ڈاکٹر اختر شمارسرائیکی وسیبکالملکھاری

ملتان کے ادبی حلقوں کی پہچان۔۔اقبال ارشد کی رحلت : واللہ اعلم / ڈاکٹر اختر شمار

ملتا ن کے ادبی حلقوں کی پہچان اقبال ارشد چل بسے۔چند روز قبل رضی نے فیس بک پر ان کی جو تصویر لگائی اسے دیکھ کر ایک شاک سا لگا۔ہمارے شاعروں کے ہیرو اقبال راشد کی کیا حالت ہو گئی ہے۔رضی الدین رضی ا ور شاکر حسین شاکر نے بڑی دردمندی سے ان کی یادوں کو شیئر کیا ہے۔آج جب شوذب کاظمی کے میسج سے پتہ چلا کہ اب وہ (اقبال بھائی )ہم میں نہیں رہے تو دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔کیسے کیسے لوگ جو محفلوں کی جان ہوتے تھے ،یہاں سے چلے گئے ہیں۔موت برحق ہے ۔آخر کو ایک روز سب نے جانا ہی ہے۔ مگرفنکار ،تخلیق کار جسمانی طور پر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں مگر ان کا فن ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔


ہم نے شاعری کا آغاز کیا تو اس وقت ملتان کی ادبی جوڑی حسین سحر اور اقبال ا رشد کا زمانہ تھا اورہر محفل میں وہ نمایاں نظر آتے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ”دبستان ملتان“ اپنے عروج پر تھا ۔شہر میں کئی مقامات پر ادبی محافل منعقد ہوا کرتی تھیں۔چوک نواں شہر کا بابا ہوٹل ملتان کا ٹی ہاﺅس ہو ا کرتا تھا۔یہاں کی اہم ترین ادبی شخصیت جناب حیدر گردیزی تھے جو ایک زود گو شاعر کے طور پر بھی اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔وہ یہاں شام کا بیشتر حصہ گزارتے ۔دیگر باقاعدہ آنے والوں میں ارشد ملتانی،انور جٹ،اصغر علی شاہ،اقبال ارشد، ممتاز اطہر ،سلمان غنی،جاوید بھٹی اور کئی دیگر احباب شامل تھے۔یہاں اقبال راشد کے ساتھ ہمیشہ نوجوانوں کی ایک ٹولی ہوا کرتی تھی یہ لوگ بابا ہوٹل حاضری لگواتے ،کبھی اس کے ساتھ آئس کریم والے ہوٹل پر جا بیٹھتے ،کبھی اقبال ارشد اپنے ان نوجوان دوستوں کے ساتھ کرکٹ گراﺅنڈ میں جا بیٹھتے۔کسی روز اچانک ریلوے اسٹیشن کا رخ کر لیا جاتا۔اقبال ارشدان دنوں سمیجہ آباد میں جبکہ طفیل ابن گل اور میں حسن آباد میں رہائش پذیر تھے ۔ چوک قذافی پہنچ کروہ اپنے گھر کی راہ لیتے اور ہم حسن آباد کا رخ کر لیتے ۔اقبال ارشدکے ارد گرد جن نوجوانوں کا جمگھٹا سا رہتا تھا ان میں ہمارے علاوہ اطہر ناسک،رضی الدین رضی،عدیل سید،شاکر حسین شاکر ،خالد اقبال،سلیم ناز شامل تھے ۔مختلف مشاعروں اور ادبی تقریبات میں ہم اکھٹے ہی جایا کرتے تھے۔اس محفل میں سب سے زیادہ گفتگو خود اقبال ارشد کیا کرتے تھے ۔وہ پیدل چلتے ہوئے بھی اپنی بات جاری رکھتے ۔بات کرتے کرتے اچانک وہ کسی کا بھی ہاتھ پکڑ لیتے اور کھڑے ہوجاتے۔باقی سب لوگ بھی کھڑے ہوجاتے ۔اب وہ اپنے ہاتھوں سے لہک لہک کر ایک بار پھر اپنی بات واضح کرتے اور آخر میں بلند قہقہہ لگاتے اور تیزی سے آگے کو چل پڑتے۔نواں شہر سے چوک گھنٹہ گھر تک اطہر ناسک ،رضی اور کچھ باقی لوگ الگ ہوجاتے ۔ہم تین چار دولت گیٹ تک ساتھ آتے۔کئی بار سائیکل ہاتھ میں لے کر بھی ان کے ساتھ ساتھ چلنا پڑا۔ان کی محفل میں ہمیشہ شاعر ی ،مصرعہ سازی مشاعروں کے واقعات کا تذکرہ ہوتا۔کبھی کبھی عدیل سید نفسیات اور فلسفے کی بات کہہ کر چپ ہو جاتا اور پھر اقبال ارشد بے تکان بولتے چلے جاتے۔مجھے یا د ہے ناسٹیلجیا پر انہوں نے ایک گھنٹہ بات کی تھی۔میں واپڈا میں ان کے دفتر میں بھی اکثر چلا جایا کرتا تھا۔وہ اپنا کام کرتے اور مجھے کچھ مصرعوں پر شعر کہنے پر لگا دیتے۔بعض اوقات ڈاک میں آئی ہوئی وہ شاعری بھی دیکھنا پڑتی جو مختلف شہروں سے برائے اصلاح ان کے پاس آتی تھی۔بابا ہوٹل کے علاوہ اردو اکیڈمی گلگشت کے ہفتہ وار اجلاسوں میں بھی شرکت کی جاتی۔یہاں عرش صدیقی، اے بی اشرف، ڈاکٹر انوار ،ڈاکٹر امین ،رﺅف شیخ ا،ابن حنیف ، نجیب جمال ،فیاض تحسین انور جمال ، صلاح الدین حیدر اور کئی دیگر اہم اہل قلم ان اجلاسوں میں باقاعدہ آیا کرتے تھے۔مجھے اپنے ادبی کالم کے لیے ہر دھڑے میں جانا پڑتا تھا ۔وہ دن بھی عجیب تھے نا ہمیں اپنے کیرئیر کی فکر تھی نہ مستقبل کا ہوش،بس شاعری کاجنون سر پر سوار تھا۔ہر مشاعرے ہر ادبی تقریب میں پہنچ جاتے۔چھاﺅنی میں حزیں صدیقی کی بیٹھک بھی بڑی مشہور تھی جہاں قرب جوار کے شعراء دکھائی دیتے ۔اسلم یوسفی، ایازصدیقی،انور مقصود زاہدی،ہلال جعفری سے لے کر شوذب کاظمی،نسیم شاہد ،اظہر علی،رفعت عباس ،فہیم اصغرمحسن گردیزی تک سبھی یہاں اکثر پائے جاتے۔عاصی کرنالی ،ممتاز العیشی،امید ملتانی کے اپنے اپنے حلقے تھے۔نیشنل سینٹر میں اعزاز احمد آذر کی تقریبات بھی ادبی ماحول کو گرمائے ہوئے تھیں۔ان ساری محفلوں میں سے ایک ایسا شخص بھی تھا جو نوجوانوں اور نئے لکھنے والوں کے لیے شجر سایہ دار کی طرح تھا اور اس کا نام اقبال ارشد ہے۔مشاعرے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اقبال ارشد کو داد نہ ملی ہو۔ان دنوں ان کے یہ دو تین شعر ہر مشاعرے میں فرمائش کر کے سنے جاتے
۔

میں نے تو ہلکی سی دستک سے پکارا تھا اسے
شہر سارا نیند سے بیدار کیسے ہو گیا
تو اسے اپنی تمناﺅں کا مرکز نہ بنا
چاند ہر جائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے
اک لمحے کو رکا تھا سر ِبازار حیات
آگئے لوگ مرے قدکے برابر کتنے
میں نیند کے بارے میں ابھی سوچ رہا تھا
چپکے سے مجھے اس نے کہا جاگتے رہنا
اقبال ارشد کی ہم رہی میں ہم نے چناب اکیڈمی قائم کی ۔اس کے تحت پہلا ہا ئیکو کا مشاعرہ کرایا گیا۔کچھ عرصہ ہم چوک قذافی میں بھی کاروان ادب کی پندرہ روزہ نشست کیا کرتے جہاں اقبال ارشد ہمیشہ موجود رہتے ۔ اقبال بھائی ہم آپ کو تلاش کرتے رہیں گے آپ کی شاعری میں ،آپ کے مصرعوں میں ،آپ کی باتوں میں ،آپ کو بھلا کو ن فرامو ش کر سکتا ہے ۔ناجانے کیسے علی محمد فرشی کی نظم کی چند سطریں سامنے آگئی ہیں اقبال بھائی آپ کی نذر :


میں تمہیں تلاش کرتا ہوں
بادام کے پھولوں کی خوشبو میں
گھنے امرودوں کے سائے میں
جلتے کھیت سے باجرہ چگنے والی چڑیوں
کی دھک دھک کرتی خواہش میں
کھلیان سے آنے والی امیدوں میں
ٹھنڈے چولہے کے قریب
خاموش بیٹھی عورت کی خالی آنکھوں میں
میں تمہیں تلاش کرتا ہوں
جہاں میں نے گھنی برساتوں میں
اپنے شفاف آنسوﺅں کو
گدلے پانیوں میں بہاتے ہوئے
سنہری دھوپ کی دعا مانگی تھی
میں تمہیں تلاش کرتا ہوں
اس ٹیڑھی میڑھی کچی سڑک پر
جہاں ایک لڑکے کے خواب
وقت کی بیل گاڑی کے پہیوں تلے کچلے گئے تھے
ختم شد

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker