ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

جدید ٹیکنالوجی اور مزدور طبقہ: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

1989ء میں جب آخری روسی فوجی دریائے آمو (Oxus) پار کرکے افغانستان سے واپس جا رہا تھا تو امریکہ میں سی آئی اے اہلکار اور سامراجی مفکر فرانسیسی فوکویاما نے ”تاریخ کے اختتام‘‘ (End of History) کا نظریہ و تناظر دے کر نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل کے لئے سامراجی حکمرانوں کو دنیا پر بے دریغ دھاوا بولنے کی پالیسی پیش کی تھی۔ پھر سوویت یونین ٹوٹ گیا، دیوار برلن گر گئی اور چین میں سرمایہ داری کی رجعتی استواری کا عمل تیزی سے بے نقاب ہونا شروع ہو گیا۔ ایسے میں عالمی طور پر اور پھر پاکستان جیسے غیر ترقی یافتہ ممالک میں دائیں بازو اور مذہبی دانشوروں نے ‘سوشلزم کے خاتمے‘ اور ‘مارکسزم کی ناکامی‘ کی نعرہ بازی اور یلغار کر دی۔ پاکستان میں چونکہ بیشتر بایاں بازو ماسکو نواز یا بیجنگ نواز تھا اس لیے قیادت اور کارکنان سمیت بائیں بازو کی ایک پوری کھیپ اس پروپیگنڈا اور یلغار کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ پھر سرمایہ دارانہ نظام کو جو چھوٹ اور کھلا میدان ملا تو محنت کشوں پر دنیا بھر میں نہ صرف بے دریغ حملے کرکے منافعوں کی شرح بڑھانے کی کوشش کی گئی بلکہ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً یورپ میں جو فلاحی ریاستیں مزدوروں کی جدوجہد اور ”سوشلسٹ بلاک‘‘ کے خوف سے استوار کی گئی تھیں‘ ان کو بھی ادھیڑنا شروع کر دیا گیا۔ اسی عرصے میں جب یہ تمام حربے بھی بحران کو نہ روک سکے تو سرمایہ داری کے عالمی ماہرین نے مالیاتی سرمایہ کاری کے ذریعے مغرب میں مختلف سود خوری، انشورنش، سٹہ بازی اور کرنسی کے کاروبار جیسے کھلواڑ شروع کیے اور پیداواری صنعت پر سرمایہ کاری کے لئے چین جیسے ممالک (جہاں چینی حکمرانوں نے سامراجیوں کے آگے سستی اور ہنرمند محنت دان کر دی تھی) میں منتقل کرنی شروع کر دی۔
لیکن تقریباً دو دہائیاں پیشتر سرمایہ داری نے آلات پیداوار میں ایک ”نیا انفوٹیک انقلاب‘‘ شروع کیا جس کا مقصد کم سے کم محنت سے زیادہ سے زیادہ منافع خوری کا حصول تھا۔ آج انفوٹیک کی یہی صنعت دنیا بھر میں معاشروں کی گہرائیوں تک سرایت کر چکی ہے۔ فیس بک سے لے کر گوگل اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) سے لے کر بغیر ڈرائیوروں کی گاڑیوں اور دوسرے نئے آلات ایجاد کرکے صنعت، تجارت، نقل و حمل، ذرائع آمدورفت، سرجری، علاج، تعلیم غرضیکہ ہر معاشی و سماجی اور ریاستی شعبے میں ان کا غلبہ مسلط ہو گیا ہے۔ پہلے حصص اور کارپوریٹ ملکیت سے انفرادی اور شخصی ملکیت کی تبدیلی کا عمل اور پھر انفوٹیکنالوجی کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی اور پیداوار میں انسانی محنت کے کردار کو کم کرنے کی واردات کی گئی۔ جس سے بہت سے سابقہ مارکسسٹ مزید کنفیوژن اور تذبذب کا شکار ہو گئے اور بہت سے بائیں بازو کے سابقہ مفکر مارکسزم کو ناکام اور تاریخی و سائنسی طور پر متروک نظریہ قرار دینے لگے۔ بیشتر کی سوچ کے مطابق تو طبقات کو وجود ہی ختم ہو گیا۔ بورژوا ماہرین اب یہ پیشین گوئی کر رہے تھے کہ جدید ٹیکنالوجی مزدور کی طاقت اور اس کے صنعتی و اقتصادی کردار کو ہی ختم کر دے گی اور طبقاتی کشمکش کی سیاست ہی ختم ہو رہی ہے۔ نہ صرف سابقہ بائیں بازو کے مفکر ان کی تقلید کر رہے تھے بلکہ وہ یہ بھی مان رہے تھے کہ مزدور بحیثیت طبقہ اپنا وجود کھو چکا ہے۔ مالیاتی سیاست دانوں کو اور چاہیے بھی کیا تھا۔ وہ تمام ترقی پسندانہ نظریات کو خیرباد کہہ کے پوری طرح سرمایہ دارانہ سیاست، معیشت اور ریاست کو حتمی اور آخری مقصد و منزل تسلیم کرکے دولت کی لوٹ کھسوٹ کی اندھی دوڑ میں داخل ہو گئے۔
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ان سابقہ بائیں بازو کے دانشوروں نے مارکسزم کو کہیں اپنی زندگیوں کے آغاز میں ہی پڑھا تھا اور پھر اپنے عالم اور مفکر ہونے کے زعم میں اس کو بھول گئے اور دوبارہ کبھی اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پڑھنے کی کاوش ہی گوارا نہیں کی۔ ”کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ ایک بنیادی دستاویز ہے جس میں کم سے کم الفاظ میں مارکسزم کے بنیادی اصول اور نظریات بیان کیے گئے ہیں۔ آج اگر کوئی اس ”منشور‘‘ کو دوبارہ پڑھنے کی زحمت کرے تو حیران ہو گا کہ کس طرح مارکس کے تناظر نے موجودہ جدید ٹیکنالوجی کی نہ صرف پیش گوئی کی بلکہ اس کو سرمایہ دارانہ نظام کے ناگزیر ارتقا کے عمل سے جوڑا بھی تھا۔ اگر ہم سرمایہ دارانہ نظام کی تین سو سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو تقریباً ہر 25 سے 30 سال کے بعد انہوں نے اپنے نظام کے لئے ”ٹیکنالوجیکل‘‘ انقلابات کیے ہیں۔ مثلاً مارکس کے وقتوں میں بھاپ کے انجن کی دریافت اور پیداوار میں اس کے استعمال نے جاگیردارانہ پیداوار اور سماجی زندگی میں اکھاڑ بچھاڑ کرکے رکھ دی تھی۔ آج کی اس مصنوعی ذہانت (AI) اور خود کاری (Automation) میں اتنے ہی درہم برہم کر دینے والی تخلیقات ہیں جیسی بھاپ اور بجلی کے جنم سے معاشرے میں ہلچل ہوئی تھی۔ مارکس اور اینگلز کمیونسٹ منشور میں لکھتے ہیں کہ ”سرمایہ داری اپنے آلاتِ پیداوار کو مسلسل انقلابات سے بدلتی رہتی ہے۔ ان سے تمام سماجی رشتے بھی مسلسل تبدیلیوں کا شکار رہتے ہیں‘‘۔ ‘منشور‘ مزید یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ”پیداوار کا یہ مسلسل انقلابی تسلسل تمام سماجی حالات اور زندگی میں ایک مسلسل خلل اور اضطراب کو بھی پیدا کرتا ہے۔ ان سے ایک نہ ختم ہونے والی غیر یقینی کی کیفیت اور انتشار ابھرتا رہتا ہے۔‘‘ لیکن سرمایہ دارانہ نظام اپنے ڈھانچوں کے اندر اپنی ہی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کی جدیدیت کو سمو نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی محنت اور سرمائے کے پرانے توازن کو درہم برہم کر دیتی ہے جس سے ذلت، محرومی اور غربت شدت سے پھلتی ہیں۔ سرمایہ دار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ایپس (Apps)، سرچ انجن، روبوٹ اور جینیٹک انجینئرنگ سے مرتب بیج ہر کسی کو دولت اور خوشیوں سے دوچار کریں گے۔ لیکن مالکان اور اجرتی مزدوروں میں تقسیم والے معاشروں میں ان کے متعارف ہونے سے اجرتیں کچلی جاتی ہیں۔ بلکہ بڑی اجارہ داریاں اور بھاری کارپوریٹ سرمایہ‘ چھوٹی کمپنیوں اور کاروباروں کا بھی کباڑہ کر دیتے ہیں۔ ایسے میں نجی ملکیت پر قائم سرمایہ دارانہ نظام معاشرے کو غیر انسانی درندگی کی حد تک لے کر جا رہا ہے۔ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کے خاتمے اور ایک اشتراکی ملکیت میں لائے جانے سے ہی یہ وسیع پیداوار کرنے والے جدید ٹیکنالوجی کے آلات ایک انتہائی ترقی پسندانہ کردار کے حامل بن سکتے ہیں‘ جو عدم مساوات اور اشتراکی خوشحالی کا باعث بننے کی ٹھوس بنیادیں استوار کر سکتے ہیں۔
مارکس کے مطابق جن چیزوں اور سوچوں کو مقدس جانا جاتا ہے، حتمی سمجھا جاتا ہے ان کو یہی جدید ٹیکنالوجی متروک کر دیتی ہے۔ لیکن اس نئی ٹیکنالوجی سے اگر ایک درمیانہ طبقہ پیدا بھی ہوا ہے تو وسیع تر آبادی تاریخ کی بد ترین محرومی کا بھی شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح روبوٹس کے وسیع استعمال سے پیداوار کی لاگت میں تو کمی آ جاتی ہے، زیادہ مقدار اور معیار بھی پیدا ہوتا ہے‘ لیکن اس اعلیٰ معیار کی پیداوار کو خریدنے کی قوت سے ہی مزدور محروم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ روبوٹس اس پیداوار کو خریدنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ منڈی محنت کش عوام کی جس بھاری اکثریت پر مبنی ہوتی ہے انہی محنت کشوں کی قوتِ خرید کے گرنے سے یہ منڈی سکڑ جاتی ہے‘ اور پیداوار کی کھپت گر جانے سے پیداواری صنعت ہی بند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جہاں تک مزدور طبقے کے خاتمے کا تعلق ہے تو پچھلے 25 سالوں میں اس میں کمی کی بجائے تقریباً دو ارب انسانوں کا اضافہ ہوا ہے جو چین، برازیل، ہندوستان اور دوسری ”ابھرتی معیشتوں‘‘ کا بڑا حصہ بنے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس جدید ٹیکنالوجی کو نجی ملکیت سے نکال کر انسانی فلاح کے لئے استعمال کیا جائے تو مزدور کی محنت کے اوقات کار نہ صرف کم ہو سکتے ہیں بلکہ وہ اپنی سہل زندگی میں فن، مصوری، موسیقی، کھیل، فلسفہ جیسے ہر اس شعبہ میں کام کر سکتا ہے جس سے تعلق محنت کش طبقے کے نصیب سے اس نظام زر نے چھین لیا ہے۔ مارکسزم نے ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہا ہے کیونکہ جس ”مانگ کے خاتمے‘‘ پر مبنی معاشرے کو مارکس نے کمیونسٹ سماج کا نام دیا ہے وہ اس کے بغیر تعمیر ہی نہیں ہو سکتا۔ انسانی محنت سے بنائی ہوئی یہ ٹیکنالوجی انسان کی نجات کا ذریعہ ہے نہ کہ چند دولت مند افراد اور کارپوریشنوں کی بدکار عیاشی اور جبر و استحصال کا۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسزم کے بنیادی اصول اور نظریات آج کے عہد میں مارکس کے وقت سے زیادہ درست ثابت ہوتے ہیں۔ جب تک سماجی ترقی اور تاریخ کسی نظریے کو مسترد نہ کرے‘ افراد اور ظالم ریاستیں ان کو ختم نہیں کر سکتیں۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker