ڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاریمزاح

شادی بیاہ ، رسوم و قیود اور منڈے دا یار ۔۔ڈاکٹر فرزانہ کوکب

جی ہاں۔۔۔اسے المیہ ہی کہیں کہ ہم من حیث القوم اس بری لت کا شکار ہیں اور کوئی اب سے نہیں ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی گنگا جمنی اور ہند مسلم تہذیب پر نظر دوڑاتےجائیں اور شرماتے جائیں۔کہ اس مذہب کے پیرو کار ہوتے ہوئے جو بےجا رسوم کا شدید مخالف اور مسترد کرنے والا ہے۔ہم نے ہمیشہ ہر مذہب،معاشرت اور تہذیب و ثقافت کے رسوم و رواج کو بنا سوچے سمجھے،ان کے حسن و قبح اور فائدہ اور نقصان پر غور کئے بغیر اپنا کر اور ان پر ہر قیمت پر کاربند رہ کر اپنی زندگیوں کو مشکل اور اپنی معاشرت اور تہذیب و ثقافت کو بہت بوجھل بنا دیا ہے۔
شادی بیاہ کی رسومات بھی ایسی ہی رسومات میں شامل ہیں۔پچھلے دنوں دو صاحب ِثروت خاندانوں کے مابین انجام پذیر ہونے والی شادی کو “پاکستان کی مہنگی ترین شادی”کا ٹائٹل دے کر میڈیا پر خوب چرچا کیا گیا۔اور اس نمود و نمائش کے ردّعمل میں کمنٹس اور تبصروں کی صورت میں بڑھ چڑھ کر جوابی وار بھی کئے گئے۔لیکن یہاں تو جناب ہم آپ جیسے عوام الناس کی شادیوں کی تقریبات میں بھی بے جا اور فضول رسموں پر دل کھول کر مگر “انھے وا”پیسہ لٹایا جاتا ہے۔مطلب “کسی کے لال گال دیکھ ،چپیڑیں مار اپنا مونہہ بھی لال کر لینا”
پہلے ہی کیا کم رسمیں تھیں کہ اب نئی نسل نے کچھ اور نئی رسموں کا اضافہ کر لیاجس میں برائڈل شاور اور شادی کا کیک کاٹنے کی مزید نمود و نمائش اور فضول خرچی والی رسمیں بھی شامل ہوگئیں ہیں ۔
ارے ارے۔۔زیادہ پریشان نہ ہوں اور نہ تیوری چڑھائیں۔چلیں آپ کو شادی بیاہ کی رسومات کے حوالہ سے ایک مزے کا لطیفہ سناتے ہیں۔تو ہوا یوں کہ ایک سکھ نوجوان بہت خوشی خوشی خوب بن سنور اپنے دوست کی شادی میں گیا لیکن جب واپس گھر لوٹا تو سر،مونہہ اور سارے بدن پر چوٹوں کے نشان لئے ہائے وائے کر رہا تھا۔گھر والے گھبرا گئے۔مرہم پٹی کے بعد کچھ حواس بحال ہوئے تو چوٹوں کا سبب بتاتے ہوئے کہنے لگا.کیا بتاؤں ان کے ہاں عجیب رسم ہوئی۔لڑکی اور لڑکے کے گھر والےاور رشتہ دار آمنے سامنے بیٹھ گئے۔پہلے لڑکے کا باپ کھڑا ہوا اور گرجدار آواز میں بولا”میں آں منڈے دا پئو۔۔کتھے اے کُڑی دا پئو؟”پھر بھائی کھڑا ہوا اور زوردار آواز میں بولا”میں آں منڈے دا وِیر۔۔کِتھے اے کُڑی دا ویر؟لو جی ایک ایک کرکے سارے رشتہ دار کھڑے ہوتے گئے مجھے بھی جوش آیا میں بھی کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے بولا”میں آں مُنڈے دا یار ۔۔۔کتھے اے کُڑی دا یار؟بس یارو فیر اگے تسی ویکھ ای لیا اے(بس آگے آپ نے دیکھ ہی لیا ہے)
شادی بیاہ میں ناچنا گانا ڈھول بجانا لڈیاں ڈالنا تو بہت پرانی اور لازمی رسمیں ہیں اور ہر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں رائج بھی ہیں۔اس مناسبت سے شادیوں میں دو گیت بڑے چلائے جاتے ہیں ایک تو مینوں یار دے ویاہ وچ نچ لین دے” اور جناب دوسرا مقبولِ عام گیت “آج میرے یار کی شادی ہے۔۔یار کی شادی ہے،مرے دلدار کی شادی ہے” دونوں گیتوں میں فی نفسہِ تو کوئی مسٔلہ نہیں لیکن بن ضرور سکتا ہے اگر یہ دونوں گیت کوئی لڑکا کسی لڑکی کی شادی میں گائے یا کوئی لڑکی کسی لڑکے کی شادی میں گا کر رقص کرے.
لیں جی یار کی شادی میں میں گانے اور ناچنے سے پھر ایک لطیفہ یاد آگیا۔ایک صاحب کے دوست کی شادی ہونے جارہی تھی تو ان صاحب کی بیوی بڑے طنزیہ انداز میں ان سے کہنے لگی”اجی،ویسے تو آپ اُس کے بڑے پکے اور سچے دوست بنتے ہیں۔اب اسے سمجھا کے روک نہیں سکتے کہ جس لڑکی سے شادی کرنے جارہا ہے وہ تو اچھی خاصی نفسیاتی مریضہ ہے”تو ان صاحب نے بڑی بیگانگی اور سرد مہری سے جواب دیا”میں کیوں سمجھاؤں؟ اس نے مجھے روکا تھا؟میری شادی میں تو بڑی لڈیاں ڈال ڈال کر ناچا تھا”.
دیکھا جائے تو شادی بیاہ کی سب سے خطرناک بلکہ مہلک ترین رسم۔۔۔نہیں نہیں جی “آتش بازی”نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک رسم دلہن کا بیوٹی پارلر سے مہنگے سے مہنگا برائڈل پیکج لے کر شادی والے دن سجنا سنورنا اور میک اپ کروانا ہے۔دلہن کا بناؤ سنگھار بھی اب تو نمود و نمائش اور فضول خرچی والی رسم ہی بن کر رہ گیا ہے۔اور ایک دنیا یہ مانتی ہے کہ سب سے بڑا جادو “بیوٹی پارلرز ‘میں ہوتا ہے جس کا دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں۔قسم لے لیں۔۔۔اتنا مصنوعی پن کہ جب اصلی چہرہ سامنے آئے تو اچھی بھلی صورت بھی بھیانک لگتی ہے۔کہ دولہا بچارہ خود کو ہارٹ اٹیک سے بچانے کے لئے دل تھام لیتا ہے۔ایسے ہی ایک نیا نویلا دولہا شادی کے اگلے روز صبح سویرے پارلر والی کو آکر آئی فون 7 کا ڈبہ دے گیا۔مشاطہ نے خوشی خوشی ڈبہ کھولا تو اندر سے نوکیا 333 نکلا۔مشاطہ محترمہ نے غصے سے کھولتے ہوئے دولہا صاحب کو فون کرکے اس گھٹیا مذاق کا سبب پوچھا تو دولہا اس سے بھی زیادہ غصے میں دھاڑتے ہوئے بولا”یہ وہی گھٹیا مذاق ہے جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے”

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker