ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

نفاذِ اردو میں تاخیر کیوں؟: واللہ اعلم / ڈاکٹر اخترشمار

ہمیں یاد ہے وہ دن بھی جب مختلف ٹی وی چینل پر پنجاب کے ایک سینئر وزیر صاحب کی ” انگریزی “ کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔۔۔ انگریزی پڑھتے ہوئے ان کی زبان ” لڑکھڑا “ رہی تھی ۔۔مگر وہ اس کے باوجود، شرمندگی سے نظریں بچاکر انگریزی سے نبرد آزما رہے۔ میڈیا کو تو ایک بات درکار ہوتی ہے ، بس پھر کیا تھا ہر ٹی وی چینل نے مختلف انداز میں وزیر صاحب کے خوب ” لتّے “ لیے اور بعض نے تو باقاعدہ ساتھ گانے چلا کر ” درگت “ بنائی ۔جس کسی نے بھی وہ منا ظر دیکھے ،بطور پاکستانی اندر ہی اندر وہ ضرور ” شرمایا “ ۔ اس لیے کہ وزیر صاحب کو انگریزی نہیں آتی اور وہ انگریزی بولنے کی کو شش کر رہے تھے۔ حالانکہ کسی کو بھی وہ کام ہر گز نہیں کر نا چاہیے جو اس کے بس سے باہر ہو۔” کیا انگریزی اتنی ہی ناگزیر ہے ؟“ نہیں ہر گز نہیں ۔ انگریزی وہاں ناگزیر ہو سکتی ہے جہاں اردو سمجھنے والے موجود نہ ہوں۔ بلکہ زندہ قوموں کے رہنما تو ایسی جگہوں پر بھی اپنی قومی زبانوں سے کام لیتے ہیں، اس سے ان کے وقار میں اضافہ اور اعتماد میں پختگی نمایاں محسوس ہوتی ہے ۔ مگر ہمارے رہنما عموماً ملک سے باہر نکلتے ہی نہ صرف انگریزی بولنے بلکہ انگریز بننے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ وہ دور بھی ہم نے دیکھا امریکہ کے دورے پر اسی میڈیا نے اپنے وزیر اعظم کی انگریزی کا خوب ” توا“لگایا تھا ۔ ایک وزیر اعظم کی چٹوں پر بھی تنقید کی گئی وہاں بھی مسئلہ انگریزی اور اعتماد کا تھا ۔کیا انگریزی ہمارے آباؤاجداد کی زبان ہے ؟ انگریزی ضرور سیکھنی چاہیے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز حضرات کو تو انگریزی اچھی طرح آنی بھی چاہیے ، مگر اپنی قومی زبان اردو بولنے پر انہیں ” احساس کمتری“ کا شکا ر ہر گز نہیں ہو نا چاہیے ۔ بلکہ بیرون ملک سرکار ی دوروں میں صدر ، وزیر اعظم اور تمام وزراءکو اپنی قومی زبان میں بات کرنے کا پابند ہونا چاہیے ۔ آخر عربی ،جاپانی ، جرمن اور چینی قائدین انگریزی جانتے ہوئے بھی اپنی قومی زبان میں بات کر نا کیوں پسند کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ انہیں اپنے وطن اور قومی زبان پر فخر ہے اور اپنی زبان بولنے پر شرمندگی نہیں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ عرب ممالک اور خاص طور پر مصر میں بھی سرکاری دفاتر میں ہر جگہ عربی رائج ہے ۔ ہر فارم عربی میں دستیاب ہے ہر شخص اپنی زبان میں درخواست لکھ سکتا ہے اور اس پر ہونے والا فیصلہ پڑھ سکتا ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک محدود گروہ، محض اپنی اجارہ داری اور مفادات کے لیے انگریزی کے ذریعے کروڑوں پاکستانیوں پر مسلّط ہے بلکہ ان پر برسوں سے حکمرانی کر رہا ہے۔ اردو کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی گروہ ہے ۔ حالانکہ پاکستان کے آئین کے مطابق (دفعہ۲۵۱ کے تحت)۱۹۸۸ ءتک، حتمی طور پر انگریزی کی جگہ اردو سرکاری زبان کے طور پر نا فذ ہو جانی چاہیے تھی ۔ مگر اس پر سنجیدگی سے توجہ ہی نہیں دی گئی ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب متفقہ آئین (۱۹۷۳ئ) کے تحت ایک فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ ۱۵ سال ( ۱۹۸۸ئ) تک انگریزی کی بجائے دفتری زبان اردو نافذ کر دی جائے گی تو آخر اس میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے ؟ پہلے اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔ اور اب تو بیس بائیس سال اوپر ہو چکے ہیں ۔یہ ساری تاخیر کس کی طرف سے ہوئی ، اس پر ذمہ داروں کی سرزنش ہونی چاہیے ۔ اب تو اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دے رکھا ہے مگر اب بھی ہمارے صدر،وزیر اعظم اپنی اسمبلیوں میں بھی انگریزی بولتے ہیں حالانکہ اسمبلیوں میں تو خاص طور پر قومی زبان اردو بولی جانی چاہیے کیونکہ چاروں صوبوں کی زنجیر صرف اور صرف اردو زبان ہے اور یہی چاروں صوبوں میں رابطے اور وسیلے کا واحد ذریعہ ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بار ہا اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا ” میں آپ کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور کوئی دوسری نہیں ، جو کوئی آپ کو غلط راستے پر ڈالے وہ درحقیقت پاکستان کادشمن ہے “۔
ایسے میں اردو کو دیگر صوبائی زبانوں سے لڑانا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ قومی سطح پر اردو ہی ایسا وسیلہ ہے جسے چاروں صوبوں میں آسانی کے ساتھ بولا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ صوبے اپنی زبانوں کو بھی فروغ دیں لیکن رابطے اور وسیلے کے لیے سرکاری زبان کے طو ر پر اردو کو نافذ کیا جائے ۔اور وفاق کی علامت اردو زبان ہی کو اعلیٰ عدالتوں اور سرکاری دفاتر میں فی الفور نافذکیا جائے ۔ خصوصاً (اعلیٰ سرکاری ملازمتوں) مقابلے کے امتحان بھی اردو میں ہونے چاہئیں تا کہ انگریزی، جو ہماری قومی زبان ہر گز نہیں ، نہ آنے پر کوئی بھی ذہین شخص ان امتحانوں میں ناکام نہ ہو۔ واضح رہے کہ ذہانت کا تعلق زبانوں سے ہر گز نہیں ہوتا۔ایک پنجابی ، سندھی ، پشتو اور بلوچی زبان بولنے والا بھی ذہین انسان ہو سکتا ہے اور دانش ویسے بھی زبان کی محتاج نہیں ہوتی ۔ہم انگریزی کی مخالفت نہیں کر تے ، انگریزی اعلیٰ سائنسی تعلیم کے لیے ضرور پڑھائی جائے مگر اپنے ملک کے تمام دفاتر اور عدالتوں میں اردو نافذ کی جائے تاکہ واقعتا جمہورےت دکھائی دے کہ اردو زبان زیادہ لوگ سمجھ اور بول سکتے ہیں ۔
اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker