ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

افغانستان کی دلدل:جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

پچھلے چند ہفتوں سے افغانستان میں گھمسان کا رَن پڑا ہوا ہے۔ امریکی سامراج کی سربراہی میں نیٹو فوجوں کی جارحیت اور افغانستان پر قبضے کے 17 سال بعد خانہ جنگی اور تشدد آج بھی اپنی انتہاؤں پر ہیں۔ ”طالبان‘‘ یا جو بھی گروپ ”افغان قومی فوج‘‘ اور سامراجی عسکری طاقتوں کے خلاف برسر پیکار ہیں‘ ان کے حملوں میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے۔ بروز ہفتہ‘ 25 اگست کو‘ جلال آباد حملے میں 7 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے جس میں قندوز میں افغان سرکاری فوجوں کی شکست، سو سے زائد فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے اور جنگی قیدی بنائے جانے کے واقعے کے نتیجے میں غزنی پر ”طالبان‘‘ کے قبضے، پانچ دن تک افغان اور امریکی فوجوں کو مزاحمت پیش کرنے کے بعد رضاکارانہ طور پر اس قبضے کو چھوڑنے کے واقعات شامل ہیں۔ یہ اس جنگی مزاحمت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور شدت کا ایک نمونہ ہے۔
اسی طرح شاید ہی کوئی ایسا دن ہو کہ کابل شہر کے کسی سرکاری یا غیر سرکاری ٹھکانے کو حملوں کا نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔ علامتی لحاظ سے اہمیت کا حامل حملہ کابل کے صدارتی محل پر کیا گیا‘ جس سے کابل اور افغانستان حکومت کی سکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کی قلعی کھل گئی۔ واشنگٹن اور لندن کے ایوانوں میں اس حوالے سے شدید ہلچل اور بے انتہا تشویش پائی جا رہی ہے۔ عراق کے بعد افعانستان میں بھی سامراجیوں کو جارحیت کے سترہ سال گزارنے کے باوجود صرف شکست کا ہی سامنا ہے۔ سامراجی طاقتوں خصوصاً امریکہ نے افغانستان میں اربوں ڈالر گولہ بارود کی تباہ کاریوں اور اپنی بغل بچہ ”جمہوریت‘‘ اور حکومتوں کو استوار کرنے کے لئے صرف کیے۔ امریکی سامراج نے صرف افغانستان کی قومی فوج کو مسلح اور تربیت دینے پر 6.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس فوج کی حالت آج طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی نا گفتہ بہ ہے۔ اس میں نہ تو ڈسپلن ہے اور نہ ہی مقامی فوجیوں کی وفاداریوں پر سامراجی اور ان کی کٹھ پتلی حکومت‘ دونوں کوئی اعتماد یا اعتبار کر سکتے ہیں۔ ان فوجیوں کے امریکی افسران کو قتل کرنے اور بھگوڑے ہو کر طالبان اور ”دوسری قوتوں‘‘ کے مختلف گروہوں میں شامل ہونے کے واقعات کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس فوج میں بڑے پیمانے پر مالیاتی اور دوسری ”اقسام‘‘ کی بد عنوانی پائی جاتی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں سے ”یُو ٹرن‘‘ لیتے ہوئے افغانستان سے فوجیں نکالنے کی بجائے جرنیلوں کے اسرار پر مزید فوجیں بھیج دی ہیں۔ اب افغانستان امریکہ کے لئے ایک ایسا پھندا بن چکا ہے جس کو نہ تو وہ گلے سے اتار سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو رکھنے کی اذیت برداشت کر سکتے ہیں۔ وہ ایک اندھی کھائی میں گر چکے ہیں اور ان کی سامراجی طاقت کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ کرزئی سے لے کر اشرف غنی تک ان کے کٹھ پتلی حکمران بھی ان کی اس بے بسی پر کبھی کبھی شیر بن جاتے ہیں۔ کرزئی نے اپنی صدارت کے دوران بھی اور دستبرداری کے بعد بھی انتخابات میں دھاندلی اور بد عنوانی پر تنقید کے جواب میں امریکہ کو ہی اپنے لفظی عتاب کا نشانہ بنایا۔ اشرف غنی اور شمالی اتحاد کے عبداللہ کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ہی موجودہ سیٹ اپ ٹوٹنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ پھر اوبامہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کابل آ کر دونوں کی منتیں کر کے ان کو سطحی طور پر راضی کروایا تھا۔ ایک مصنوعی انتظامی ڈھانچہ جس میں اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بنے۔ لیکن ایسی جعل سازیوں سے بھلا اتنے سنگین مسائل اور تنازعات کیسے حل ہو سکتے ہیں؛ چنانچہ اس ”صلح‘‘ کے بعد بھی تناؤجاری رہا‘ اور اس وقت افغانستان کی سامراجی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت شدید نسلی اور قوم پرستانہ منافرتوں اور تضادات سے دراڑ زدہ اور کھوکھلی ہو چکی ہے۔ یہ کسی ایک پالیسی پر بھی مشترکہ لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ امریکی بوٹوں کے جبر کے تلے لڑکھڑا رہی ہے۔ افغان نیشنل سکیورٹی چیف حنیف اتمار کے ”کلیدی پالیسیوں پر شدید اختلافات‘‘ پر مستعفی ہونے سے یہ داخلی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ سامراجی سنگینوں کے سائے تلے جمہوریت کا پرچار کرنے والوں کو شرمندگی اٹھانا پڑ رہی ہے۔
افغانستان‘ جو صدیوں سے سامراجیوں کی ”گریٹ گیموں‘‘ کا اکھاڑہ بنا رہا‘ اب ماضی کی نسبت ایک زیادہ پُر تشدد گریٹ گیم کا شکار ہے۔ اس خطے کی کچھ ریاستیں اس کھلواڑ میں براہِ راست مداخلت کر رہی ہیں۔ بھارتی رجعتی ریاست نے بھی مداخلت کی کافی کاوش کی لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ اس کا اثر و رسوخ اور مداخلت شکست خوردگی کا شکار ہو کر اس نئی گریٹ گیم سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی سامراجی چند یورپی سامراجیوں کی حمایت سے ظاہری طور پر حاوی ہیں اور ان کی فوجیں سرکاری طور پر موجود ہیں‘ لیکن باقی مداخلت کار ریاستوں کی بالواسطہ فوجی کارروائیوں میں حصہ داری بھی چل رہی ہے۔ مداخلت کرنے والی سبھی ریاستوں کے مفادات افغانستان کے معدنیات کے ذخائر اور اس کی جغرافیائی سٹریٹیجک پوزیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب اس میں سبقت لینے کے لئے سرگرم ہیں۔ امریکی سامراج کے بھی طالبان کے مختلف گروپوں سے رابطے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق داعش کو امریکیوں نے ہی اپنے جنگی مفادات کے لئے افغانستان میں متعارف کروایا ہے۔ امریکہ کی فوجی قوت کا موجود رہنا شاید اس لیے ضروری تصور کرایا جاتا ہے کہ وہ روس چین ایران اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر اور کنٹرول کو زائل کر سکیں‘ لیکن دیکھا جائے تو آج کل مذکورہ چاروں ریاستوں سے امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایسے میں امریکی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ تاریخ کا مکافاتِ عمل ہے کہ سامراجی قبضے کے بعد اب روسی حکمران افغانستان میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لئے میدان عمل میں ہیں۔ اگلے ماہ روس نے افغانستان پر امن مذاکرات کی ایک اہم کانفرنس طلب کی تھی۔ اس میں طالبان کے چند اہم گروہوں کی شمولیت کے قوی امکانات تھے۔ شاید اسی لیے افغانستان کی غنی حکومت نے ان مذاکرات میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ وہ روس کے بڑھتے ہوئے غلبے کی وجہ سے اس کانفرنس سے نالاں اور ایک طرح سے حسد کا اظہار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مذہبی جنونی اور فرقہ پرست طالبان گروپوں میں بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ طالبان نہ کبھی کوئی یکجا قوت تھے اور نہ کبھی بن سکتے ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد افغانستان میں اس وقت نسلی اور قوم پرستانہ تضادات حاوی ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ کابل کو ان تنازعات کے تصادم سے تاراج ہونے کا خطرہ ہے۔ اس جنگی گھن چکر میں متحارب قوتیں اس قدر پِٹی ہوئی ہیں کہ ان کے تحت نہ تو کوئی جنگ جیتی جا سکتی ہے‘ اور نہ ہی کوئی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ کالے دھن اور مالیاتی سرمائے کا تضاد ہر جنگی یا امن کی کاوش کو تار تار کر دیتا ہے۔
افغانستان میں پہلی مرتبہ 1978ء میں ایک ایسی تبدیلی آئی تھی‘ جس نے افغانستان کے عوام کے لئے بے پناہ انقلابی اقدامات اور اس ملک کو یکجہتی، سالمیت، آزادی اور خود مختاری دینے کا اظہار کیا تھا۔ یہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی قیادت میں اپریل 1978ء کا ”ثور‘‘ انقلاب تھا۔ نور محمد تراکئی نے صدر بننے کے بعد افغانستان کی نسل در نسل پسنے والی خلق کی نجات کے لئے جو اقدامات شروع کیے تھے‘ وہ سامراجیوں اور خطے کی دوسری ریاستوں کے لئے اپنے ممالک میں عوامی بغاوتوں کا خطرہ بن رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں رد انقلاب جہاد کا آغاز ہوا۔ اس سے جنم لینے والی دہشت گردی نے پورے مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں مذہبی جنون سے وحشت اور درندگی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ سامراجیوں کو اپنے اس جرم کے تاریخی مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج بھی افغانستان میں اُسی طرز کے انقلاب کی ضرورت ہے۔ باقی تمام راستے ناکامی اور بربادی کی طرف جاتے ہیں۔ لیکن آج کے ثور انقلاب کو غلطیوں سے پاک اور زیادہ متحد ہونا ہو گا۔ یہی انقلاب پورے خطے کے محنت کشوں کو طبقاتی جدوجہد میں یکجا کر کے اس سارے نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے سامراجی جارحیتوں اور مذہبی دہشت گردی کو حتمی شکست دے سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker