہونے والی زیادتیاں عروج پر تھیں، چند سینئرز ڈاکٹرز کے رویے بھی حیران کن طور پر مایوس کن تھے اور پوری زندگی کی محنت بس آگ ہوتی نظر آتی تھی۔ ایف ایس سی میں فجر سے جو جاگ جاگ کر پڑھنے اور ہر وقت محنت کرنے کی روایت بنی تھی وہ آج بھی برقرار تھی، مگر میں ذاتی طورپر صحت کے نظام سے سخت نالاں تھا۔ کوئی جاب سکیورٹی نہیں تھی، آئے دن کوئی ایم این اے،ایم پی اے ہسپتال آتا کسی ڈاکٹر کو مار پیٹ کر کے چلا جاتا ، ینگ ڈاکٹرز سڑکوں پر باہر نکلتے ، آﺅٹ بند ہوتے اور عوام اور میڈیا ڈاکٹروں پر برس پڑتا۔ کوئی ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم کو باقی ڈاکٹروں سے الگ کرکے ان کو سیاسی ٹولہ کہہ دیتا، کوئی ان کو جنونی ، قصائی ،قاتل کہہ دیتا۔ ایک اگر بات نہ ہوتی تو کبھی آبادی کے بے جا بڑھنے کی نہ ہوتی، ایک اگر بات نہ ہوتی تو نئے ہسپتال بننے کی نہ ہوتی ، صحت کے نظام کو بیوروکریسی سے آزاد کرکے خود مختار کرنے کی نہ ہوتی۔ یہ حال پورے پاکستان کا تھا۔ خیبر پختونخوا میں خان صاحب کی حکومت تھی، وہاں صحت کی اصلاحات لائی جارہی تھیں اور یہ انتہائی خوش آئند عمل تھا۔ ہمیں اور چاہیے کیا تھا؟ نظام بدل رہا تھا۔ وہی نظام جس کے لیے کئی راتیں جاگ کر فکر میں گزاری تھیں۔ ایک نئی صبح کا انتظار تھا، حکومت خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی کارکردگی کو صفر قرار دیتی رہی، مگر یہ سب سیاسی بیانات تھے، اور کچھ نہیں تھا،اس لیے ان باتوں پر کبھی دھیان دیا ہی نہیں تھے۔ عشق میں دیوانی دوشیزہ محبوب کی برائی کہاں سنتی ہے، ہم بھی بس ایسے ہی ملنگ تھے۔ اس قوم کے مہاتیر کی سرکار بالآخر آگئی، بڑے بڑے برج الٹ گئے، ناممکن، ممکن ہوگیا اور اب وہ وقت تھا کہ قوم یقینا نئے پاکستان کی منتظر تھی۔ سرکار کو سال مکمل ہونے کو ہے اور قوم آج بھی منتظر ہے۔ معیشیت ، سٹاک ایکسچینج، روپے کی قدر، صحت، تعلیم،روزگار، دہشت گردی میں کمی، سب کی منتظر ہے۔ پنجاب میں خیبر پختونخوا طرز کی اصلاحات صحت میں لائی جانے لگیں تو اس میں بہت سی چیزوں پر ینگ ڈاکٹرز کو اختلاف ہوگیا۔ ان اصلاحات پر راقم القلم کی اپنی رائے محفوظ ہے۔ خیبر پختونخوا میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ایک واقعہ ہوا ، نئی ریفارمز کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر نوشیروان برکی سے وہاں سرجری کے نوجوان اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کی پروموشن کو لے کر رنجش ہوئی، اسی رنجش میں وزیر صحت خیبر پختونخوا ڈاکٹر ہشام ہسپتال آئے، ڈاکٹر ضیاالدین نے ان پر احتجاج میں انڈے پھینکے اور یوں ڈاکٹرز ضیا الدین کو وزیر کے مسلح گارڈز نے مارنا شروع کردیا،ان کا سرپھاڑ دیا گیا اور پورے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز ہڑتال پر چلے گئے۔ یہ سب وہ تھا جو سی سی ٹی وی کیمروں نے دکھایا، جو ابتدائی انکوائری رپورٹ میں درج تھا اور جو پوری دنیا نے دیکھا۔ یقینا پھر آوٹ ڈور بند ہوگئے اور گالیاں ڈاکٹروں کو پڑنے لگیں۔ صحت میں لائے گئے نئے ریفارمز میں ڈاکٹروں کو مستقل نوکری، بے جا تبادلوں، سرکاری نوکر کا درجہ نہ دینے،پروموشن کے انفرا سٹرکچر ، مریضوں سے زائد فیسوں ، پرائیوٹ ہسپتالوں کے طرز کا بورڈ آف گورنرز بننے، سیاسی مداخلت اور ڈاکٹروں کی میڈیکل ایجوکیشن تباہ ہونے جیسے خدشات لاحق ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سرکار ان ریفارمز میں ہسپتالوں کو خود مختار کرنے، ہسپتالوں میں جزا سزا کا عمل لانے ، مریضوں کو پیسوں سے ہی سہی ،مگر بہتر علاج ملنے اور انفر سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مشن لیے ہے۔ اس ضمن میں اگر حکومتی موقف دیکھا جائے تو وہ اس قدر تو درست ہے کہ کچھ ہورہا ہے اور صحت کے نظام کو ریفارمز کی اشد ضرورت ہے۔ مگر یہاں دونوں طرف جس بات کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے وہ نئے ہسپتالوں کا قیام، بنیادی صحت کے نظام کو ٹھیک کرنا ، جہالت اور آبادی کا جن قابو میں لانا ہے۔ راقم القلم کا موقف آج بھی تبدیلی کو سپورٹ کرتا ہے، مگر صحت کے نظام میں کسی قسم کا تجربہ بغیر مکمل طور پر تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر لائے کرنا شاید نقصان دہ ہوگا اور اس کا تخمینہ شاید پشاور میٹرو سے کہیں زیادہ ہوگا۔ ڈاکٹر ضیا الدین والے واقعے سے صحت میں تبدیلی کو اس لیے منفی رنگ ملا ہے کیونکہ اس سے ہسپتالوں میں اسی لڑائی ،فساد کلچر، سیاسی مداخلت اور ہڑتال کلچر کو فروغ ملا ہے،جس کو روکنے کے لیے اصلاحات لائی گئی تھیں اور اگر حالات آج بھی تبدیل نہیں ہوئے تو سوال اٹھیں گے، حالات خراب ہوں گے اور وزارتوں کی تبدیلی اور بگڑتی معیشیت، آئی ایم ایف قرضے کے بعد ہیلتھ کے نظام کا نہ بدلنا یقینا تبدیلی کے نعرے میں ایک ہیرو کا عشق ،جوان دلوں میں اسی طرح کم کردے گا،جیسے ایک نئے ہیرو کی اوپر نیچے فلاپ فلمیں ، لڑکیوں کو ہیرو بدلنے پر مجبورکردیتی ہیں۔ کئی سالوں کی خزاں کے بعد آنے والی بہار کو خزاں کا موسم آنے سے پہلے درختوں کی سوکھی شاخوں پر ہرے پتے اب اگانے ہوں گے۔ طویل خزاں کے موسم میں جن پیڑوں کے پتے گر جاتے ہیں،ان کو ایسی انقلابی بہار کا انتظار ہوتاہے جو ان کو پھر سے زندہ کردے اور اگر یہ بہار آنے سے پہلے ہی خزاں کے طویل سلسلے پھر چل نکلیں تو اب کی بار درختوں کی ٹہنیاں گرنے لگتی ہیں، اب کی بار باغبان بھی حوصلہ ہار دیتا ہے، پرندے پھولوں کے انتظار میں صیاد کی راہ تکنے لگتے ہیں۔ فہد ملتان ہے، ڈالر 150 روپے کا ہوا تو مجھے فہد کا فون آیا، وہ گھر کے باہر سڑک پر فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا، مجھے کہنے لگا،تو گھر سے باہر آکر بات کر، مجھے فٹ پاتھ پر بٹھا کر کہنے لگا، یاد ہے 2010ءمیں جب سیلاب آیا تھا، شدید لوڈ شیڈنگ تھی، پیٹرول نہیں مل رہا تھا، ہر طرف بم پھٹ رہے تھے، اور تو میں ایسے ہی ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ کر روئے تھے؟ یاد ہے جب خان کنٹینر سے گرا تھا ؟ تب بھی ہم اکٹھے روئے تھے۔ آج کئی سال بیت گئے، مگر مجھے سب یاد تھا۔ کہنے لگا ، یار مہنگائی بہت ہوگئی ہے، خرچے پورے نہیں ہورہے، آئی ایم ایف کی شرطوں پر اور مہنگائی آئے گی، آگے نوکریوں کی بھی کچھ سمجھ نہیں آرہی ہونے کیا جارہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے کہ تو میں اور یہ فٹ پاتھ کامن ہیں ، باقی صرف مسائل نے روپ بدلا ہے،مایوسی آج بھی ویسی ہے، ڈیپریشن آج بھی عروج پر ہے ،آنسو آج بھی ویسے ہیں۔یہ کہہ کر وہ رونے لگا۔ یہ تیسری بار تھا جب ہم مل کر پھر روئے تھے۔ شایدعشق کی انتہا میں صنف نازک دل نے آج پھر اپنا ہیرو کھویا تھا۔ آخر میں میرے دوست شیرا ز علی کی مشہور نظم ،
سوال ہوگا، یقین مانو سوال ہوگا
اگر تمہاری حکومتوں میں وہی ہوا جو ہوا تھا پہلے
تو جان لو تم، سوال ہوگا
اگر تمھارے بھی ممبران اسمبلی نے وہ پرتشدد روایتوں کا نہ طرز بدلا، سوال ہوگا
اگر تمھارے یہ پانچ سالوں میں نظریے نے شکست کھائی
کوئی روایت بدل نہ پائی ، تو جان لو تم،سوال ہوگا
یہ قوم مدت سے نا امیدی کے اک بھنور میں پھنسی ہوئی ہے
سبھی کی نظریں تمھاری جانب ہیں،سب امیدیں لگی ہیں تم سے۔
یقین مانو یہ قوم تم کو دعائیں دے گی۔
وگرنہ جانو کہ ہر عمل پریہ پانچ سوالوں میں ہر قدم پر،سوال ہوگا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker