کبھی کبھی ہم مایوسی اداسی اور اندرونی توڑ پھوڑ کی انتہا پر ہوتے ہیں دل کسی طور امید کی کوئی راہ نہیں ڈھونڈ پاتا۔۔۔محکمہ صحت کے موجودہ دل خراش واقعات کی اٹھنے والی گرد ہم سب کے دلوں پر مایوسی بن کر چھائی ہوئی ہے اس پر عید کی ڈیوٹیز سے دل اور اجڑا اجڑا سا تھا۔۔۔نصرت فتح علی خان کا دل امید توڑا ہے کسی نے بار بار ذہن میں گونج رہا تھا ۔۔۔وارڈ راونڈ اور بعد از راونڈ کی مصروفیات سے فارغ ہوئی تو میرین کی خبر لی جو اپنے وارڈ میں ڈیوٹی پر تھی۔۔۔ہم دونوں نے مختلف وارڈز سے موصول ہونے والی مشاورتی کالز دیکھنے جانا تھا۔۔کس کس وارڈ جانا ہے کب جانا ہے وغیرہ وغیرہ پر تبصرہ ہوا تو طے پایا جن وارڈز میں دونوں نے جانا ہے اکٹھے چلتے ہیں۔۔۔ساتھ سلام بھی ہو جاۓ گا اور کام بھی۔۔۔اپنے اپنے وارڈز سے نکلے اور وارڈ سات جانے والے راستے پر ملاقات ہوئی۔۔
منزل کے عین مقابل میرین نے اچانک توجہ دلائی۔۔حریم وہ کیا ہے۔۔۔پاس جا کر دیکھا تو ایک ننھا سا پرندہ جس کے جسم پر ابھی پورے پنکھ بھی نہیں تھے گھونسلے سے نیچے کھڑکی کے کنارے پر گرا تھا۔۔۔ہلایا جلایا تو پتا چلا کہ زندہ ہے بس خوف سے کانپ رہا ۔۔۔گھونسلہ بہت اونچا اور نہ کوئی سیڑھی۔۔۔نہ کوئی مدد۔۔۔ سب ندارد۔۔۔۔اٹھا کر لے جاو ں تو ماں سے دور گھر سے دور۔۔۔۔چھوڑ کر جانے کو دل نہیں مانا کہ نشتر کی بلیوں کا شکار بن جاۓ گا۔۔نیچے گرا تو کسی کے پاوں تلے کسی سٹریچر سے روندا جاۓ گا۔۔۔جاننے والے ملازمین بھی عید کی وجہ سے چھٹی پر تھے۔۔۔اوپر کیسے چڑھا جاۓ؟۔۔کس کو مدد کے لیے بلایا جاۓ؟۔۔میرین نے کہا پہلے اس کو پانی تو پلایا جاۓ۔۔۔میرین وارڈ گئی وہاں سے سرنج ڈھونڈ کر اس میں پانی بھر کے لائی ادھر اچانک سے غیبی مدد آئی چند ساعت پہلے گزرنے والے دو ملازمین جو وارڈ سات کے اندر گئے تھے میز کھینچتے ہوۓ لاۓ۔۔۔پوچھا آپ کیسے آۓ؟جواب ملا آپ دونوں کو پریشان دیکھا ۔۔۔اس لیے آۓ۔۔۔میز پر چڑھے۔۔۔کھڑکی کے بنے پر پاوں رکھا پھر بھی نا پہنچ پاۓ۔۔۔اندر گئے اور کرسی اٹھا کے لاۓ۔۔۔کرسی کے اگلے دو پیر کھڑکی کے بنے پر پچھلے دونوں ہوا میں۔۔۔دو لوگوں نے کرسی کو پکڑا ہوا۔۔۔تیسرا اوپر چڑھا۔۔ادھر یہ خوف کہ ان کو کچھ نہ ہو جاۓ ادھر یہ جلدی کہ بچہ گھر پہنچ جاۓ۔۔۔میں نے اوپر والے بھائی کے ہاتھ میں شارق کا بچہ تھمایا اور ملی جلی کوشش سے گھر پہنچ پایا۔۔۔دل امید توڑا ہے کسی نے۔۔۔۔ مایوسی اور اداسی کا اثر جاتا رہا۔۔۔ایسے جیسے کوئی جلتی دھوپ میں ساۓ میں جگہ دے دے پیاسے کو پانی اور بے آسرا کو گھر دے دے۔۔۔جیسے عید سے پہلے کسی کی عید ہو جائے
فیس بک کمینٹ

