ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

مارکسزم سے خائف ’’کمیونسٹ‘‘ اشرافیہ!۔۔جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

دنیا بھر میں چین کی ترقی کا بہت شور ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ چین کی اس ترقی کو ”چینی کمیونزم‘‘ یا ”چینی خصوصیات‘‘ کے ساتھ سوشلزم یا پھر اس سے بھی زیادہ ”منڈی کا سوشلزم‘‘ گردانا جا رہا ہے۔ چین کی ”کمیونسٹ‘‘ پارٹی میں دنیا بھر کی کسی بھی برسر اقتدار پارٹیوں سے زیادہ کھرب پتی پائے جاتے ہیں۔ اگر مارکس کی کوئی روح ہوتی تو لندن کی ہائی گیٹ سیمنٹری (قبرستان) میں اپنے خاندان اور کامریڈوں کے ساتھ مشترکہ قبر میں ضرور تڑپ اٹھی ہوتی‘ کیونکہ سوشلزم اور کمیونزم کے ساتھ منڈی کو جوڑنا‘ آگ اور پانی کا ملاپ کروانے کے مترداف ہے‘ یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کرنے کی کاوش! چین کی سابقہ افسر شاہی اور موجودہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ نے اپنے محنت کش عوام کو دبایا اور انہیں ذہنی طور پر کمیونزم اور سوشلزم کے نعروں سے مضطرب اور متذبذب کر کے رکھ دیا ہے۔
امسال 5 مئی کو کارل مارکس کا 200واں یوم پیدائش تھا۔ مارکس اسی دن جرمنی کے شہر ٹریر میں 1818ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس ”تاریخی‘‘ موقع پر چین کی اشرافیہ نے اپنے کمیونسٹ اور مارکسسٹ ہونے کے لبادے کی عالمی طور پر زیادہ تشہیر کرنے کے لئے مارکس کا تقریباً 17 فٹ اونچا اور تین ٹن وزنی مجسمہ اس شہر میں نصب کرنے کے لئے تحفے کے طور پر پیش کیا۔ عالمی طور پر مجسمہ سازی کے ماہرین نے اس مجسمے کو نہایت ہی بھدا قرار دیا ہے۔ شاید یہ اسی قسم کے مارکسزم کی غمازی کرتا ہے جس کی مسخ شدہ شکل کو چینی اشرافیہ اپنی دولت کے اجتماع کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ لیکن پھر چین میں اصل حاکمیت بھی تو اسی ”نظریے‘‘ کے نام پر کی جا رہی ہے۔ اس لیے کارل مارکس کے 200 ویں یوم پیدائش کے جشن کے لیے پرچین کے ‘ عظیم لیڈر‘ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور صدر شی چن پنگ نے چین کی معروف پیکنگ یونیورسٹی میں پارٹی کے 300 اعلیٰ ترین لیڈروں کی ایک گرینڈ کانفرنس کو ”سٹڈی سیشن‘‘ کے نام پر منعقد کیا۔ اس جشن کے خاتمے کے بعد چین کی حکمران اشرافیہ پھر اپنے کاروبار اور ریاستی امور میں مصروف ہو گئی‘ لیکن پیکنگ یونیورسٹی میں نوجوان طالب علموں کی ”مارکسسٹ سوسائٹی‘‘ کو بند کرنے کے اندیشے سر اٹھانے لگے۔ اس فیکلٹی کے سپروائزر کو بر طرف کر دیا گیا اور کسی نئے ”استاد‘‘ کی تقرری کی گئی۔ اس مارکسسٹ سوسائٹی کے طلبہ نے آخر کار اس نظام سے بد ظن اور اقتدار سے دور حقیقی مارکسسٹ استاد تلاش کر لیا‘ اور ریاستی جکڑ سے آزاد ”غیر قانونی‘‘ طور پر مارکسزم کی تعلیمات پر سٹڈی سرکل کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ”کمیونسٹ‘‘ حکام نے جلد ہی اس کو بند کروانے کے احکامات صادر کر دیئے۔ اگلے دن 22 ستمبر کو چین کے مشرقی شہر کی نانجنگ یونیورسٹی کی مارکسسٹ سوسائٹی پر بندشیں لگانا شروع کر دی گئیں۔ یہی کچھ بیجنگ کی دوسری یونیورسٹیوں میں ہونا شروع ہو گیا۔ لیکن سرگرم مارکسی نوجوان کارکنان وہی مارکسی پرچم لہراتے ہیں‘ جو پارٹی کی سرکاری تقریبات میں لہرائے جاتے ہیں‘ تاہم فرق یہ ہے کہ مارکسی سوسائٹیوں کے طلبہ اپنے نظریات کو معاشرے کی پچھڑی ہوئی پرتوں کے افراد اور محنت کش طبقے کی مزاحمتوں اور مطالبات کو تحریکوں میں بدلنے کے لئے سرگرم ہیں‘ جبکہ انہی نظریات کا ناٹک کرنے والی اشرافیہ تنقید کرنے والوں اور محنت کشوں کو کچلنے کے جواز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں پیکنگ یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم اور مارکسی سوسائٹی کے سرخیل لیڈر ژیانگ ین فن کو ایک مارکسی سٹڈی سیشن کے دوران گرفتار کر لیا گیا‘ اور اسے چھ ماہ کی قید با مشقت میں ڈال دیا گیا تھا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ چین کی نئی نسل میں مارکسزم کے اس احیا سے حکمران کمیونسٹ اشرافیہ لرز رہی ہے‘ اور نظریاتی سٹڈی سرکلز کی پھیلی ہوئی اس تحریک سے خائف ہے۔
2018ء کے آغاز پر چین کی درجنوں یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ نے مزدوروں کی ابھرتی ہوئی ہڑتالی لہر کی حمایت کر دی تھی۔ ان میں طلبہ اور مزدوروں کی سب سے بڑی تحریک چین کے جنوب مشرقی شہر شین زن (Shenzhen) میں یونین بنانے کے جرم کی پاداش میں بر طرف کردہ مزدوروں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی شکل میں ابھری۔ ان تحریکوں میں سرگرم طالب علموں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ مزدوروں کی ہڑتالوں میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 2017ء میں 27000 سے زائد ہڑتالیں ہوئیں جن میں سے اکثر نے بڑے پیمانے پر رعایتیں حاصل کر لی تھیں۔ پیکنگ یونیورسٹی کے طلبہ کا یہ کہنا تھا کہ ان کی مارکسسٹ سوسائٹی کی بندش کی بڑی وجہ حکام میں شین زن کے واقعات کا خوف اور اس کا رد عمل تھا۔ پیکنگ یونیورسٹی کی سوسائٹی کو بحال تو کر دیا گیا لیکن ایک ناقد مارکسسٹ کی جگہ ”سرکاری مارکسسٹ‘‘ کو اس کا انچارج لگا دیا گیا تاکہ اس اشرافیہ کے خلاف کسی قسم کی کوئی بغاوت نہ پنپ سکے۔ ان نوجوان طلبہ کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مارکسزم کو سنجیدہ اور ایک سائنسی سچائی کے طور پر لیا اور اس کو انقلاب کی جدوجہد میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے‘ جو اشرافیہ کے لئے زہرِ قاتل بن سکتا تھا۔ اس گروپ کے افراد اب سرکاری لسٹوں میں آ گئے ہیں‘ اور کوئی بھی ”نامناسب‘‘ ”حرکت‘‘ ان کو پابند سلاسل کروا سکتی ہے۔ ”پارٹی‘‘ صرف حقیقی مارکسسٹوں سے خوفزدہ نہیں ہے بلکہ وہ پیکنگ یونیورسٹی کی بغاوتوں اور حاکمیت کے خلاف تحریکوں کو تحرک دینے کی تاریخی روایات سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہاں طبقاتی جدوجہد کی تاریخی انقلابی روایات ملتی ہیں۔
ایک صدی قبل اسی پیکنگ یونیورسٹی میں جب مارکسسٹوں نے سٹڈی سرکل کا آغاز کیا تھا تو اس میں اسی یونیورسٹی کا لائبریرین ایک اہم شریک رکن تھا‘ جس کا نام ماؤزے تنگ تھا۔ گو چین کی کمیونسٹ پارٹی 1920ء میں پیرس میں چو این لائی کے فلیٹ میں بنی تھی‘ لیکن صرف 4 سال بعد ہی یہ 1924-25ء کے انقلاب کی قیادت میں آ گئی تھی‘ تاہم ماسکو کی افسر شاہی کی غلط پالیسیوں اور مشوروں سے اس نے قوم پرست چینی لیڈر چیانگ کائی شیک کی غیر مشروط حمایت کر دی تھی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیک نے جاپانیوں سے لڑنے کی بجائے پہلے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے تقریباً 80,000 کارکنان کا قتل عام کروایا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے پہلے لیڈر اور جنرل سیکرٹری چن ڈوشو کو اس پالیسی اور مشورے کی مخالفت پر ماسکو نے ہی پارٹی سے معزول کروا دیا تھا۔ اس وقت پارٹی کے خزانچی ‘ماؤزے تنگ‘ سمیت قتل عام سے بچ جانے والے دیہی چین میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے‘ لیکن باقی ٹاپ قیادت کے تحلیل ہونے سے ماؤنے قیادت سنبھالی اور وہ تحریک شروع کی جو تقریباً 20 سال بعد 1949ء کے انقلاب میں فتح یاب ہوئی اور کمیونسٹ پارٹی نے پرانی ریاست توڑ کر ایک نئی معیشت اور ریاست کی داغ بیل ڈالی۔
1949ء کے انقلاب کی کامیابی کا حتمی سہرا بھی نانجنگ، شین زن اور شنگھائی کے مزدوروں کے سر جاتا ہے‘ جنہوں نے فیکٹریوں پر قبضے کرکے معیشت اور معاشرے کو جام کر دیا تھا‘ جو چیانگ کائی شیک کی شکست اور انقلاب کا فیصلہ کن عنصر ثابت ہوا‘ لیکن مزدور جمہوریت کے فقدان سے چین میں ایک مسخ شدہ انقلابی ریاست بنی جس کی معیشت تو سوشلسٹ تھی‘ لیکن سیاسی کنٹرول بیوروکریٹک تھا۔ اس سوشلسٹ معیشت کے بل بوتے پر بننے والا معاشی ڈھانچہ تیزی سے ترقی کرنے لگا‘ جس نے چین میں تعلیم‘ علاج اور انفراسٹرکچر قائم کر کے وہ بنیادیں استوار کیں‘ جن سے چین آج کی معاشی طاقت بنا ہے۔ لیکن 1978ء کی سرمایہ دارانہ بحالی‘ یہاں تک ماؤ اور چو این لائی سے بھی غداری تھی۔ کمیونزم اور مارکسزم کے نام کو استعمال کرکے جبر کے ذریعے ارب پتی بننے والے ان کمیونسٹوں کو جس تاریخ کے مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اس میں ہراول کردار اور کوئی نہیں بلکہ نئی نسل کے یہ مارکسسٹ اور کمیونسٹ ہی ادا کریں گے۔ چینی سرمایہ داری کے خاتمے سے ایشیا اور دنیا بھر میں انقلابی سوشلزم ایک طوفان کی طرح پھیل جائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker