ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

فریاد سے مراد بغاوت نہ لیجئے:ڈاکٹراختر شمار

شاعرو، ادیبو، دانشورو، تخلیق کارو، فنکارو سنو! یہ ملک صرف وڈیروں، جاگیرداروں، صنعت کاروں، تاجروں، سیاستدانوں، وزیروں، مشیروں کاہے۔ ہمیشہ یہی لوگ اسمبلیوں میں جاتے ہیں، اور یہ صر ف ا پنے مفادات کے قوانین اور پالیساں بناتے ہےں۔ یہاں فقط انہی کی موج لگی ہوئی ہے،اسمبلیوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،کوئی عام شخص،کوئی اہل ِعلم،دانش ور ،ادیب کابینہ کا حصہ نہیں بن سکا۔وطن عزیزمیں کہیں بھی فلاح کی بات ہو تو یہاں بھی اپنی اپنی پارٹی کے قریبی افراد ،اپنے عزیزو اقارب ہی کو نوازا جاتا ہے۔فلاحی سکیمیں،بے نظیر انکم سپورٹ،ہیلتھ کارڈ ،پنجاب رائیٹرفنڈہو یاحکومتی وظائف یہ امداد بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ بغیر اثرو رسوخ کے، آپ ان سکیموں سے مستفید نہیں ہو سکتے۔بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ بے سہاروں ،بیواؤں ،غریبوں کے مسائل کی شنوائی ہو۔۔پچھلے دنوں ایک شاعرہ کے حالات کے حوالے سے ہم نے کالم بھی لکھا،متعلقہ اداروں میں درخواست بھی دی ،اکادمی ادبیات پاکستان ، سابق نگران وزیر اعلیٰ سے لے کر گورنر اور متعلقہ وزارت تک بھی آواز پہنچانے کی کوشش کی مگر صرف ایک ادارے سے ” جواب “ آیا۔ اکادمی ادبیات کے کارپردازوں نے کہا: ” ہم صرف اس شاعر ادیب کو امداد مہیا کرتے ہیں جس کی کوئی کتاب چھپی ہوئی ہو یعنی صاحبِ کتاب ہی امداد کا مستحق ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔
اللہ کے بندو! جس کے گھر میں چولھا نہ جلتا ہو،جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں اسکی کتاب کیسے شائع ہو سکتی ہے۔ایسے بے تکے اور من پسند رولز بنانے والوں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہےے۔ایسے رولز کی پامالی تو یوں ہورہی ہے کہ اگر کسی کے پاس پیسہ ہے تو وہ دوسروں سے کتاب لکھوا کر شائع کر لیتا ہے اور یوں وہ رائٹر فنڈ سے امداد کے علاوہ اکادمی ادبیات سے وظیفہ کے لیے بھی اپلائی کرلیتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے سب کچھ مل بھی جاتا ہے۔ اس طرح کئی دو نمبر اہل قلم کے وظائف بھی لگے ہوئے ہیں۔اس کے برعکس مضافات میں رہنے والے اہل قلم ،جو عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتے اور اپنے حالات کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاتے اگر کسی طرح وہ کوئی درخواست بھیج بھی دیں تو انکی کوئی شنوائی نہیں ہوتی، نہ ہی انکی کوئی سنتا ہے۔ہم نے نگران وزیرا علیٰ پروفیسر حسن عسکری کو مخاطب کر کے کالم لکھاتھا کہ پروفیسر وزیراعلیٰ عارضی طور پر اس نشست پر آکر کم از کم اس طرح کے امدادی کاموں کے لیے کچھ تو کرے گا،لیکن کسی نے کوئی کان نہ دھرا۔البتہ اکادمی نے ہماری درخواست پر یہ ضرور کورا جواب دیا کہ رولز میں ایسی کوئی شق نہیں کہ کسی شاعر ادیب کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے کوئی امداد کی جائے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اہل قلم کانفرنس کے موقع پر کروڑوں کا فنڈ دیا۔عرفان صدیقی نے کہا یہ ادیبوں ،شاعروں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گا۔وہ فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟کن کو امداد دی جارہی ہے؟ کچھ علم نہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں صرف انہی لوگوں کو نوازا جاتا رہا جن کی رسائی عرفان صدیقی تک تھی ۔مضافات میں زندگی بسر کرنے والے کئی اہل قلم نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ایک شاعر نے تواپنی ساری عمر شاعری پر صرف کی،اسکی رہائش کے لےے اپنا مکان تک نہیں تھا۔اسکی وفات کے بعد اسکی بیوہ بھی عالم بیماری میں رخصت ہو گئی،پیچھے اس کی ایک بیوہ بیٹی رہ گئی اب اسکے مکان کا کرایہ کون ادا کرے؟ایسے نفسا نفسی کے دور میں قریبی رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور جس کا دنیا میں کوئی نہ ہو وہ بستر پر پڑ جائے تو کیا حال ہو سکتا ہے ۔یہ وہی جان سکتا ہے جو اِن حالات سے گزرا ہو۔کیا حکومت ایسے افراد کے لئے کچھ کرتی ہے ۔ ؟؟ اس فلاحی مملکت پاکستان میں ایسے لوگ کہاں جائیں؟مدینہ کی ریاست میں بھوکے کتے کا بھی حساب دینا پڑتا ہے ۔
لیکن افسوس یہ ہے وطن عزیز میں شعر و ادب تخلیق کرنے والوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ادیب شاعر تو مر بھی جائے تو اخبار میں ایک کالم خبر بھی نہیں چھپتی ۔کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کوئی ادیب شاعر تخلیق کار ،ایڑیاں رگڑ تے اس جہانِ فانی سے گزر گیا ہے۔البتہ کوئی خاتون اول ،کسی سیاستدان ،یا اثر و رسوخ رکھنے والے کا کوئی عزیز مر جائے تو میڈیا کئی کئی دن اس پر پروگرام کرتا رہتا ہے۔جبکہ ایسا کسی بڑے شاعر ادیب کی موت پر تو کبھی نہیں ہوتابلکہ میڈیا تو پیسے والوں کو منہ لگاتا ہے۔کبیر والہ میں پاکستان ٹائمز (مرحوم ) جیسے بڑے انگریزی اخبار کے ایک نمائندے قیس سلیمی ہوا کرتے تھے ، گذشتہ روزان کی بیگم نے فون پر بتایا کہ قیس سلیمی کے عزیز دوست اور آپ اہل ِادب کے مشہور شاعر بید ل حیدری کی بیوہ بیٹی ،والدہ کی وفات کے بعد بالکل بے یارو مددگار رہ گئی ہے۔وہ کسی پرائیویٹ سکول میں معمولی سی دکان چلا کر گزارا کرتی تھی۔اپنے اکلوتے بیٹے کو تعلیم دلوانا چاہتی ہے مگر پچھلے کئی روز سے وہ خود چارپائی پر پڑی ہوئی ہے اوپر سے مالک مکان کرایہ مانگتاہے۔ایسے میں کوئی شخص جو روز کی کمائی پر گھر کا چولہا چلاتا ہو وہ چارپائی کا ہو کر رہ جائے تو اسکے گھر تاریکی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔اب وہ اتنے بڑے شاعر کی بیٹی کس دروازے پر دستک دے ؟اگر قیس سلیمی زندہ ہوتے تو وہ اپنے دوست کے خاندان کے لیے اپنے اثرو رسوخ سے ضرور کچھ کرتے مگر اب بتائیں وہ لوگ کہاں جائیں؟؟بھیک مانگنے سے تو وہ رہے؟
اس ملک میں جہاں حکومتی نمائندوں پر کروڑوں خرچ کیے جاتے ہیں وہاں ایسی غریب مائیں اپنے بچوں کے ساتھ خود کشی کر لیتی ہیں مگر کوئی ادارہ آگے نہیں آتا ،ادیبوں ،شاعروں کے نام پر فنڈز کھانے والوں کو نجانے یہ لوگ کیوں نظر نہیں آتے۔ کیا اس طرح کے غریب اور بے بس لوگوں کے لئے بھی وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ،یا کسی صاحب ِ ثروت کی توجہ ہو سکتی ہے ؟ میں رابطہ نمبر یا ایڈریس دانستہ نہیں لکھ رہا۔لیکن بوقت ضرورت دیا جا سکتاہے۔ ابھی پچھلے کالم میں اس عظیم شاعر کی شاعری پر لکھ چکا ہوں جس کی بیٹی آج ریاستِ مدینہ بنانے والے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس شاعر ( بیدل حیدری )کے کئی اشعار پچھلے کالم میں درج کر چکا ہوں صرف ایک مختصر نظم نذر قارئین :
آج کے اِس سماج میں بیدل
یعنی ظلمت کے راج میں بیدل
میرے جیسے غریب شخص کئی
اور ان میں ادیب شخص کئی
چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے
کبھی کاغذ کبھی خطوں کے لئے
کبھی مہمان دوستوں کے لئے
اور کسی وقت سگرٹوں کے لئے
کبھی بس کے کرائے کی خاطر
کبھی دو گھونٹ چائے کی خاطر
خون میں انگلیاں ڈبوتے ہیں
روز قسطوں میں قتل ہوتے ہیں
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker