ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:عالم پور کا اعزاز

صوفی سلسلے کے بڑے شاعر مولوی غلام رسول عالمپوری کو زیادہ پذیرائی کیوں نصیب نہیں ہوئی اس حوالے سے کئی جواز پیش کئے جا سکتے ہیں۔ شاید ان کے نام کے ساتھ لکھا ہوا لفظ مولوی کچھ لوگوں کو کھٹکتا ہے۔ مولوی اور صوفی دو مختلف مکتب فکر کے پرچارک ہیں۔ مولانا روم جب تک ایک اچھے خطیب، عالم اور مولوی کے درجے پر فائز تھے انہیں وہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی جو شمس تبریز کی صحبت میں عشق کے مراحل طے کر کے رومی بن کر حاصل ہوئی۔ ہمارے ہاں صوفی اور مولوی دو الگ الگ ضابطوں کے نام ہیں۔ بھلے منزل ایک ہی ہو لیکن طریقہ کار یکسر مختلف ہے۔ مولوی غلام رسول ایک صوفی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ پیدائشی ولی ہیں۔ ان کی ذات اور ان کی تخلیقات کے بارے میں جان کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ کائنات میں ہر قدم پر حیرتیں بکھری پڑی ہیں۔ ایک پھول کی مثال لے لیں۔ اس کی باریکیوں کو دیکھنا اور جاننا، سبز رنگ کے پودے سے سات رنگ کے مختلف پھولوں کا ظہور ہونا ایک معجزے سے کم دکھائی نہیں دیتا۔ کائنات کی حیرتیں انسانوں کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ بھیجے جاتے ہیں جو اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران بھی کرتے ہیں اور مالا مال بھی۔ غلام رسول عالمپوری بھی ایک ایسی ہستی کا نام ہے جن کی پوری زندگی حیرتوں میں ڈوبی ہوئی کہانی ہے اور ان کے بارے میں جاننے والے بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستان بننے سے ایک صدی پہلے پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے گاؤں عالمپور میں جنم لینے والے بچے نے روایتی تعلیم و تربیت کے بغیر فکر کی وہ عمارتیں تعمیر کیں کہ اہلِ دانش اش اش کر اُٹھے۔ وہ عام سا گائوں واقعتاً عالم پور بن کر پورے عالم میں معروف ہو گیا۔ بزرگوں کا زمیندار گھرانے سے تعلق تھا لیکن مولوی صاحب نے کاشت کاری کے لئے دلوں کی زمین کا انتخاب کیا۔ وہ خود قدرت کی طرف سے دھلا دھلایا شفاف آئینے جیسا دل لے کر آئے تھے کہ زمین اور ذہن کی کدورتیں ان پر عیاں ہو جاتی تھیں۔ جو دل حق سے جڑت نہ رکھتا ہو وہ بنجر ہو جاتا ہے۔ مولوی صاحب نے بنجر دلوں کی زرخیزی اور سیرابی کے لئے ایسے لفظ تخلیق کئے جن کے اندر معرفت کے دریا بہتے تھے۔ ان لفظوں کی برکت سے فکر اور احساس میں ایسے درخت اُگے جن کا پھل اور سایہ ہمیشہ کے لئے خوشبو کی طرح پھیلنے والا ہے اور جن کو کبھی خزاں نہیں آتی۔ پنجاب دریائوں کی سرزمین ہے اور اس کے ہر دریا کے ساتھ محبت، عشق اور تصوف کی داستان جڑی ہوئی ہے۔ دریائے بیاس کے کنارے آباد عالم پور اس وقت علم، ادب، دین اور تصوف کا سرچشمہ بن گیا جب غلام رسول عالمپوری نے یہاں آنکھ کھولی۔ ایک کراماتی سلسلہ شروع ہوا۔ پندرہ سال کی عمر میں بیس ہزار اشعار پر مشتمل ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ صرف تین ماہ میں لکھی گئی۔ چوبیس سال کی عمر میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ اشعار پر مشتمل شہرۂ آفاق کتاب ’’احسن القصص‘‘ مکمل کی۔ یہ دونوں کتابیں ان کی زندگی میں ہی شائع ہو کر تحسین کی سند حاصل کر چکی تھیں۔ اس کے علاوہ روح الترتیل (منظوم)، مسئلہ توحید (نثر)، حضور ﷺ کا حلیہ مبارک (منظوم) اور چِٹھیاں شائع ہو چکی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت ان کے کئی قلمی نسخے گم ہو گئے جو ابھی تک بازیافت نہیں ہو سکے۔ تقریباً 43 سال زندہ رہے اور اس عرصے کے دوران انہوں نے جو کام کیا وہ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ سلسلۂ قادریہ سے تعلق رکھنے والے مولوی غلام رسول عالمپوری 7 مارچ 1892ء کو عالم پور میں اس جہان سے رخصت ہوئے اور اسی مٹی میں دفن ہوئے جہاں انہوں نے جنم لیا تھا۔
خود کبھی اسکول نہ گئے لیکن پندرہ سال کی عمر میں اسکول میں باقاعدہ طور پر پڑھانا شروع کر دیا اور اٹھارہ سال تک تدریسی فرائض سرانجام دیئے۔ انیسویں صدی کا دور عجیب تضادات کا دور تھا۔ جب 1857ء کی جنگ ہوئی تو مولوی صاحب تقریباً 9 سال کے تھے۔ انہوں نے یہ تمام منظر نامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا۔ انگریزوں اور ہندوئوں کی چالبازیوں کے باعث مسلمانوں کو جو ظلم و زیادتی سہنی پڑی اور جس بے بسی کا سامنا کرنا پڑا اس نے حساس شاعر کو وقت سے پہلے باشعور بنا دیا۔ اس نے قلم کو ہتھیار بنایا اور اپنی قوم کو منجدھار سے نکالنے کے لئے کمربستہ ہو گئے۔
ہر طبقۂ فکر کے باشعور لوگوں نے اپنے طور پر اس دلدل سے نکالنے کی سعی کی۔ صوفیاء نے ایک الگ طریقہ اپنایا۔ انہوں نے تاریخی داستانوں کے ذریعے نئی نسل میں جذبۂ حریت اور اخلاقی قدریں اُجاگر کیں۔ مولوی صاحب ظاہری علوم میں خاص مہارت نہ رکھنے کے باوجود ایک ایسے عالم تھے جن کا ہر لفظ رمز کی طرح ہے۔ جس میں سے معنی کے جلوس نمودار ہوتے ہیں۔ ان کے دِل پر قدرت مطلق کے جلووں کا عکس تھا۔ وہ سارے علوم جو خدا نے حضرتِ آدم ؑ کی سرشت میں رکھے تھے۔ ولی اپنی فطرت کی سچائی اور رب سے گہرے قرب کے باعث ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتا ہے۔ مولوی غلام رسول کے لئے وہبی نظریات کا آئینہ اتنا صاف بنا دیا گیا تھا کہ لوحِ دل پر ازل کے تحریر کردہ علوم تک رسائی ممکن ہو۔ دس بارہ برس کی عمر سے شاعری شروع کرنے والے مولوی غلام رسول نے پنجابی زبان میں قرأت کے قوائد اور قرآنی معلومات پر کتاب اُنیس سال کی عمر میں تحریر کی۔ مولوی صاحب کے کلام میں حیرتوں کے کئی پہاڑ اور اسرار کے تہہ خانے ہیں۔ مثلاً انہوں نے اتنی ضخیم کتب جو لِسانی اور فکری خوبیوں سے مالا مال ہیں سالوں میں تحریر نہیں کیں بلکہ دنوں اور مہینوں میں مکمل کیں۔ دوسرا ان کی تمام کتب کے نام اس طرح ہیں کہ اگر ان کے اعداد نکالے جائیں تو سنِ تالیف معلوم ہو جاتا ہے۔ احسن القصص اور داستانِ امیر حمزہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ ہندوستانی پنجاب کے باسیوں کو فخر ہونا چاہئے کہ ان کے پاس اتنا بڑا صوفی بزرگ موجود ہے۔ یہ گِلہ بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ مولوی غلام رسول عالمپوری کو ہندوستانی پنجاب میں وہ پذیرائی ابھی تک نصیب نہیں ہوئی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ان کے پڑپوتے صاحبزادہ مسعود احمد نے اپنی ذاتی کاوشوں اور سرمائے سے ان کے دربار پر کافی کام کیا ہے اور وہ اس حوالے سے وقتاً فوقتاً بھارتی پنجاب جاتے رہتے ہیں۔ میری اس کالم کے توسط سے بھارتی پنجابیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس عظیم صوفی کی انسانیت نواز تعلیمات کے فروغ میں کردار ادا کریںاور ان کے دربار پر سرکاری طور پر سالانہ عرس کا اہتمام کیا جائے۔ یقین کریں یہ عالم پور اور بھارتی پنجاب کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker