ڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاریمزاح

” توچل میں آیا”۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

بچپن میں ایک بڑےمزے کی پہیلی سنی تھی”تو چل میں آیا”اس پہیلی کا جواب بھی اتنا ہی دلچسپ تھا”دروازہ”خیر بچپن تو مزے مزے کی پہیللیوں،لطیفوں اور کھیلوں میں گزر گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ پتا چلا کہ زندگی تو نام ہی ہے”چل سو چل”کا۔سب کی اپنی
منزلیں،سب کے اپنے راستے ۔”جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے”۔اور بعضے تو کسی کی چال دیکھ کر اپنا چال چلن ہی خراب کر بیٹھتے ہیں۔”بیٹھے ہیں راہگذر پے ہم،غیرہمیں اٹھائے کیوں؟”۔اور انجام کار “بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے”لیکن جناب زندگی حرکت کا دوسرا نام ہے۔۔اور سیانے کہہ گئے ہیں” حرکت میں برکت ہے”
اب چاہے ایک زمانہ ان کی “حرکتوں”سے تنگ ہو پر یہ کسی کی وجہ سے اپنے نصیب کی برکت سے کیوں ہاتھ دھوئیں؟۔سو یہ کسی کی بھی پروا کئے بغیر دونوں ہاتھوں بلکہ پیروں سے اپنے حصہ کی برکتیں سمیٹنے میں پوری تندہی سے مصروف رہتے ہیں۔بلکہ موقع ملنے پر ادھر ادھر ہاتھ مارنے بلکہ منہ مارنے سے بھی باز نہیں آتے۔”ایسی چال میں چلوں،کلیجہ ہل جائے گا”بس ان کی چال “وہ”والی چال ہوتی ہے۔اور انہیں اورکچھ آئے نہ آئےچالیں چلنی خوب آتی ہیں۔
تم بھی سادہ ہو کبھی چال بدلتے ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آجاتے ہیں
اب فی زمانہ صورت حال کچھ ہوں ہے کہ چال چلن بےشک اچھا نہ ہو لیکن چالیں خوب اچھی طرح چلنی آنی چاہئیں
چال اپنی ادا سے چلتے ہیں
ہم کہاں کجروی سے ٹلتے ہیں
اور جب چالیں خوب اچھی طرح چلنی آجائیں تو پھر ستاروں کی چالیں بھی قابو میں آجاتی ہیں اور حضرت علامہ کو تو ویسے بھی محبت ان جوانوں سے تھی”،ستاروں پے جو ڈالتے ہیں کمند۔”اب علامہ صاحب کو کیا معلوم کہ ستاروں پےکمند یں ڈالنے کے اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقے جوان جانتے ہیں جو علامہ صاحب کو پتا تھا۔اور علامہ صاحب کی طرح ہم بھی اسی بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ”ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا”۔
کبھی کبھی یوں بھی تو ہوجاتا ہے کہ چوروں کو مور پڑ جاتے ہیں۔شاطر سے شاطر چالباز بھی کبھی کسی کی چال پے مر جاتے ہیں یابہ رضا ورغبت کسی کی چال میں آجاتے ہیں۔
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
اب انہیں کیسے سمجھایا جائے کہ سیانے محبت اور جنگ کو ایک جیسا قرار دیتے ہوئے فتویٰ لگاتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔لیکن جنگ نہ چلے ہوئے کارتوس سے جیتی جاتی ہے نہ گیلے کارتوس سے۔
خیر جناب چلتی کا نام گاڑی ہے۔اور میاں بیوی کو گاڑی کے دو پہیئے کہاجاتا ہے۔اور “عقلمند “شوہر ایک” سٹپنی” بھی ضرور ساتھ رکھتے ہیں۔اب اگر سٹپنی بھی جواب دے جائے تو؟؟؟تو۔۔۔.پھر رونا تو بنتا ہے نا کہ “ہائے زمانہ بڑی چال چل گیا”۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker