ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

وبائی مخلوق اور مستنصر حسین تارڑ: واللہ اعلم / ڈاکٹراختر شمار

اِن دنوں ایک ہاتھ کی انگلیوں پرگنے جانے والے چند اینکر نما”دانش ور“ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔شہرت کے خناس نے ان کا دماغ خراب کر دیا ہے۔یہ ” وبائی “ مخلوق ، لکھاریوں میں خود کو سب سے ارفع و اعلیٰ ہی نہیں سمجھتی بلکہ ہر شام ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر آمرانہ انداز میں دانش بگھارتی ہے اور اپنے کہے کو حرفِ آخر سمجھتی ہے۔ایسے ”لفافی “اینکرز کسی بڑے اخبار یا ٹی وی نیٹ ورک کی بجائے کسی کم سر کولیشن والے اخبار یا چھوٹے ٹی وی چینل پر ہوتے تو ان کے نام سے بھی کوئی آگاہ نہ ہوتا۔یہ سب بڑے اداروں سے وابستگی کا ” کھٹیا “کھا رہے ہیں وگرنہ اِن سے کہیں زیادہ، با صلاحیت اینکر اور کالم نگار مختلف اداروں اور چینلز پر موجود ہیں۔چھوٹی سکرین نے انہیں پہچان بخشی مگر اسے ہضم کرنا ان کے لئے دشوار ہو رہا ہے سو اِن میں ایک تکبر اور رعونت پیدا ہوگئی ہے۔ایک دو کو چھوڑ کر یہ ماضی کے رپورٹر اور سیاسی پارٹیوں و ایجنسیوں کے گماشتے اور اندر کی خبر سے کالم کی دکانداری چمکانے والے نہیں جانتے کہ ایک زمانے میں بڑے بڑے ادیب صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔بیشتر اخباری مالکان اور ایڈیٹر ادیب اور شاعر ہو اکرتے تھے،جو صحافت کو مشن سمجھتے تھے۔اب کیا زمانہ آگیا ہے کہ ادیب شاعر کی بجائے صحافی ،رپورٹر یا کالم نگار کو ہی اہل قلم سمجھا جانے لگا ہے۔یہ درست ہے کہ اہل قلم میں سے بھی بیشتر اہم اور اچھے کالم نگار ہیں جن کی تحریروں میں ادب کی چاشنی بھی ہوتی ہے۔ان کے کالم محض کسی اندر کی خبر کا ڈھنڈورا یا سیاسی بھاشن نہیں ہوتے بلکہ ان میں معاشرتی رویوں اور زندگی کا سا تنوع پایا جاتا ہے۔ایسے تخلیق کار کالم کو بھی فن پارہ بنانے کی قدرت رکھتے ہیں۔نام گنوانا مقصود نہیں کہ اس وقت درجن بھر مشہور شاعر اور ادیب کالم لکھ رہے ہیں لیکن کالموں کے اتوار بازار میں ایسے کتنے کالم نگار ہیں جو سیاسی بھاشنوں اور کسی سیاسی پارٹی کے ” بھونپو “ بننے کی بجائے صرف ایسا کالم لکھتے ہیں جو اد ب و صحافت میں کالم کی تعریف پر بھی پورا اترتے ہیں۔اگلے روز مستنصرحسین تارڑ جو سیاست کو موضوع نہیں بناتے ،میاں نواز شریف کے بیان پر سیخ پا ہوئے تو چند حکومتی حامیوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیاسوشل میڈیا پر البتہ مستنصر تارڑ کو بہت پزیرائی ملی ۔ایک معروف اینکر پرسن نے بھی ادب کے لیجنڈ مستنصر حسین تاڑر کو سیاسی کالم لکھنے پر اپنے تیروں سے چھلنی کرنے کی کوشش کی ۔ تارڑ ادب کا دمکتا ہوا ستارہ ہیں ۔ وہ لاہور کے عاشقین میں سے ایک ہیں۔انتظار حسین اوراے حمید کے بعد وہ لاہور کی سڑکوں،چوکوں،چائے خانوں ،باغوں ،پارکوں، پھولوں ،پرندوں کا قصیدہ خواں ہے۔وہ پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور بیسٹ سیلر تخلیق کار ہےں۔کالم نگاری سے بہت پہلے ہی وہ شہرت کے آسمان کو چھو رہے تھے ۔درست ہے کہ وہ سیاست پر نہیں لکھتے لیکن ایسے کسی لکھنے والے پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ مستنصر تارڑ نے اپنے کالم میں یہی تاثر دیا ہے کہ وہ عامیانہ سوچ نہیں رکھتے ، سیاست دانوں اور حکمرانوں کی حمایت ،مخالفت ان کا مقصد حیات نہیں ہے ۔البتہ ان میں سے اگر کوئی وطن عزیز کی ناموس کو مجروح کرنے کی کوشش کرے گا تو ان کا کالم واقعتا تلوار کا کام کرے گا۔ تارڑ اردو فکشن کی آبرو ہیں۔انہوں نے میاں نواز شریف کے بیان پر اپنے جس ردِ عمل کا اظہا ر کیا ہے اس پر ساری قوم تالیاں بجا رہی ہے۔سوائے چند حکومتی حامیوں کے۔۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکستان کی سا لمیت کے خلاف زہر اگلنے پر بھارت امریکہ اور یورپ میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور انہیں ایوارڈ کے نام پر رشوت پیش کی جاتی ہے اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کے نام پر کیا جاتا ہے۔ تارڑ ایک وطن پرست ادیب ہیں انہوں جو درست سمجھا ،اظہار کردیا۔کسی کو اگر محسوس ہوا ہے کہ تاڑر نے اس کے چھابے پر ہاتھ ڈال دیا ہے تو ان کا سیاسی چھابہ لگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔وہ انسانیت ،پاکستانیت کا قصیدہ گواور عوام کا دوست ہے ۔اس کی تحریروں میں عام آدمی،درخت پرندے ،پھول ،پہاڑ اپنے حسن سمیت جلوہ گر ہیں لیکن ایک سچا ادیب اپنے وطن کے خلاف زہر اگلنے والوں کا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔پابلو نروداہوں ،نجیب محفوظ،فیض، جالب، منٹو ،عبد اللہ حسین ،انتظار حسین یا تارڑ ، اپنے وطن کے لےے ان کی محبت شک شبہ سے بالاتر ہے ۔ایک سچا ادیب مستقلاََ حزب ِاختلاف کا رکن ہوتا ہے۔جو تخریبی اور غیر تخلیقی قوتوں کے خلاف نبرد آزما رہتا ہے۔ آج توکسی حد تک صحافت کا تالاب بھی گندی مچھلیوں سے بھر چکا ہے بلکہ ان میں سے چند مچھلیاں مگر مچھوں کا روپ دھار چکی ہیں ۔جن سے نجات ضروری ہے۔سوشل میڈیا نے عوام کو با شعور کر دیا ہے، اب ایک جملے سے بھی لوگوں کو علم ہو جاتا ہے کہ یہ بندہ کس کے مفاد میں اور کس دھڑے کی ترجمانی کر رہا ہے۔وطن کی سا لمیت اور ناموس کو مجروح کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہےے بقول ہمارے شاعردوست علی محمد فرشی۔
پھولوں کو پھپھوندی لگ جاتی ہے
اور تتلیاں خود کشی کرنے لگتی ہیں
چاند پر چمگادڑیں بسیرا کر لیتی ہیں
اور سورج سے راکھ گرنے لگتی ہے
شہد سنکھئے کی تاثیر پکڑ لیتا ہے
اور دودھ سے گوبر کی بو آنے لگتی ہے
شاعری پر چڑیلیں قبضہ کر لیتی ہیں
اور کتابوں میں بچھو رینگنے لگتے ہیں
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker