ڈاکٹر اسد اریبشاعریلکھاری

غزل: یہ ہُنر اور بھی باعث مرے آزار کا ہے ۔۔ ڈاکٹر اسد اریب

یہ جو اک شور سا کچھ گرمئی بازار کا ہے
جنسِ نایابِ سُخن، فکرِ شرر بار کا ہے

ایک میں ہوں کہ سلیقہ جسے گفتار کا ہے
یہ ہُنر اور بھی باعث مرے آزار کا ہے

یہ مرا برگِ سُخن ہے کہ ہُما کے پر و بال
یا گُلِ تازہ کوئی طُرّہ دستار کا ہے

ایک منصور کی مسند ہے تو اک قیس کی ہے
اک نشاں دار کا اک کوچہء دِلدار کا ہے

وہ بھی اک طرزِ تکلم تھا، خموشی میری
ہاں مگر اب یہ تماشہ مرے اظہار کا ہے

ہو جو مقدور تو پوچھوں یہ ” حسن ناصر“ سے
کیا وہ قصّہ ہے؟جو قصّہ رسن و دار کا ہے

اب تو نادیدہء حُورانِ بہشتی کا ہے دَور
چشمِ میگوں کا نہ کچھ نرگسِ بیمار کا ہے

میری کیا خاک چلے گی کہ میں بولوں کوئی تول
عوضِ جاں پہ بھی سِکّہ مری سرکار کا ہے

بے تکاں چلتا ہے ،چلتا ہے تو رُکتا ہی نہیں
اس قلم پر مرے سایہ تری تلوار کا ہے۔

میں بھی ٹھہرا ہوں بہت شہرِ بُتاں میں کئی روز
یہ بھی پہلو مرے آئینہ کردار کا ہے

کس کو گل دستہ ء افکارِ سُخن پیش کروں
اس قدر قحط سخن فہمیء اشعار کا ہے

اُن اسیروں کے قبیلے سے ہے رشتہ میرا
جن کو کچھ خوف ستم کا نہ ستمگار کا ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker