ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

موت اور نیک لوگ ۔۔ڈاکٹر اختر شمار

اشفاق احمد اوراحمد ندیم قاسمی اکٹھے کسی جنازے پر قبرستان میں موجودتھے۔ انہوں نے دیکھا ایک قبر کا ایک حصہ گراہواتھا اور کفن کا کپڑا باہر جھانک رہا تھا۔ گورکن کو بلایا گیا تو اس نے قبر کو درست کرنے کی کوشش کی، کچھ اور لوگ بھی اکٹھے ہوگئے۔ میت بالکل ٹھیک تھی۔ چہرے پر خشخسی داڑھی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ کچھ گھنٹے قبل ہی میت دفن کی گئی ہے۔ گورکن نے قبرمرمت کردی۔ اشفاق صاحب نے گورکن سے اس قبر میں دفن شخصیت کے بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کرنے کے بعد انہیں اپنے بوڑھے والد (گورکن) سے ملوایا۔ اس نے بتایا کہ مرحوم سبزی منڈی کا ایک مزدورتھا۔ اشفاق صاحب اگلے روز منڈی جاپہنچے دن بھر کی پوچھ گچھ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ مزدور بہت نیک سیرت تھا۔ عمر بھر اس نے شادی نہیں کی اور دن بھر جو کماتا اپنی روٹی کے پیسے رکھ کر باقی غریب مسکین لوگوں میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ اس مزدور کو قرآن پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر توتلا ہونے کی بناپر مسجد کے مولوی نے اس کی حوصلہ افزائی نہ کی۔ مزدور انگلی پھیر کر قرآن کی ہر آیت پر یہ جملہ کہتا تھا :
اللہ میاں توں سچا ایں ( اللہ میاں تو سچا ہے)
یہ واقعہ اگلے روز ایف سی کالج یونیورسٹی کے رجسٹرار ہمارے بہت مشفق ومہربان ڈاکٹر حامد سعید صاحب نے اس وقت سنایا جب ہم ان کے بہن بہنوئی کی وفات پر تعزیت کرنے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اشفاق احمد کی زبانی یہ واقعہ انہوں نے سن رکھا ہے۔
حامد سعید صاحب بہت لائق استاد ہونے کے ساتھ اچھے ایڈمنسٹریٹربھی ہیں۔ میں نے 2003ءمیں ایف سی کالج جوائن کیا تو اس وقت حامد سعید ایف سی کالج ہی میں تھے ۔ اس دور سے اب تک ، ایف سی یونیورسٹی کے لیے ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بہنوئی کی وفات کا حیرت انگیز قصہ بھی سنایا۔ کہا :
میری چھوٹی بہن کی وفات کے ٹھیک پانچ روز بعد ہمارے بہنوئی بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ وہ بھلے چنگے تھے ۔ مگر غمزدہ بہت تھے مرنے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے بیٹی سے کہا مجھے وضو کرادیں تاکہ میں نماز فجر ادا کرسکوں۔ بیٹی نے کہا ابھی تو رات کے 9بجے ہیں۔ بہت وقت ہے جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو حکم کی تعمیل کی گئی پھر انہی کے بیڈ روم میں لٹا دیا گیا۔ لیٹ کر وہ درود شریف پڑھنے لگے اسی دوران بیٹی سے کہا : دروازہ بند کردیں اور اب ڈسٹرب نہ کیجئے گا۔
دوتین گھنٹے بعد بیٹی نے آہستہ سے دروازہ کھولا کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔ کیونکہ ایک دو روز سے وہ خاصے نڈھال تھے۔ دیکھتی کیا ہے کہ ہوش میں نہیں۔ جلدی سے انہیں ہسپتال لے جایا گیا مگر ڈاکٹر نے بتایا انہیں وفات پائے دوگھنٹے گزرچکے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ زندگی بس یہی کچھ تو ہے۔ بقول احمد راہی:
کیہ دم دا بھروسا یار دم آوے نہ آوے
نیک لوگوں کی موت کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔ چلتے پھرتے اللہ رب العزت کسی کا محتاج کیے بغیر انہیں اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ سب کو علم ہونے کے باوجود بھی کہ ہم نے یہاں ہمیشہ نہیں رہنا۔ ہم دنیا کی حرص سے دامن نہیں بچا سکتے۔ دنیا کمانے کے لیے رات دن بھاگتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
خوداشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی، احمد راہی، منیر نیازی ، سیف الدین سیف جیسی شخصیات بھی آج ہم میں نہیں بہت سے دیگر ادبی ستارے بھی ماند پڑ چکے ہیں۔ سب کو ایک روز رخصت ہونا ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رونقیں، چکا چوند ، لذتیں، یہیں رہ جانی ہیں۔ جو لوگ آپ کے آس پاس ہیں۔ ان کی قدرکی جائے۔ کم تر، مسکین اور کمزور افراد کی دلجوئی ضروری ہے اور اب آخر میں سقراط کے کچھ افکار قارئین کی نذر :
”اعلیٰ درجے کی زندگی مرنے سے قبل موت کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ جذبات اور مادی خواہشات سے بچ کر عقل خالص اور خیر محض کی طرف جانا جسمانی موت اور روحانی حیات ہے۔ دانا انسان اس قسم کی موت کی کوشش جسمانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے شروع کردیتا ہے۔“
٭سچا آدمی موت سے نہیں بلکہ بداعمالی اورتخریب روح سے گھبراتا ہے۔
٭نیکی کے ساتھ ذوقِ فقر یعنی سادہ ترین زندگی کی خواہش ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نیکی قائم نہیں رہ سکتی۔
٭بدی کرنے کے بعد سزا پانا بہ نسبت بچ کر نکل جانے کے، بدرجہا بہتر ہے۔ بدی ایک روحانی بیماری ہے اور اس کی سزا اس کی دوا ہے۔ بیماری کے ہوتے ہوئے دوا سے بچنے والا احمق ہے۔ اس کوشش سے اس کے مرض کا ازالہ نہیں ہوگا بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔
منیر نیازی کے شعر کے ساتھ اجازت:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
( بشکریہ : روزنامہ نئی بات )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker