ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

لاک ڈاؤن، ڈپریشن اور ہم۔۔ڈاکٹراختر شمار

ہمیں چھٹیاں بڑی اچھی لگتی ہیں۔ لکھنے پڑھنے والے چھٹیوں میں اپنا ادھورا کام مکمل کرنے کی آرزوکیا کرتے ہیں۔ ہم نے تو تدریسی شعبہ اسی لیے پسند کیا کہ اس میں چھٹیاں بہت ہوتی ہیں اور گرمیوں کی تعطیلات تو کسی اور محکمے میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ڈھنگ کا کوئی کام نہیں ہوسکتا کہ ہمارے ہاں بے تحاشا گرمی پڑتی ہے۔ خیر بات یہ ہورہی تھی کہ ہمیں چھٹیاں بڑی اچھی لگتی ہیں کہ اپنے ادھورے مسودات (کتابیں) مضامین وغیرہ مکمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
لیکن یہ لاک ڈاؤن والی فراغت، چند روز تو بہت بھلی لگی لیکن اب جوں جوں وقت آگے گزرتا جاتا ہے ہم یکسانیت سے اکتانے لگے ہیں، لکھنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ یہ بات نہیں کہ ہم لکھنا نہیں چاہتے یا ادھورے مسودات پایہ تکمیل تک نہیں پہنچانا چاہتے۔ اصل بات یہ ہے کہ بندہ گھر سے نکل نہ سکے۔ کہیں آجا نہ سکے کسی دوست کے ہاں کسی دوسرے شہر، تفریحات سے لطف اندوز نہ ہوسکے، ایسی فراغت ، ایسی چھٹیاں واقعتاً چھٹیاں نہیں ”نظر بندی“ کا سا معاملہ ہے۔ اپنی مرضی سے، عام دنوں میں ہم گھر میں چاہے جتنے دن پڑے رہیں، کوئی ڈپریشن نہیں ہوتا مگر یہ کہ ہم پر پابندی ہو اور باہر بھی سب کو بند تو ایک ہی ما حول میں کوئی کب تک خوش رہ سکتا ہے؟ بیس روز سے اوپر ہونے کو ہیں ہم ادھورے سے ”کرفیو نما“ حالات کے سبب گھروں میں قید ہیں۔ لاک ڈاؤن سے قبل حفظِ ماتقدم کے طورپر جو گروسری آٹادالیں چینی گھی اور سبزیاں جمع کررکھی تھیں کہ لاک ڈاؤن میں ان اشیاءکے لیے باہر نکلنا یا ان اشیاءکا دستیاب ہونا مسئلہ ہوگا، اب وہ جمع شدہ گروسری بھی ختم ہو گئی ہے مگر لاک ڈاؤن جوں کا توں ہے۔ کہنے کو دفعہ 144بھی لگی ہوئی ہے مگر آپ شہر میں گھوم پھر سکتے ہیں۔ بڑے بڑے سٹوروں پر رش دیدنی ہے۔ لمبی لمبی قطاروں میں سودا سلف سے بھری ٹرالیاں ہاتھ میں رکھے لوگ دھڑا دھڑاشیائے خورونوش جمع کررہے ہیں کہ آگے سے رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ شہر میں خیرات اور زکوٰة یا امداد کے بہانے امداد لینے والوں کے جتھے زبردستی چھینا جھپٹی پر بھی اتر آتے ہیں، بعض علاقوں سے زبردستی لوٹ کھسوٹ کے واقعات بھی سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اگر آغاز ہی میں سخت لاک ڈاؤن اور باقاعدہ کرفیو لگاکر لوگوں کو گھروں میں بند کیا جاتا تو اب تک وائرس پھیلنے کے خطرات کم ہوچکے ہوتے ؟۔نہ صرف ٹرینیں، بسیں، یا دیگر ٹرانسپورٹ بند کرنے اور کھانے پینے کی اشیاءکی دکانوں کے علاوہ کاروبار بند ہے۔ لوگ گھروں میں تنگ پڑ گئے ہیں حتیٰ کہ مساجد بھی کسی حدتک بند ہیں۔ حکومت چاہتی ہے لوگ ایک جگہ زیادہ اکٹھے نہ ہوں۔ تو عرض یہ ہے کہ گروسری کے بڑے سٹوروں اور سبزی منڈیوں، اور دیگر خوردنی اشیاءکی منڈیوں پر رش حکومت کو دکھائی نہیں دیتا۔ ؟؟ کیا جہاں سرکاری امداد تقسیم ہورہی ہے، اور خواتین کی طویل قطاروں سے کرونا وائرس نہیں پھیل سکتا ؟؟ بعض علاقوں میں سینکڑوں مردوخواتین ایک دوسرے سے کاندھے سے کاندھا ملائے امداد وصول کررہے ہیں اگر اس قسم کے اکٹھ اور ” گیررنگ“ کی اجازت ہے تو پھر مساجد میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ لوگوں کو عبادات کرنے دی جائیں اگلے ہفتے رمضان المبارک کا آغاز ہورہا ہے لوگوں کا مساجد میں رش زیادہ ہوتا ہے ایسی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کرکے لوگوں کو عبادات کرنے دیں۔ اب ضلع اور صوبے کی سطح پر لوگوں کو آنے جانے کی پابندی لگائی جارہی ہے۔ جو جانا چاہے اسے ڈی سی آفس سے فارم اے اور بی پُر کرکے کرونا ٹیسٹ کلیئر کرانے کی ہدایات دی جارہی ہیں جبکہ کرونا ٹیسٹ کی فیس بھی بہت زیادہ ہے۔ عام لیبارٹریوں پر اعتبار ختم ہورہا ہے۔ ہر قسم کے بخار، نزلہ زکام کو کرونا سے جوڑنا بھی مناسب نہیں۔ عام دنوں میں بھی ہرہسپتال میں لوگ مرتے ہیں اب ہرموت کو کورونا سے منسلک کرکے اعدادوشمارکااضافہ دکھا کر خوف وہراس پیدا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ؟؟ ایسی بھی خبریں ملتی ہیں کہ صرف شبے کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھا کر کسی کمرے میں بے یارومددگار پھینک دیا جاتا ہے۔ گجرات میں ایسا ہوا تو قرنطینہ سے لوگ اپنے مشتبہ افراد کو مبینہ طورپر رشوت دے کر گھر لائے ہیں لوگوں کو ڈرایانہ جاتا تو شاید ہرکوئی خوشی سے اس علاج کے لیے خود چل کر جاتا مگر اس مرض کو تو کینسر سے زیادہ خطرناک بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ زبردستی اٹھا کر لوگوں کو لے جاتے ہوئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ واپسی نصیب کی بات ہے۔ اب تو کرونا مریضوں سے نرسیں بھی خوفزدہ ہوچکی ہیں۔ کئی مریض پانی مانگتے اور تڑپتے مرجاتے ہیں انہیں کوئی مناسب توجہ نہیں ملتی واللہ اعلم بالصواب۔ بعض اطراف سے سوشل میڈیا پر اس وائرس کو عالمی سازش قرار دیا جارہا ہے بہت سے ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی دیکھنے کو مل رہی ہے مگر ہم ابھی تک سختی کی باتیں کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے درست کہا ہے کہ غیرمنتخب شدہ افراد مشیر اور معاون کی صورت میں ایک فوج ظفر موج کی طرح حکومت ساتھ لیے پھرتی ہے۔ کسی بھی محکمے کا کوئی منتخب وزیر نمایاں نہیں ہے سب مشیروں سے کام چلایا جارہا ہے۔ تبھی ایسا کام اور کارکردگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ لنگڑے لُولے مشیران اور معاونین کون لوگ ہیں؟ ان کی کوالیفکیشن کیا ہے ؟۔ اس سے بہتر ہے کہ یہاں صدارتی نظام لاکر صدر اپنی مرضی کی مختلف شعبوں کی ایکسپرٹ ٹیم سے کام چلائیں؟؟۔
بات چھٹیوں سے شروع ہوئی ہم توان چھٹیوں سے تنگ آگئے ہیں کہ زندگی حرکت کا نام ہے ۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker