ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

بے حِس معاشرہ۔۔ڈاکٹر صغرا صدف

میرے لفظ گم ہوگئے ہیں، میری آواز کھو گئی ہے، میں چیخنا چاہتی ہوں، زور سے رونا چاہتی ہوں، دہائی دینا چاہتی ہوں، ماتم کرنا چاہتی ہوں، شہر کی سڑکوں پر تماشائی بن کر گزرنے والے لوگوں کو پتھر مارنا چاہتی ہوں کہ ان کا ضمیر جاگے، وہ اپنی روٹین لائف کی لکیروں سے نظر ہٹا کر بھی کچھ دیکھیں۔ وہ جو روبوٹوں کی طرح صبح سے شام تک میکانکی زندگی گزارتے ہیں، جن کو صرف اپنے نفع و نقصان کی فکر ہے، ان کی مخمور توجہ کو ہوش میں لا کر بتانا چاہتی ہوں کہ معاشرے اجتماعی کاوشوں سے انسانی قدروں کے حامل بنتے ہیں۔ کوئی بھی گورنمنٹ، کوئی بھی حکمراںقوانین کی لاٹھی سے لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں انسانیت اجاگر نہیں کر سکے، اس کے لئے پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ نہ جانے ہمارے ملک میں کیسی فضا چل پڑی ہے، نہ معصوم بچیاں محفوظ ہیں نہ بچے اور نہ ہی عورتیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب کسی معصوم کے ساتھ ہونے والی اذیت ناک زیادتی کا ذکر اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر نظر نہ آئے۔ یہ واقعات روزمرہ کے واقعات کیوں بنتے جا رہے ہیں۔ سوشل سوسائٹی انہیں نظرانداز کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہے۔ دن بدن شر انگیز ذہنوں کی توجہ ایک آسان ٹارگٹ کی طرف مبذول ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ادھ کھلے پھول کی زندگی اذیت سے گزار کر سگریٹ کی طرح پاؤں تلے مسل کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی جاتی ہے۔ ہم خبر پڑھتے ہیں اور فراموش کر دیتے ہیں لیکن ہمارے شعور میں یہ دکھ چوکڑی مار کر بیٹھ جاتا ہے اور ہماری زود رنجی کا سبب بنتا ہے۔
ہر سیاسی جماعت میں کچھ خوش عقیدہ لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت، اصول پسندی اور انسانی قدروں کی سربلندی کی وجہ سے ہر جماعت بلکہ دنیا کے لئے محبت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ ان کی ذات کڑی دھوپ میں سائے کی طرح ہوتی ہے۔ لوگ انہیں نجات دہندہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ ان کی آواز مظلوموں کی آہ میں شامل ہو کر للکار بن جاتی ہے۔ شیریں مزاری بھی ایک ایسی ہستی ہیں جو برسوں سے انسانیت کا استحصال کرنے والے معاشرے کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی طرح شیریں مزاری نے یہ طے کر رکھا ہے کہ انسان کے استحصال اور خصوصاً عورتوں کے استحصال پر کبھی بھی خاموش نہیں رہنا۔ بارہا انہوں نے اپنی جماعت کے لوگوں کے مؤقف سے متضاد بات کی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کے اعتراض کو سراہا گیا اور ان کی تجاویز کو مانا گیا۔ موٹر وے کے دلخراش واقعے پر ان کے دبنگ لہجے نے جمود کے شکار ماحول میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ لوگ بولنے اور سوچنے لگے ہیں ورنہ ہمارے اعصاب پر بے بسی اور بے حسی کی وہ چادر تنی ہوئی تھی کہ جس میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شیریں مزاری کی مختصر تقریر سے ہمارے حوصلے دوبارہ مجتمع ہو گئے ہیں۔ عورتوں اور بچوں سے زیادتی وبا کی طرح پورے ملک میں پھیلتی جا رہی ہے۔ بچوں کے لئے ہم نے یہ ملک قید خانہ بنا دیا ہے۔ اب وہ آزادی سے گلیوں میں کھیل سکتے ہیں نہ بے فکری کی زندگی انجوائے کر سکتے ہیں۔ ہم نے وقت سے پہلے انہیں عجیب تفکرات سے متعارف کرا دیا ہے۔ ایسی خدشات سے بھری نصیحتیں جو ہم نے اپنے بچپن میں کبھی نہیں سنی تھیں ان کے دامن سے باندھ دی ہیں۔ شیریں مزاری نے سماج کے اجتماعی شعور کے دروازے پر دستک دی ہے۔ قوانین بنانے اور رائج کرنے تک محدود رہنے والوں کو رویے بدلنے کی صلاح دی ہے۔ عورت ایک فرد ہے۔ اس کی ذات اس کی شناخت ہے۔
آج کی عورت خود بہن، بیٹی، بیوی اور ماں کے کردار تک محدود رہنے کی بجائے بطور انسان زندگی گزارنے کا حق تسلیم کرے اور ذاتی طور پر جدوجہد کرتے ہوئے معاشرے سے منوائے۔ سماجی قدروں اور رسم و رواج کی بھی ڈرائی کلیننگ کی ضرورت ہے جنہوں نے عورت کے استحصالی بندھنوں کو اخلاقی جواز فراہم کر رکھا ہے۔ جو رشتوں کے نام پر عورت کو بلیک میل کر کے اسے جبر کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جنہوں نے گالی، عزت اور غیرت کو عورت کے پلو سے باندھ کر اسے انسان کی بجائے شے بنا دیا ہے۔ والدین بیٹے اور بیٹی کی پرورش میں ایک معیار اپنائیں اور لڑکی کی ڈھال بننے کی بجائے اسے مضبوط کریں۔ انسانوں کے معاشرے میں عورتوں اور بچوں کو مقید زندگی کی صلاح نہ دیں۔ گلیوں، سڑکوں اور بازاروں کو بھیڑیوں کی رسائی سے محفوظ رکھیں۔ دیگر ممبران کو بھی استحصال کے خلاف شیریں مزاری کی طرح آواز بلند کرنی چاہئے ورنہ یہ معاشرہ جنگل بنتا جائے گا جس میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker