ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

مشاعرے اور موجودہ ادبی صورتحال۔۔ڈاکٹراختر شمار

مشاعرہ ادبی روایت کا حصہ ہے مگر فی زمانہ تفریحات کی چکاچوند میں کتابیں پڑھنے والے بھی نایاب ہوتے جا رہے ہیں تو محض ادب تے خاص طور پر مشاعرے کا ذوق رکھنے والے کہاں سے آئیں گے؟ ایک زمانے میں سکولوں میں بزم ادب کے لئے بھی باقاعدہ پیریڈ رکھا جاتا تھا۔ بیت بازی کے مقابلے ہوتے تھے، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں شاعری کے کلیاتی اور بین الکلیاتی سیشن ہوا کرتے تھے اس سے نئی نسل میں شعر و ا دب کا ذوق پروان چڑھتا اور یہی نہیں ادبی رسائل جرائم کے ذریعے بھی قارئین کا ذوق ادب نکھرتا تھا۔ مگر ظاہر ہے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں تو رونما ہوتی ہیں آج سوشل میڈیا کا دور ہے بدقسمتی سے ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی شعر و ادب کو زیادہ پروموٹ نہیں کیا۔ سو آج او پہلی سی ادبی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتیں، اب تو شعر انے خود ہی اپنی اپنی ”ٹکڑیاں“ سی قائم کر رکھی ہیں، قدرے خوشحال ذوق شعر رکھنے والے ہوٹلوں میں ادبی نشستیں منعقد کرتے ہیں باقی لوگ پاک ٹی ہاﺅس، ادبی بیبٹھک، پلاک، لارنس گارڈن یا کسی سکول کالج میں چھوٹی چھوٹی نشستیں منعقد کر لیتے ہیں گویا مشاعروں میں سامعین جیسی مخلوق کسی حد تک نایاب ہو گئی ہے شعرائ حضرات خود ہی ایک دوسرے کو شعر سنا کر خوش ہو لیتے ہیں۔ اپنے اپنے پندرہ بیس افراد پر مشتمل شاعر و متشاعر اکٹھے ہو لئے اور اس نشست کی تصویری جھلکیاں ”فیس بک“ پر لگا دیں، اللہ اللہ خیر سلّا، فیس بک نے تو ادبی رسائل و جرائد کی اہمیت ہی ختم کر دی ہے اب ہر کوئی چاہے وہ خود شعر کہتا ہے یا اپنے کسی استاد نما ”مرشد“ سے سفید کاغذ پر اصلاح لیتا ہے وہ اپنی کچی پکی شاعری مع تصویر سوشل میڈیا کے سپرد کر دیتا ہے، جس پر اسے فوراً ”داد“ کمنٹ کی صورت میں میسر آ جاتی ہے، اس کا نقصان یہ ہوا کہ شاعری کی مشق اور مطالعے کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، طباعتی سہولیات نے بھی ”صاحب کتاب“ ہونا آسان کر دیا ہے، اب تو تیار مسودے بھی تقریب رونمائی کے پیکج کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں، اچھے گاہک تو بیرون ملک مقیم شعری ذوق رکھنے والے ہوا کرتے ہیں، وہ لوگ جو کسی زمانے میں شعر کہنے کا لپکا رکھتے تھے مگر رزق کمانے کے لئے دیارغیر جا بسے، جب درے آسودہ ہوئے تو انہوں نے اپنے ذوق کی آبیاری کے لئے پاک و ہند کی ادبی مارکیٹ سے رجوع کر لیا یوں وہ آناً فاناً مشہور شاعر بن کر ابھرے، ان کی نہایت دیدہ زیب کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں اور وہ پاکستان یا بھارت میں مشاعروں سیمیناروں اور کانفرنسوں میں نمایاں نظر آنے لگے ہیں، ان میں بعض جینوین بھی ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ پیسہ سب کام دکھاتا ہے اگر آپ جینوئن تخلیق کار ہیں اور مالی مشکلات کا شکار ہیں تو وطن عزیز میں آپ کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اب تو شعروادب میں ”پی آر“ کا زمانہ ہے معاشی آسودگی کے ساتھ اگر آپ کو تعلقات عامہ کا فن بھی آتا ہے تو آپ ادب کے سٹارز میں شامل ہو سکتے ہیں اگر آپ بیورو کریسی کے ”کل پرزے“ ہیں تو بھی آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے کہ یہ عہد Give And Take کا ہے۔
بات لاہور کی ادبی نشستوں کی ہو رہی تھی لاہور میں چھوٹے چھوٹے کئی ادبی گروپ ہیں اگر آپ ان مشاعروں یا شعری نشستوں میں چلے جائیں تو چونکہ سننے والے شعرائ ہوتے ہیں جو صرف اپنے گروپ کو داد دیتے ہیں لہٰذا یہاں شعر کا معیار نہیں دیکھا جاتا، دھڑا تے گروپ دیکھا جاتا ہے، خیر یہ تو ہر دور میں ہوتا رہا ہے، اصل میں مشاعرہ تو سامعین کے ساتھ ہوتا ہے شاعر ایک دوسرے کو داد کہاں دیتے ہیں؟ ہر کوئی خود کو اہم اور بڑا شاعر کہہ رہا ہو تو داد بھی مذاق لگتی ہے۔
مشاعروں کا وہ پہلے سا دور نہیں لیکن دوچار ماہ بعد کسی نہ کسی شہر یا تعلیمی ادارے میں کوئی مشاعرہ منعقد ہو ہی جاتا ہے۔ جہاں سامعین بھی ہوتے ہیں، شاعر کا پتہ تو وہیں چلتا ہے، چند روزقبل منہاج یونیورسٹی میں ممتاز شاعرہ نوشی گیلانی کی آمد پر ایک مختصر مگر نہایت کامیاب مشاعرے کا انعقاد عمل میں لایا گیا بات کچھ یوں ہے کہ منہاج یونیورسٹی میں نہایت باذوق اور اپنے شعبے کے سرکردہ آفیسر محترم ڈاکٹر شاہد سرویا پرووائس چانسلر تعینات ہوئے ہیں۔ شاہد سرویا ایچ ای سی پنجاب کے علاوہ آئی ٹی کے شعبوں میں نام کما چکے ہیں۔ جہاں جاتے ہیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ منہاج یونیورسٹی میں آپ کی آمد سے وہاں علمی ادبی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، نوشی گیلانی ہمارے عہد کی مقبول شاعرہ ہیں ان دنوں آسٹریلیا میں مقیم ہیں، ہمارے گرائے دوست اور نامور شاعر سعید خان سے شادی کے بعد نوشی گیلانی بہاولپور سے مستقل آسٹریلیا جابسیں، گزشتہ دنوں وہ کچھ روز کے لئے لاہور تشریف لائیں تے ہنگامی طور پر منہاج یونیورسٹی میں ان کے اعزاز میں شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ صدر شعبہ اردو منہاج یونیورسٹی ڈاکٹر مختار عزمی نے اس نشست کے لئے خصوصی محنت کی، مختار عزمی خود بھی بہت اچھے شاعر ہیں تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی ایک عرصے سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں ان کے دم سے شعبہ اردو میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز میں ادب کا بھی ذوق پروان چڑھ رہا ہے۔ اس نشست کی صدارت ڈاکٹر شاہد سرویا نے کی۔ نوشی گیلانی مہمان تھیں، راقم اور نامور شاعرہ نیلما ناہید درانی کے علاوہ ہر دلعزیز شاعر ڈاکٹر طاہر شہیر نے بھی اپنا اپنا کلام سنایا، ہمارا تو اس یونیورسٹی میں یہ پہلا مشاعرہ تھا طلباءو طالبات کے ذوق سے اندازہ ہوا کہ یہاں شعری ذوق کی آبیاری بھی کی جا رہی ہے۔ بہت مسرت ہوئی۔ ڈاکٹر شاہد سرویا نے بتایا کہ وہ بہت جلد منہاج یونیورسٹی میں عالمی سطح کا ادبی فیسٹیول منعقد کر رہے ہیں جس میں دیگر ممالک سے بھی سکالرز اور اہل قلم مدعو کئے جائیں گے، اب کچھ رسائل جرائم کے بارے میں بھی سن لیں، ”لوح“ ہمارے دوست اولڈ راوین ممتاز احمد شیخ پنڈی سے شائع کرتے ہیں، ضعیم جرائد کی صف میں ”لوح“ ایک اہم اور نمایاں ادبی جریدہ ہے، ممتاز شیخ کی اس کاوش پر اہل ادب ”انگشت بدنداں“ ہیں کہ اس دور میں خسارے کا ایسا کام کون کرتا ہے چند برسوں میں ”لوح“ نے اپنا معیار قائم کر لیا ہے، دنیائے اردو ادب کے ممتاز تخلیق کاروں کی کہکشاں اس جریدے میں دمکتی دکھائی دیتی ہے لوح پر تبصرہ الگ سے ہو گا فی الوقت خبر دینا مقصود تھا۔ اسی طرح کا ایک اور موقر جریدہ ہمارے پسندیدہ شاعر نصیر احمد ناصر تسطیر کے نام سے نکالتے ہیں سنا ہے اگلے چند روز میں تسطیر بھی شائع ہونے والا ہے، الحمرائ، بیاض، فانوس، مکالمہ تو ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، ادبی جرائد دی قدروقیمت اپنی جگہ مسلم ہے مگر زمانہ ناقدری کا ہے اس حوالے نال حیدر دہلوی کے شعر کے ساتھ اجازت :
حیدر یہ بزم وقت میں شمع ہنر کی قدر
دن بھر جلا کے شب کو بجھایا گیا ہوں میں
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker