ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

کارل مارکس کے بعد کی دو صدیاں … (1): جدوجہد / ڈاکٹر لال خان

اس سال 5 مئی (یعنی آج) کو کارل مارکس کی 200ویں سالگرہ ہے۔ یہ سالگرہ ایک ایسے وقت پر منائی جا رہی ہے جب پوری دنیا میں ہونے والے واقعات اس کی پیش گوئیوں اور تناظر کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ سرمایہ داری کے نہ ختم ہونے والے بحران نے ایک دفعہ پھر انسانیت کی آزادی کی جدوجہد کے لیے مارکس کے تجزئیے اور تناظر کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ مارکس کی 200ویں سالگرہ کے موقع پر اس کی زندگی اور نظریات پر لکھے جانے والے مضامین اور میڈیا پر اس حوالے سے ہونے والے اتنے مباحث پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے‘ جتنے حالیہ برسوں میں مشاہدے میں آئے ہیں‘ بلکہ مارکس بارے اتنی بحث شاید تب بھی نہیں ہوئی ہو گی جب ‘سوشلسٹ بلاک‘ قائم تھا۔
انیسویں صدی کے سرمایہ داری کے دیگر ناقدین کے برعکس مارکس ایک انقلابی تھا جس نے جبر و استحصال سے پاک غیر طبقاتی سماج کی جدوجہد کو سائنسی نظریات کی بنیادیں فراہم کیں۔ سرمایہ داری پر مارکس کی تنقید اس کی اصلاح کے لئے نہیں بلکہ اسے اکھاڑ پھینکنے کے لئے تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کو سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھا تھا جس کا واضح پروگرام اُس نے مشہورِ زمانہ ‘کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ میں پیش کیا۔ 1917ء کے بالشویک انقلاب کے علاوہ مارکس کی وفات کے بعد برپا ہونے والے سوشلسٹ کردار کے حامل انقلابات کلاسیکی مارکسی سطوح پر استوار نہیں تھے۔ اگرچہ انقلابِ چین جیسے دیوہیکل تاریخی واقعات پر کسی نہ کسی شکل میں مارکس کے نظریات کا گہرا اثر موجود تھا۔ اسی لئے یہ اس کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط تک پوری دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی اپنے آپ کو مارکسسٹ، سوشلسٹ یا کمیونسٹ کہلانے والی حکومتوں کے تحت زندگی گزار رہی تھی۔ ان انقلابات میں شامل بہت سے رہنما اور کارکنان سنجیدگی سے خود کو مارکسسٹ سمجھتے تھے۔ لیکن مخصوص معروضی حالات اور نظریاتی کمزوریوں کے پیش نظر ان انقلابات کے مسخ ہوجانے کی وجہ سے سامنے آنے والے نتائج کے لیے مارکس کو مورد الزام ٹھہرانا بد دیانتی ہو گی۔
مارکس نے مادیت پسند فلسفی فیورباخ پر اپنے مشہور گیارہویں تھسیس میں لکھا: ”فلسفیوں نے اب تک مختلف طریقوں سے دنیا کی محض تشریح کی ہے‘ لیکن اصل مسئلہ اس کو بدلنے کا ہے۔‘‘ یہ وہ نکتہ ہے جو مارکس کو ماضی کے تمام فلسفیوں سے ممتاز کر دیتا ہے کیونکہ اس سے پہلے کے فلسفیوں نے دنیا کو انسانی فلاح کے لئے بدلنے کی بات کبھی نہیں کی تھی۔ مارکس کے نزدیک فلسفہ غیر متعلقہ یا غیر ضروری نہیں ہے بلکہ فلسفیانہ مسائل زندگی کے مادی حالات سے جنم لیتے ہیں اور ان پر بات کرنے یا ان کو زیر غور لانے اور ان پر بحث کرنے کا مقصد بھی ایک بہتر سماج کا قیام ہونا چاہئے۔ یوں مارکس نے فلسفے کو عملی جہت عطا کی اور اُس کے نظریات اس دنیا میں سرمایہ داری کی وجہ سے جنم لینے والی غربت، محرومی، بربادی اور ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے کل بھی اور آج بھی نسل۔ انسانی کے لئے مشعل راہ ہیں‘ اگر کوئی ان سے فائدہ اٹھانا چاہے تو۔
مارکس 14 مارچ 1883ء کو چونسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔ اپنی زندگی کے دوران وہ وسیع تر منظر نامے سے غائب اور بڑی حد تک غیر معروف تھا۔ اس کی آخری رسومات میں صرف گیارہ لوگ شریک تھے۔ لیکن جو کچھ اُس نے اپنی انتھک زندگی کے دوران لکھا اُسے حقیقی معنوں میں انسانیت کا اثاثہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے زندگی بھر کے دوست اور ساتھی فریڈرک اینگلز کے علاوہ بہت کم لوگوں کو یہ اندازہ تھا کہ مستقبل میں اس کے نظریات کتنی اہمیت اختیار کر جائیں گے۔ اس جنازے میں اینگلز نے مارکس کے نظریات اور جدوجہد کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا، ”مارکس نے انسانی تاریخ کے ارتقا کا قانون دریافت کیا۔ اُس نے وہ سادہ سی حقیقت دریافت کی جو ضرورت سے زیادہ نظریاتی مغز ماری کے نیچے دب چکی تھی۔ اُس نے دریافت کیا کہ سیاسیات، سائنس، مذہب اور فن کی جستجو سے پہلے انسان کو کھانے، پینے، سر چھپانے اور بدن ڈھکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے زندگی کی مادی ضروریات کی پیداوار اور اس کے نتیجے میں کسی عہد کے دوران حاصل کردہ معاشی ترقی کی سطح ہی وہ بنیاد ہے جس پر متعلقہ سماج کے ریاستی ادارے، قانونی تصورات، فن اور یہاں تک کہ مذہبی خیالات ارتقا پذیر ہوتے ہیں؛ چنانچہ اسی بنیاد پر ان چیزوں کی وضاحت ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس، جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے… مارکس سب سے پہلے ایک انقلابی تھا۔ زندگی میں اس کا حقیقی مقصد کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ دارانہ سماج اور اس کے تخلیق کردہ ریاستی اداروں کو اکھاڑ پھینکنا اور محنت کش طبقے کی آزادی میں اپنا حصہ ڈالنا تھا۔ جدوجہد اس کا بنیادی وصف تھا۔ بہت کم لوگ اس کی طرح جوش و جذبے، مستقل مزاجی اور کامیابی سے لڑے ہوں گے۔ اس کی تحریروں اور پیرس، برسلز اور لندن میں اس کا تنظیمی کام‘ اور سب سے بڑھ کر محنت کشوں کی بین الاقوامی انجمن کی تشکیل ایسی کامیابیاں تھیں جن پر اس کے معمار کو بھی فخر ہو گا۔ نتیجتاً مارکس کو وقت کے حکمرانوں کی بد ترین نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ جمہوری اور آمرانہ حکومتیں اسے اپنے ملکوں سے جلا وطن کرتی رہیں۔ حکمران طبقات، چاہے قدامت پسند ہوں یا مہا جمہوری، اُس پر بہتان تراشی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اس سب کو وہ ایسے جھٹک دیتا تھا گویا مکڑی کا جالا ہو۔ وہ ان کی باتوں اور تنقید کو نظر انداز کر دیتا تھا اور صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی جواب دیتا تھا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آج اُس کے بہت سے مخالفین ہوں گے لیکن کوئی بھی ذاتی دشمن نہیں ہو گا۔ اس کا نام اور اس کا کام زمانوں تک یاد رکھا جائے گا۔‘‘
تاہم اگر روس میں 1917ء کا بالشویک انقلاب برپا نہ ہوتا تو شاید مارکس گمنام ہی رہتا۔ دنیا کو جھنجھوڑ دینے والے انقلابِ روس نے مارکسزم کو ایک عالمی تعارف اور اہمیت عطا کر دی۔ 1917ء کے بعد کمیونزم کوئی یوٹوپیا نہیں رہا تھا۔ حتیٰ کہ سوویت یونین کے انہدام اور دیوار برلن گرنے کے بعد بھی عالمی سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے مارکسی نظریات کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 1999ء میں بی بی سی کے ایک سروے میں مارکس کو پچھلے ایک ہزار سال کا ‘عظیم ترین فلسفی‘ قرار دیا گیا۔ پھر 2013ء میں بھی بی بی سی کے ہی ایک سروے میں مارکس کو ‘دنیا کا سب سے بااثر سکالر‘ قرار دیا گیا تھا۔
مارکس مئی 1818ء میں جرمنی کے ایک چھوٹے شہر ٹریئر میں پیدا ہوا۔ اس کا والد اسے قانون دان بنانا چاہتا تھا لیکن اس نے فلسفے کا انتخاب کیا۔ اس نے فریڈرک ولیم یونیورسٹی برلن سے تعلیم حاصل کی جہاں ایک وقت میں مشہور فلسفی ہیگل پڑھاتا تھا۔ اس نے دانشوروں کے ایک گروہ ”نوجوان ہیگلیوں‘‘ میں شمولیت کی لیکن جلد ہی ہیگل کے فلسفے کے اہم نکات سے اختلاف کرنا شروع کر دیا۔ مارکس اور اینگلز نے ‘نوجوان ہیگلیوں‘ میں موجود اپنے سابق ساتھیوں کی جامد اور فرقہ پرست سیاست کے خلاف ایک کتاب ‘مقدس خاندان‘ لکھی جس میں مادی حقائق سے کٹ کر صرف دانشورانہ مباحث تک محدود رہنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
مارکس کو جینی سے بہت محبت تھی۔ وہ مارکس سے چار سال بڑی تھی اور بقول مارکس ”شہر کی سب سے خوبصورت دوشیزہ تھی۔‘‘ مارکس نے اس کے لیے محبت بھرے اشعار بھی لکھے۔ 25 سال کی عمر میں اُس نے جینی سے شادی کر لی۔ جینی نے پوری عمر مارکس کا ساتھ نبھایا اور انتہائی کٹھن حالات میں بھی ڈٹی رہی۔ نجی زندگی میں مارکس میانہ رو اور خوش مزاج انسان تھا۔ وہ اکثر اپنی تین بیٹیوں کے لیے کہانیاں تخلیق کرتا تھا۔ سستے سگار اور ریڈ وائن پیتا تھا۔ ایک حکومتی جاسوس، جس نے 1852ء میں مارکس کے گھر کا چکر لگایا، یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کتنا شریف اور نفیس شخص ہے۔
مارکس نہ صرف ایک انتھک لکھاری بلکہ انتھک قاری بھی تھا۔ وہ ساری رات تمباکو کے دھویں اور کتابوں کے اوراق میں ڈوبا رہتا تھا۔ دنیا میں بہت کم انسان اتنے وسیع مطالعے کے حامل ہوں گے۔ مارکس اور اینگلز نے بہت سے موضوعات پر اتنی تفصیل سے لکھا ہے کہ اب تک ان تحریروں کی 54 جلدیں بن چکی ہیں۔ (جاری)
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker