ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

کارل مارکس کے بعد کی دو صدیاں … (2): جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

جہاں تک نظریاتی اصولوں کا تعلق تھا تو مارکس کا رویہ غیر مصالحانہ تھا۔ وہ ایک دل نشین مقرر تھا لیکن لکنت کی وجہ سے روانی سے بات نہیں کر سکتا تھا اور اس وجہ سے شاذ و نادر ہی عوامی اجتماعات سے خطاب کرتا تھا۔ نظریات پر مصالحت نہ کرنے کی وجہ سے اس کے بہت سے پرانے دوست بھی مخالف بنتے گئے۔ اس کے باوجود اس کی عزت کی جاتی تھی۔ جب مارکس کی عمر صرف اٹھائیس سال تھی تو ایک دوست نے اسے ”عوام کے فطری رہنما‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ وہ ایک محتاط ایڈیٹر تھا اور پہلی انٹرنیشنل (محنت کشوں کی پہلی عالمی تنظیم) کا روح رواں تھا۔
چند کتابوں کی پیشگی رقوم کے علاوہ مارکس کا واحد ذریعہ معاش صحافت تھا۔ وہ 1852ء سے 1862ء تک دنیا کے اُس وقت کے سب سے بڑے اخبار ‘نیویارک ڈیلی ٹریبون‘ میں کالم نگار تھا۔ جب صحافتی کام ختم ہوا تو اسے سخت مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔ ان برے حالات میں اینگلز نے معاشی حوالے سے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ مارکس نے اپنی زیادہ تر زندگی بہت غربت میں گزاری۔ یوں ”سرمایہ‘‘ کے مصنف کے پاس ہمیشہ پیسے کی قلت رہی۔ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود مارکس نے ایک فاقہ مست انقلابی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ وہ بخوشی ایک خستہ حال گھر میں رہتا تھا‘ اگرچہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا تھا۔ اس کے تین بچے غربت کی وجہ سے کم عمری میں ہی مر گئے۔ چوتھا بچہ برے حالاتِ زندگی کی وجہ سے مردہ پیدا ہوا۔
اپنی انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں اُسے پوری عمر مسلسل جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1843ء میں اسے ایک اخبار ‘Rheinische Zeitung‘ میں ‘تخریبی‘ تحریروں کی وجہ سے کولون سے نکال دیا گیا۔ مارکس یہاں سے پیرس چلا گیا جہاں فریڈرک اینگلز کے ساتھ اس کی سیاسی اور ذاتی رفاقت پروان چڑھی۔ 1845ء میں مارکس کو فرانس سے نکال دیا گیا جہاں سے اُسے برسلز جانا پڑا۔ 1848ء میں پورے یورپ میں انقلابات پھوٹ رہے تھے۔ مارکس اور اینگلز نے انہی غیر معمولی حالات میں”کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ تحریر کیا۔ یہ ایک ایک ایسی تحریر ہے جس نے وقت اور زمانے کو مات دی اور آج بھی سرمایہ دارانہ نظامِ سماج کا سب سے جدید تجزیہ ہے۔ اِس سال لندن میں 26 اَپریل کوکتاب کے چھپنے والے نئے ایڈیشن کے تعارف میں یونان کے بائیں بازو کے سابق وزیر خزانہ یانس ویروفاکس نے لکھا ہے کہ ”ایک منشور کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ وہ شاعری کی طرح ہمارے دلوں کو چُھو لے جبکہ دماغوں کو حیران کن نظریات اور تصویروں سے بھر دے۔ اسے ہمارے ارد گرد حیران کن اور پریشان کن تبدیلیوں کی وضاحت کرنی چاہیے اور موجودہ حالات میں پوشیدہ امکانات کو واضح کرنا چاہیے۔ آخر میں اس کے پاس بیتھوون کی سمفونی کی سی طاقت ہونی چاہیے جو ہمیں ایک ایسے مستقبل کا عامل بنا دے جہاں عوام کی محکومی کا خاتمہ ہو اور انسانیت حقیقی آزادی حاصل کرے۔‘‘
1848ء کے طوفانی واقعات کے دوران جب تحریک برسلز پہنچی تو مارکس پر باغیوں کو مسلح کرنے کا الزام لگا کر بیلجیم سے نکال دیا گیا۔ وہ واپس پیرس آ گیا۔ 1848ء کے انقلابات کی شکست پر مارکس نے لکھا کہ ” تاریخ خود کو پہلے ایک المیے اور پھر ایک تماشے کے طور پر دہراتی ہے۔‘‘ المیے سے مراد نپولین کے دور میں انقلاب فرانس کی حالت اور تماشے سے مراد دسمبر 1848ء میں نپولین کے بھتیجے لوئی نپولین، جو اوسط صلاحیتوں کا مالک تھا، کا فرانس کے صدر کے طور پر انتخاب تھا۔ 1849ء میں مارکس کو پھر جلا وطن ہونا پڑا۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لندن چلا گیا جہاں اس نے اپنی بقیہ زندگی گزاری۔ برٹش میوزیم میں آج بھی وہ کرسی محفوظ ہے جس پر صبح سے رات تک بیٹھ کر مارکس اپنی شہرہ آفاق تصنیف ‘سرمایہ‘ کے لیے مواد اکٹھا کرتا تھا۔
مارکس کی زندگی میں 1871ء کا پیرس کمیون واحد کامیاب انقلاب تھا جس میں پیرس کے محنت کشوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے انسانی تاریخ کی پہلی مزدور ریاست قائم کی۔ لیکن صرف ستر دن بعد کمیون کو خون میں ڈبویا گیا۔ فرانس اور جرمنی کے حکمران، جو صدیوں تک لڑتے رہے تھے، اچانک باہمی دشمنیاں ختم کر کے اِس انقلاب کو کچلنے کے لیے متحد ہو گئے۔ اس سے عالمی سطح پر مزدور تحریکیں اور انقلابی رجحانات پسپائی کا شکار ہوئے۔ ایک دفعہ پھر مارکس کو کٹھن معروضی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا‘ لیکن نسلِ انسان کے سوشلسٹ مستقبل پر اُس کا یقین کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ اُس نے پیرس کمیون کا انتہائی گہرا تجزیہ کیا اور اس کی ناکامی سے وہ نتائج اخذ کئے جو بالشویکوں کے لئے مشعلِ راہ بنے اور آج تک انقلابیوں کے لئے بیش قیمت اسباق سمیٹے ہوئے ہیں۔ اپنی موت تک مارکس انقلابی سوشلزم اور کمیونزم کی فتح کے بارے میں پُرامید رہا۔
مارکسزم کے بڑے ناقدین میں عالمی سرمایہ داری کا سب سے دبنگ ترجمان ‘دی اکانومسٹ‘ پچھلے ڈیڑھ سو سال سے صف اول میں رہا ہے۔ مارکس خود بھی تمام عمر ‘اکانومسٹ‘ کا باقاعدہ قاری رہا کیونکہ اس کے نزدیک کسی نظام کا تجزیہ کرنے کے لئے اُس نظام کے اپنے ماہرین اور پالیسی سازوں کی آرا جاننا بہت اہم تھا۔ مارکس کے اِس یوم پیدائش پر بھی اس جریدے نے ایک طویل مضمون شائع کیا ہے۔ یہ مضمون مارکس پر زہریلی تنقید اور سفاکانہ ذاتی حملوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس مضمون کو جریدے کے ایڈیٹروں نے ”دنیا بھر کے حکمرانو مارکس کو پڑھو!‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے جو مارکس کے تاریخ ساز نعرے ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!‘‘ سے ماخوذ ہے۔ مضمون کے آخر میں اکانومسٹ مادی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے، ”آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے خلاف رد عمل دنیا بھر میں تیزی سے ابھر رہا ہے… آج سرمایہ داری کے لبرل اصلاح پسند اور ماہرین اپنے پرکھوں کی نسبت بونے معلوم ہوتے ہیں۔ یہ اُن سے کہیں کم علم ہیں اور کم تر مہارت کے حامل ہیں۔ اس لئے کوئی ٹھوس حل نکالنے میں ناکام ہیں۔ اِن کو مارکس کے 200ویں یوم پیدائش پر اس عظیم شخص سے شناسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے‘ تاکہ اس نظام کے ایسے سنجیدہ اور خطرناک نقائص کو سمجھا جائے جن کی مارکس نے شاندار انداز میں شناخت اور وضاحت کی تھی۔ اِن ماہرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر سرمایہ داری کی اِن خرابیوں کو دور نہیں کریں گے تو ایک مکمل تباہی اس نظام کو برباد کر دے گی۔‘‘ گویا اس مضمون میں بھی مارکس کے یہ سب سے عیار مخالفین اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر رہ نہیں سکے کہ مارکس سے بہتر اس نظامِ سرمایہ کا تجزیہ اور سائنسی تناظر کوئی دوسرا سماجی سائنسدان، ماہر معیشت یا فلسفی تخلیق نہیں کر سکا۔
جہاں کارل مارکس کی ساری باشعور زندگی کے دوران اس کے خلاف زہر اگلنے والوں کی بھرمار تھی وہاں اس کی موت کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد بھی یہ سلسلہ کبھی تھما نہیں۔ اس نظام کے لبرل اور سیکولر رکھوالوں نے مارکسزم کے خلاف حملے جاری رکھے ہیں۔ مارکس آج بھی زمین کے اِن خدائوں اور دیوتاؤں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ انقلابِ روس کے قائد ولادیمیر لینن نے اپنے مضمون ‘مارکسزم کے تین سرچشمے اور تین اجزائے ترکیبی‘ میں لکھا تھا: ”مارکس کا نظریہ نا قابلِ شکست ہے کیونکہ یہ سچ ہے۔ یہ نظریہ مکمل اور مربوط ہے اور انسانوں کو ایک ایسا با ضابطہ عالمی نقطہ نظر مہیا کرتا ہے جو توہم پرستی، رجعت اور بورژوا جبر کے دفاع کی ہر شکل سے ناقابل مصالحت ہے۔ یہ نظریہ ان بہترین خیالات کا جائز وارث ہے جو بنی نوع انسان نے انیسویں صدی کے جرمن فلسفے، انگریزی سیاسی معاشیات اور فرانسیسی سوشلزم کی صورت میں تخلیق کئے تھے۔‘‘ صرف یہی نہیں بلکہ لینن تو یہاں تک کہا کرتا تھا کہ اگر دنیا کو سمجھنے اور بدلنے کا مارکسزم سے بہتر کوئی نظریہ ہمیں میسر آتا ہے تو ہم مارکسزم کو ترک کرنے میں ایک لمحے کے لئے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریںگے۔ لیکن لینن کے تقریباً سو سال بعد بھی ایسا کوئی ”نیا نظریہ‘‘ تخلیق نہیں ہوا‘ جو مارکسزم کو منسوخ کر سکے۔ مارکس کا بنیادی تجزیہ و تناظر آج بھی درست اور سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے مشعل راہ ہے۔ (ختم)
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker