ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کاکالم:پنجاب کلچر ڈے

امید ہے کل پنجاب کے کلچر ڈے کے موقع پر وزیراعظم پاکستان جو اکثر دلکش رنگوں کے قمیض شلوار اور پشاوری چپل پہنتے ہیں اس دن لاچا کُرتا، پگڑی اور کھُسّہ پہنیں، یہ لباس ان پر بہت جچے گا۔ 14 مارچ پنجابی مہینے ’’چیتر‘‘ کا پہلا دن ہے۔ چیتر بہار کی علامت ہے اس لئے اسے ثقافتی دن کے طور پر منانا بہار کو خوش آمدید کہنا بھی ہے۔ 70 سالوں میں پہلی بار ’’پنجاب کلچر ڈے‘‘ سرکاری طور پر منایا جا رہا ہے اور یہ پنجابیوں کے لئے موجودہ حکومت کا ایک بڑا تحفہ ہے۔ ہم پنجابی یہ بھی اُمید کرتے ہیں کہ جس طرح پنجاب میں بلوچ کلچر ڈے، سندھی کلچر ڈے اور پشتون کلچر ڈے منایا گیا اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی پنجاب کلچر ڈے کو نہ صرف وہاں کے سرکاری ثقافتی ادارے اعزاز بخشیں گے بلکہ ثقافت کی اہمیت کو سمجھنے والے اور ثقافت کے ذریعے معاشروں میں امن اور برداشت پیدا کرنے والے لوگ اپنی اپنی سطح پر اس دن کی اہمیت کوبھی اُجاگر کریں گے اور پنجابیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے۔
پنجاب وہ خطہ ہے، جس کے بارے میں محققین کا خیال ہے کہ شاید زندگی نے اسی خطے پر اپنی آنکھ کھولی اور اس سفر آغاز کیا جو دائم جاری ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ زندگی کا دارومدار پانی پر ہے اور یہ دریاؤں کی سرزمین ہے۔ پنجاب رنگا رنگ ثقافتوں کی سرزمین ہے۔ پنجاب کی تاریخ کی طرح اس کی ثقافت بھی صدیوں پرانی ہے۔ ہڑپہ سے شروع کریں یا ٹیکسلا سے حیران کن خوبصورتیاں آپ کی منتظر ہوں گی۔
آج کل کلچرل ڈپلومیسی کا دور ہے۔ دنیا رنگارنگ ثقافتوں کے ذریعے ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی اچھی چیزیں قبول کرتی ہے۔ آپ ایک ایسے معاشرے کا تصور نہیں کر سکتے جس میں موسیقی، رقص، ڈھول، ساز، شاعری، ڈرامہ، فلم اور مصوری نہ ہو۔ ان تمام کا تعلق احساسات سے ہے، دل اور روح سے ہے، یہ جمالیات کے چشمے ہیں۔ یہ اپنے رنگوں، دھنوں اور تالوں سے فضا اور دلوں میں پھیلی کثافت کو لطافت میں بدلنے پر مامور ہیں۔ یہ ہمیں قہقہہ لگانے پر اُبھارتے ہیں اور ہمارے دل کے دریا میں رُکے ہوئے آنسوؤں کو بھی باہر کا رستہ دکھا کر ہماری شخصیت کو دلاسہ دیتے ہیں۔ یہ زندگی کے استعارے ہیں، یہ وہ رہنما ستارے ہیں جو انسان پر اس کا باطن عیاں کر کے اسے انسانیت اور فطرت سے جوڑتے ہیں۔ یہ کبھی بھولنا نہیں چاہئے کہ انسان فرشتہ نہیں ہے۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ہم میں سے ایک طبقہ انسان کو فرشتہ بنانے پر تل جاتا ہے اور فرشتہ بنانے کی جدوجہد میں انسانی قدروں کو پائوں تلے روند دیتا ہے۔ فرشتہ روٹین کے عمل کا نام ہے، وہ حکم کا پابند ہے، اس کے علاوہ اس کے اندر کوئی دوسری خواہش نہیں رکھی گئی جب کہ انسانی روح کو مٹی، آگ، پانی، ہوا کی اضافی خصوصیات بھی عطا کی گئی ہیں۔ انسان میں جتنے عناصر ہیں ان کے اندر اختیار رکھا گیا ہے۔ ان کے اندر بھولنے، بغاوت کرنے اور غلطی کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور یہ خدا کی منشا ہے کیونکہ وہ اپنے بندے کے مختلف رُوپ دیکھنا چاہتا ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان محب اور محبوب والا ناطہ ہے۔ خطا کرنا بندے کی سرشت میں ہے۔ اُسے اچھا لگتا ہے جب اس کا بندہ غلطی کر کے پچھتائے اور جتن کر کے اسے منائے، وہ بھول جائے اور پھر سیدھے رستے پر آئے، وہ معصوم بچے کی طرح نافرمانی کرے اور پھر کان پکڑ کر توبہ کرے، وہ بغاوت کا اظہار کرے اور پھر کامل بندگی کو اپنائے۔ اس لئے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انسان اگر جذبات و احساسات کا مرقع ہے تو اس کیلئے یہ تمام جذبے لازم و ملزوم ہیں۔
کلچر انسان کی شخصیت میں خیر کے پہلو کو نمایاں کرتا اور شر کو نیکی میں ڈھالنے کا جتن کرتا ہے، لوگوں کو برداشت کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ اس لئے جب کوئی قوم کلچر سے دُور ہو جاتی ہے تو وہ بربریت اور حیوانیت کے قریب ہوتی جاتی ہے۔ اپنی فکر کے متضاد نظریات کو برداشت کرنے کی سکت یوں کھو دیتی ہے کہ ان کی زندگیوں کو ختم کرنے کی روش پر چل پڑتی ہے۔ کلچر وہ طاقت ہے جو انسانی شخصیت کو حقیقی معنوں میں انسان بناتی ہے اور انسان ایک ایسے رتبے پر فائز ہوتا ہے جہاں وہ زندگی کے لطف سے بہرہ ورہوتا ہے، وہ فطرت سے ہم آہنگ ہوتا ہے، فطرت ایک سُر ہے، ایک گیت ہے، آپ دریاؤں کا بہاؤمحسوس کریں، پرندوں کی چہکار اور پتوں کی سرسراہٹ سنیں تو آپ کو وہ تمام خوبصورتیاں نظر آئیں گی جن کو انسان نے ادب، شاعری، موسیقی، مصوری اور رقص میں ڈھالا۔ اس لئے اگر ہم اچھے انسان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کے فطرت کے سُر میں شامل ہونا ہو گا۔ بہرحال پنجاب حکومت کا شکریہ کہ آخرکار وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو اور سیکرٹری اطلاعات و ثقافت راجا جہانگیر کی کوششیں رنگ لائیں اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر ثقافت کے لئے رنگا رنگ پروگرام ترتیب دیے گئےہیںتاکہ پنجاب کا ہر فرد اپنی خو شی کے اظہار کے لئے اس دن کو اپنا فخر بنا سکے۔
جس طرح پنجاب کی زرخیز زمین گندم، کماد، کپاس، چاول اُگانا ترک نہیں کر سکتی اسی طرح ڈھول، بھنگڑا، بسنت اور موسیقی کو ہماری ذات سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہی ہمارے کلچر کی طاقت ہے جو ہمیں طاقت ور کرتی ہے۔ آئیے کلچر سے کلچرڈ انسان بننے کی طرف سفرکا آغاز کریں۔ خود بھی اپنی دھرتی کے ثقافتی رنگوں سے ہم آہنگی اختیار کریں اور اپنے بچوں کو بھی اپنی اصل کی طرف راغب کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker