ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

بنگلہ دیش میں طلبہ کی بغاوت… (2):جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

اکثر خواتین مزدوروں کو ماہانہ صرف 37 ڈالر اجرت ملتی ہے‘ جو مہنگائی کی وجہ سے مزید گھٹتی جاتی ہے۔ اربوں ڈالر کی اس صنعت میں کام کرنے والے مزدور انتہائی غربت میں زندگی گزارتے ہیں اور اکثر اپنے بچوں کے ساتھ فاقے پر مجبور ہیں۔ مالکان قوت محنت کی قدر (اجرت) کو کم رکھنے اور قدرزائد کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے مختص یومیہ اوقات کار کو زیادہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے بنگلہ دیش اور متعدد سابقہ نوآبادیاتی ممالک کے حالات انیسویں صدی کے محنت کشوں کے حالات سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ جیساکہ مارکس نے ‘سرمایہ‘ میں لکھا تھا‘ ”کام کا دن پورے 24 گھنٹے کا ہے ‘جس میں سے آرام کے کچھ گھنٹے نکال دئیے جاتے ہیں‘ جس کے بغیر مزدور دوبارہ کام کے قابل ہی نہیں رہے گا‘لیکن قدر زائد (منافع) کی بے قابو حرص میں سرمایہ کام کے دن کی نہ صرف اخلاقی ‘بلکہ تمام تر طبعی حدود کو بھی پار کر جاتا ہے۔ وہ جسم کی نشوونما‘ بڑھوتری اور صحتمندی کے لیے درکار وقت کو بھی ہتھیا لیتا ہے۔ وہ تازہ ہوا اور دھوپ کی تمازت حاصل کرنے کے لیے درکار وقت کو بھی چھین لیتا ہے۔ وہ کھانے کے وقفے پر بھی جھگڑتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو اس وقت کو بھی پیداواری عمل میں شامل کرتا ہے‘ تاکہ مزدور کو خوراک صرف اس لیے دی جائے کہ وہ پیداوار کا ذریعہ بنا رہے۔ بالکل جیسے بوائلر کو کوئلہ اور مشینری کو گریس اور تیل دیا جاتا ہے۔ سرمایہ کام کے وقت کی طوالت کے لیے کسی چیز کا خیال نہیں رکھتا۔ اس کے لیے واحد اور اہم چیز یہ ہے کہ ایک یوم میںمزدور سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے۔‘‘
(کارل مارکس‘ سرمایہ جلد 1 صفحہ 178 پروگریس پبلشرز ماسکو)
تمام سابقہ نوآبادیاتی ممالک کی طرح بنگلہ دیش کا حکمران طبقہ وحشیانہ حد تک استحصالی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی بدعنوان اور رجعتی بھی ہے۔ ملک میں متعدد خونی فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں اور جمہوری ناٹک بھی چلتے رہے ہیں‘لیکن سماج میں مستقل عدم استحکام اور انتشار سے بنگالی حکمران طبقے کی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ سماج کی تعمیر میں ناکامی کی غمازی ہوتی ہے۔ سیاست میں فوج کی مداخلت جاری ہے۔ طویل عرصے کی براہِ راست حکمرانی میں فوجی اشرافیہ نے وسیع دولت اکٹھی کی ہے اور معیشت کے بڑے حصے پر قابض ہے۔
بنگلہ دیش کے قیام کے وقت سے ہی وہاں بائیں بازو کی مضبوط روایات رہی ہیں۔ آزادی کے فوراً بعدہی عوام ‘قومی ہیرو‘ شیخ مجیب سے مایوس ہوگئے تھے۔ اس کی عوامی لیگ عوامی حمایت سے محروم اور دھڑے بندیوں کا شکار ہوگئی۔ اقتدار میں آنے کے بعد یہ لوگ بدعنوانی اور اقربا پروری میں غرق ہوگئے اور تمام وعدے بھول گئے۔ قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں‘ جبکہ اجرتیں گر گئیں۔ نیشنلائزیشن سے صرف سیاسی اور ریاستی اشرافیہ کے ٹولوں کو فائدہ ہوا‘ جنہوں نے ان قومی اثاثوں کو خوب لوٹا۔ عوامی لیگ نے صرف اپنے کچھ کاغذی وعدے پورے کیے۔ بنگلہ دیشی طنز نگار احمد سوفا کے الفاظ میں ”ہمارے لیڈر بنگالی زبان کے لیے ہر وقت فلاں اور ڈھمکاں کام کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کی تقریروں کا خلاصہ یہ ہے: بنگالی لوگو! آپ نے آزاد ملک کے لیے بہت سی تکلیفیں جھیلی ہیں۔ بنگلہ دیش ایک خوبصورت ملک ہے اسی لیے ہم اسے ماں کہتے ہیں۔ بنگالی زبان دیوی ماں کی زبان ہے‘ جو اس کے خلاف بات کرے ہم اسے غدار اور پاکستانی جاسوس کہیں گے۔ آپ لوگوں نے بنگالی زبان کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ اگر آزاد بنگلہ دیش آپ کو تن ڈھانپنے کو کپڑے نہیں دے سکتا ‘تو آپ اپنی شرمگاہوں کو بنگالی ثقافت سے چھپائیں اور اگر آپ کو دن میں دو وقت چاول نہیں ملتے ‘تو بنگالی زبان کو انتہائی پیارسے چبائیں۔‘‘
ان حالات میں عوامی لیگ میں ہی موجود طلبہ کے کچھ دھڑوں سمیت بائیں بازو کے گروہوں نے نیشنل سوشلسٹ پارٹی (‘جاتیہ سماج تنترک دل‘ جسے ‘JSD‘ بھی کہا جاتا ہے) بنائی۔ جب مجیب الرحمن اس بائیں بازو کو کچل رہا تھا تو دائیں بازو نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ 15 اگست 1975ء کو امریکہ نواز فوجی افسران نے میجر جنرل ضیاالرحمن کی قیادت میں اسے اور اس کے تقریباً سارے خاندان کو قتل کردیا۔ اس کی بیٹی حسینہ واجد (موجودہ وزیراعظم) اس خونی بغاوت کے وقت کلکتہ میں تھی‘ لیکن نومبر 1975ء میں ایک اور فوجی بغاوت میں ضیاالرحمن کو ہٹا کر گھر میں نظربند کردیا گیا۔ اس کے بعد نیچے سے سپاہیوں کی ایک اور بغاوت‘ جسے منظم کرنے میں ‘JSD‘ نے مدد دی تھی‘ نے نئی فوجی آمریت کا تختہ بھی الٹ دیا۔ ان بائیں بازو کے فوجی افسران کے پاس پوری طاقت تھی۔ وہ فوراً سرمایہ داری کا خاتمہ کرسکتے تھے‘ جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر پڑ سکتے تھے‘ لیکن انہوں نے یہ انمول تاریخی موقع ضائع کردیا۔ مزید المیہ یہ کہ انہوں نے ضیاالرحمن کو چند دن بعد رہا کردیا۔ ضیاالرحمن نے فوراً بائیں بازو کی اس بغاوت کے سوشلسٹ لیڈروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ۔ ابو طاہر‘ جو ‘JSD‘ کا لیڈر اور جنگ آزادی کا ہیرو تھا‘ کو سزائے موت دے دی گئی۔ دوسرے رہنماؤں کو طویل سزائیں دی گئیں۔ خالدہ ضیا‘ ضیاالرحمن کی ہی بیوہ ہے اور آج کی دائیں بازو کی اپوزیشن‘ جس کا جماعت اسلامی اور دیگر رجعتی قوتوں کے ساتھ اتحاد ہے‘ کی سربراہ ہے۔ سالوں بعد جب ابو طاہر کے بھائی فضل سے ایک برطانوی مارکسسٹ راجر سلورمین نے کلکتہ میں ایک ملاقات کے دوران پوچھا کہ انہوں نے اقتدار جنرل ضیا کے حوالے کیوں کیا تو اس نے جواب دیا‘ ”ہم نے سوچا تھا کہ ہم ابھی انقلاب کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہمیں (1917ء کے روس کی طرز پر) ایک عبوری ‘کرنسکی حکومت‘ چاہیے جو انقلاب کی تیاری کرکے اسے مکمل کرے!‘‘ اس طفلانہ نافہمی‘ بلکہ حماقت کی قیمت آج تک بنگلہ دیش کے غریب عوام چکا رہے ہیں۔
لیکن زندگی کی ان تمام تر مشکلات کے باوجود بنگلہ دیش کی حالیہ تاریخ میں نوجوانوں اور مزدوروں نے جبر و استحصال کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے۔ ان میں سے سب سے شاندار اکتوبر 1990ء کی طلبہ سرکشی تھی۔ ریاست کی تمام تر وحشیانہ کارروائیوں کے باوجود ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے اور عہد کیا تھا کہ جب تک جنرل ارشاد مستعفی نہیں ہوتا وہ نہیں جائیں گے۔ اگلے مہینے حکومت نواز غنڈوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی پر حملہ کیا‘ لیکن چند گھنٹوں کی لڑائی کے بعد انہیں کیمپسوں سے باہر نکال دیا گیا۔ لڑاکا مظاہرے اور ہڑتالیں پورے ملک میں پھیل گئیں۔ طلبہ کی سرکشی سے تحریک پکڑنے والے محنت کشوں نے ایک مکمل عام ہڑتال کے ذریعے پورے بنگلہ دیش کو جام کردیا تھا۔ کسان اور زرعی مزدوروں‘ وکلا‘ اساتذہ‘ ڈاکٹروں اور کلچرل ورکروں نے بھی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ بالآخر دسمبر 1990ء میں جنرل ارشاد کو استعفیٰ دینا پڑا‘ اسی طرح گارمنٹ اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں خواتین مزدوروں کی کچھ ہڑتالوں نے بھی پوری دنیا کو اپنی جرات اور دلیری سے ششدر کیا ہے۔ بدترین حالات کار‘ ریاست اور مالکان کے غنڈوں کی دہشت کے باوجود انہوں نے اپنے حقوق کے لیے تمام رکاوٹوں کو عبور کیا۔
دسمبر میں حسینہ واجد کو ایک اور الیکشن کا سامنا ہے۔ 2014ء کے انتخابات میں عوامی لیگ نے قبل از انتخابات دھاندلی کا سہارا لیا تھا۔ دائیں بازو کی اپوزیشن بنگلہ دیش نیشنل پارٹی‘ جس کی قیادت سابقہ فوجی آمر کی بدعنوان بیوہ خالدہ ضیا کر رہی ہے‘ نے انتخابات کو غیرقانونی قرار دے کر بائیکاٹ کیا تھا۔ نتیجتاً بہت کم لوگوں نے ووٹ ڈالا۔ عوامی لیگ نے 300 میں سے 280 نشستیں جیت لیں‘ لیکن اس بار حسینہ واجد کی راہ میں حکمران طبقات کی بدعنوان ”اپوزیشن‘‘ حائل نہیں ہے۔ بنگلہ دیشی سماج میں پھیلی یہ بے چینی ایک وسیع عوامی بغاوت میں بدل کر استحصالی طبقے کی ان دو جابر خواتین کی حکمرانی کے چکر کو ختم کرسکتی ہے۔ موجودہ طلبہ بغاوت ایسی انقلابی اتھل پتھل کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker