ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ہوگی اِک دعوتِ شیراز۔۔ڈاکٹر صغرا صدف

دعوت شیراز کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ تکلف جس رشتے، رویے یا شے میں شامل ہوجائے اسے پھیکا اور بے مزہ کر دیتا ہے۔ شیراز کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ بے تکلف سمجھے جاتے ہیں۔ ملاقاتی یا مہمان کو کھانے پینے میں جو حاضر ہو وہ پیش کر دیتے ہیں۔ بے تکلفی کا یہ عنصر سامان اور اسباب کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاص دوستی اور اپنائیت کی وجہ سے بے حد اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ان کی میز پر بَھلے ڈشیں کم ہوں مگر اپنائیت اور محبت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی بے تکلفانہ رویے کو دعوتِ شیراز سے یاد کیا جاتا ہے۔
روز مرہ زندگی کے ہنگاموں میں ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کتنی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ جب وہ چیزیں اور عام روٹین ہم سے چھن جاتی ہے تو ان کے ہونے کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں کے دوران ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں اور واقعات میں بڑی بڑی خوشیاں نظر آنے لگیں بلکہ وہ چیزیں بھی غنیمت نظر آنے لگیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سنجیدہ ہو کر نہیں سوچا تھا۔ لاہور کا مزاج لاہور کی خاص مجلسی زندگی میں منعکس ہے۔ علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ ہر روز کہیں کسی دوست عزیز کے ہاں کھانا اور تقاریب کے ہنگامے جاری رہتے ہیں۔ یہ ہنگامے ہی زندگی کا حسن ہیں اور اس حقیقت سے پوری دنیا گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران اچھی طرح روشناس ہوچکی ہے۔
بے چارگی اور تنہائی کے ڈپریشن بھرے دنوں میں ایک کتاب نے نہ صرف مجھے ہنسنے پر اکسایا بلکہ امید، روشنی اور رجائیت کے رستے کی طرف کھلنے والی کھڑکی کی طرف رہنمائی کی۔ قید و بند سے ٹھیک ایک مہینہ پہلے یہ کتاب شائع ہو کر صاحب کتاب کے ہر دوست، عزیز اور رشتے دار تک پہنچ چکی تھی۔ شاید قدرت کی طرف سے ہم جیسے حساس لوگوں کے دل بہلانے، ہمت مجتمع رکھنے اور زندگی کے بھاری لمحوں میں لطافت کا احساس دلانے کیلئے گھر کے شیلف پر یہ کتاب اپنے دلکش سراپے کے ساتھ موجود تھی۔ اس کو پڑھتے ہوئے میں نہ صرف ہنسی ہوں بلکہ بھولی ہوئی زندگی سے ملی ہوں۔ خوف زدہ قہقہے کو آزاد کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔ میرے احساس نے اس میں نمکین اور میٹھا دونوں ذائقے محسوس کیے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشات، رشتے ناتے، شاعری، افسری اور ناقابل بیان رویے۔ بابونگر سے دعوت شیراز کا سفر حسین شیرازی کا ایک بھرپور ادبی سفر ہے۔ یہ دو کتابیں ایک پورے عہد کی عکاس ہیں۔ مختلف طبقات میں بٹی معاشرتی حیات کا نفسیاتی تجزیہ ہیں۔ صاحب کتاب معاشرے کے مختلف کرداروں کی نفسیات سے خوب آگاہ ہے۔ اس کے تخیل نے یہ کردار تخلیق نہیں کیے بلکہ وہ ان میں زندہ رہا ہے، ان سے مکالمہ کرتا رہا ہے۔ یہ اس کا مشاہدہ بھی ہے اور تجربہ بھی۔ سنی سنائی باتیں بالکل بھی شامل نہیں کی گئیں ماسوائے موقع و محل کو اُجالتے شعروں کے۔ اسی لئے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک عجیب سی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ کتاب دعوت شیراز میں وہی اخلاص اور اپنائیت ہے جو کھانوں میں روا رکھی جاتی ہیں۔ کتاب کا نام دو حوالوں سے اہم ہے۔ ایک تو مصنف کے آباء کا تعلق شیراز شہر سے ہے، دوسرے قاری کو وہ دعوتِ شیراز واقعتا بھلی لگتی ہے جس میں دسترخوان پر کارٹون بھی ہوں، مسکراہٹیں بھی، قہقہے بھی ہوں، دبی دبی ہنسی بھی اور گہرا طنز بھی۔ اپنائیت، شائستگی اور درویشی کی دولت حسین شیرازی کو اپنے آبا ؤ اجداد سے ورثے میں عطا ہوئی ہے۔ 16 ویں صدی میں ہمایوں جب دوسری بار شکست کھا کر ایران گیا تو اس نے جیت کیلئےنئی حکمت عملی مرتب کی۔ ایران سے حملے کی غرض سے نکلتے ہوئے وہ ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ روحانی طاقت کے لیے اُس وقت کے ولی بزرگ سید احمد کو بھی ساتھ لے کر آیا۔ جن کی دعا اور ہمایوں کی تدبیر کی دوا سے فتح اس کا مقدر ہوئی۔ شیراز سے آنے والے یہ بزرگ سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں آباد ہوگئے۔ تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ کے حسن اخلاق سے سینکڑوں لوگ دائرہ محبت میں شامل ہوئے۔ انیس سو پینسٹھ میں سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے امن اور آشتی کے پرچارک اِس گاؤں نے وحشت اور تخریب کا منظر دیکھا بھی اور جھیلا بھی۔ شدید گولہ باری سے در و دیوار سائے سے محروم ہوگئے، سائبان اُجڑ گئے، خلقت بکھر گئی۔ حالات بہتر ہوئے تو پھر سے رونقیں جگمگا اٹھی۔ اسی خان پور سیداں گاؤں میں انیس سو سینتالیس میں پیدا ہونے والے ادیب حسین احمد شیرازی نے مزاح میں اپنی ایک الگ راہ نکالی اور ایک خاص اسلوب کے حامل ٹھہرے۔ اِن کی آمد سے قبل پاکستان میں مزاح کے حوالے سے بہت اعلیٰ ادب تخلیق ہو چکا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی سے لے کر عطا الحق قاسمی تک دلفریب رنگ سماعتوں، یادداشتوں اور لہجوں میں گھل چکے تھے۔ اتنے بڑے اور نامور لوگوں کی موجودگی میں مزاح کے میدان میں ایک نیا راستہ نکالنا اور اس کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرا لینا شیرازی صاحب کی بڑی کامیابی ہے۔ موقع ملے تو اُن کی تازہ وارداتوں اور شرارتوں سے لبریز کتاب ’’دعوتِ شیراز‘‘ پڑھئے اور کچھ پل مسکرا لیجئے۔ اُس دن کی منتظر ہوں جب حالات اِس قدر بہتر ہو جائیں گے کہ دوست احباب ایک دوسرے کی طرف آنے جانے سے کترانے کی بجائے بلاتکلف آئیں جائیں گے اور ان کے دستر خوان سے بھی مستفید ہوں گے۔ لفظوں میں دلگداز جذبے سمونے والی شاعرہ رخشندہ نوید لکھتی ہیں
بس یہی سوچ کے میں بھوکی رہی کتنے دن
ہوگی اِک دعوتِ شیراز کہیں اس کے ساتھ
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker