ڈاکٹر طاہرہ کاظمیکالملکھاری

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم : کیا پاکستانی عورت پولیانا سنڈروم کا شکار ہے؟

”وہ بہت اچھا ہے بس تھوڑا سا غصیلا ہے“
”بہت مزے کی باتیں کرتا ہے، لیکن تھوڑا کنٹرولنگ ہے، چلو خیر ہے“
”گالیاں بہت دیتا ہے لیکن بعد میں کافی شرمندہ ہوتا ہے“
”کبھی لڑائی میں ایک آدھ تھپڑ لگا دیتا ہے لیکن پیار بھی تو کرتا ہے“
”گھمانے پھرانے کا بہت شوقین ہے تو پھر کیا ہوا اگر بدمزاج ہے“
”پابندیاں بہت لگاتا ہے لیکن اچھی شاپنگ بھی تو کراتا ہے“
”دوسرے ملکوں میں تشدد کرنے کا کرمنل ریکارڈ تو ہے لیکن محفل کی جان بھی تو ہے“
”اس کی قربت میں بہت مزا آتا ہے، نشہ کرتا ہے تو کوئی بات نہیں، مجھے کیا فرق پڑتا ہے“
ہماری اماں کو ہم تینوں بہنوں سے ایک شکایت تھی اور مرتے دم تک رہی۔ کہتیں
”ارے تم لڑکیاں عجیب ہو، ہر کسی کو فرشتہ سمجھ لیتی ہو۔ کسی سے اگر اذیت پہنچے تو “کند” نہیں رکھتی ہو دل میں۔کوئی تکلیف پہنچائے تو معاف بے شک کیا کرو لیکن دل میں کند رکھا کرو، اس واقعے اور شخص سے، جس نے تمہیں اذیت دی۔ کند تمہیں بتائے گی کہ اب اس شخص سے یا تو ملنا نہیں ہے یا محتاط ہو کے ملنا ہے۔ اپنے آپ سے محبت کیا کرو، اپنی زندگی سے محبت کرو ”
”توبہ ہے، امی کیا سبق پڑھاتی رہتی ہیں؟“ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے ہنستے۔
وہ ہمیں ہنستا دیکھ کے مسکراتیں
”اور کیا، میں اتنی پڑھی لکھی تو نہیں۔ لیکن میں اپنی بے عزتی کبھی نہیں بھولتی اور رستہ ہی بدل لیتی ہوں جب مجھے محسوس ہو جائے کہ میری عزت نفس کو پھر سے ضرب اور میری ذات کو دوبارہ نقصان پہنچے گا۔جبکہ تم تینوں بہنیں معاف بھی کرتی چلی جاتی ہو۔ دل میں رنجش بھی نہیں پالتیں، نتیجتاً دل پہ ضربیں لگتی اور داغ بڑھتے چلے جاتے ہیں ”
ہم تینوں ہنستے، واہ کیا دبنگ اماں ہیں۔ ایک طرف اتنی نرم دل کہ سارے جہاں کا درد دل میں لے کر پھریں اور دوسری طرف عزت نفس کی اتنی پرواہ کہ معاف تو کردیتی ہیں لیکن کنارہ کش ہو کے اپنی ذات کو مٹی میں نہیں ملنے دیتیں۔
” آپا یہ“ کند ”کو اردو میں کیا کہیں گے؟“
ہم پوچھتے،
آپا سوچ میں پڑ جاتیں،
” انا یا عزت نفس یا شاید دل میں کسی رنجش کے جواب میں آیا ہوا ملال یا کھنچاؤ“
افسوس اماں کا بتایا ہوا لفظ تو ہمیشہ یاد رہا لیکن ہم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ شاید اماں جیسے مضبوط دل کے مالک ہی نہیں تھے۔
آج اماں سے جڑے اس لفظ کی یاد یوں آئی کہ ہم کچھ لکھنا چاہ رہے تھے جہاں اس لفظ کی اشد ضرورت تھی لیکن ایسے ہی خیال آیا کہ اس لفظ کا حدود اربعہ تو جان لیا جائے۔
صاحب یقین کیجیے بیسیوں صاحب علم سے پوچھ لیا مگر سب لفظ کند سے ناآشنا نکلے۔ آخر ہماری مشکل وجاہت مسعود صاحب کی وساطت سے حل ہوئی اور لفظ کند کے موجود ہونے پہ مہر لگی۔
کند کچھ یوں یاد آیا کہ ہماری نظر سے ایک سنڈروم گزرا اور یقین جانیے کہ ہم یہ جان کر اچھل پڑے کہ اماں کا لفظ کند پولیانا سنڈروم ( Pollyanna syndrome ) کا دوسرا نام تھا۔ کیا ہماری پانچ جماعت پڑھی اماں زندگی کا اتنا گہرا علم رکھتی تھیں کہ بیٹیوں کو سائیکالوجی کے رموز سے آگاہ کر رہی تھیں، ہم نے حیرت سے سوچا۔
پولیانا سنڈروم پہ لکھنے کے لئے دل یوں چاہا کہ حالیہ ریپ قتل اور گھریلو تشدد کی وارداتوں کے بعد کچھ ایسا کہ لگتا ہے پاکستان کی عورتیں پولیانا سنڈروم کی شکار ہیں۔
اپنی اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی سے مضروب ہوتی، استحصال کا شکار بنتی، دھکے کھاتی لیکن مرتے دم تک اپنے آپ کو ان طفل تسلیوں سے بہلائے رکھتی ہیں جن کا ہم نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا۔ دوسروں کی لغزشوں اور ان کی ذات میں اذیت پہنچانے والے عناصر کو یا تو دیکھتی ہی نہیں، اگر دیکھ بھی لیں تو آنکھیں چراتے ہوئے منہ پھیر لیتی ہیں۔
پولیانا انیس سو تیرہ میں لکھا جانے والا ایک ناول جس کا بنیادی کردار پولیانا نامی بچی ہے جو ہر کسی میں مثبت چیزیں دیکھتی ہے اور منفی باتوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ اس ناول پہ انیس سو ساٹھ میں فلم بھی اسی نام سے بنی۔
انیس سو اٹہتر میں دو سائیکالوجسٹس مارگریٹ میٹلن اور ڈیوڈ وینگ نے پولیانا پرنسپل کا خیال پیش کیا جس کے مطابق کچھ لوگوں کا دماغ بری یادوں کو یا تو محفوظ نہیں رکھتا اور اگر رکھے بھی تو اس کو کسی نہ کسی زاویے سے خوشگواریت میں بدل دیتا ہے اسے پوزیٹیوٹی بائس بھی کہا جاتا ہے۔اس پرنسپل پر ریسرچ اور تنقید کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پولیانا پرنسپل لوگوں کو زندگی کی رکاوٹوں اور مشکلات سے مقابلہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ پولیانا ان کو وہ کچھ دیکھنے اور سمجھنے ہی نہیں دیتا جس کی زندگی گزارنے کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔
پولیانا سنڈروم کا شکار ایسا انسان جسے ہر طرف ہرا ہرا نظر آتا ہے، جس کے لئے منفی باتیں الارم نہیں بجاتیں اور اگر محسوس ہوں بھی تو حد سے بڑھا مثبت انداز فکر مجبور کر دیتا ہے کہ ان باتوں کو دیکھا ہی نہ جائے یا دیکھ کر بھلا دیا جائے۔ ایسے لوگوں کو نابینا خوش فہم کہا جا سکتا ہے۔
پولیانا سنڈروم سے وابستہ خطرات
1۔ خود ساختہ خوش فہمیاں :
یہ درست ہے کہ مثبت انداز فکر رکھنا چاہیے مگر زندگی میں منفی واقعات کو سراسر نظرانداز کرنا ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔منفی پہلو زندگی کا ایک حصہ ہیں اور ان کو جاننا پہچاننا ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خطرے کو سونگھ سکے اور نا انصافی کے خلاف جنگ کر سکے۔ منفی رجحان سے مقابلہ تب ہی ہو سکتا ہے جب اس کو شناخت کر لیا جائے۔دوسری طرف اگر ہم اپنے خوش فہمی کے غبارے میں قید رہیں گے تو انہونی کا مقابلہ کیسے کریں گے؟
2۔ نظر انداز کرنے کی عادت؛
تعلقات چاہے وہ میاں بیوی کے درمیان ہوں، بہن بھائیوں، پارٹنرز، محبت کرنے والوں اور دوستوں کے بیچ، یاد رکھیے کہ نا انصافی، برے کلمات، برا سلوک اور ذہنی و جسمانی تشدد کو نظر انداز نہ کیجیے۔عام طور پہ ہوتا کیا ہے کہ لوگ ان سب علامات پہ بات کرنے کی بجائے انہیں چھپانے اور نظرانداز کرنے کی عادت اپناتے ہیں۔ اس امید پہ کہ زندگی کی گاڑی چلتی جائے اور انہیں اس سٹریس سے پالا نہ پڑے جو معاشرے یا خاندان کی طرف سے آئے گا یا جو علیحدگی کی صورت میں جذباتی دھچکا پہنچے گا۔ برسہا برس آنکھیں بند کر کے گزاری جانے والی زندگی کا انجام ہم اپنے چاروں طرف دیکھ سکتے ہیں۔
3۔ قسمت خوشحالی اور مشکلات!
احتجاج اور مشکلات کا سامنا وہ لوگ نہیں سیکھ پاتے جن کی زندگی پھولوں کا بستر ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیجیے کہ ہمیں زندگی کے مسائل ہی زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ان مسائل سے گزرتے ہوئے ان کو پہچاننا، سمجھنا اور ان کی نشاندہی کرنا کرنا ہی ایک انسان میں دانش، عقل، طاقت، خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور دوبارہ اٹھنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں زندگی کے سمندر میں تیر کر مشکلات سے کھیل کر ہی اپنی قسمت بنانا ہر کسی کا شعار ہونا چاہیے۔دولت کی ریل پیل، پرتعیش زندگی، زندگی کے بنیادی حقائق سے لاعلمی، احباب کے دوغلے پن سے پہلو تہی، اپنی ذات پہ اندھا اعتماد، تنقیدی نگاہ و فکر کی کمی، زندگی کو خوش فہمی کے عدسے سے دیکھنے کی عادت، اپنے آپ کو اچھا اور ہمدرد ثابت کرنے کی خواہش، منفی کو مثبت میں بدل دینے کی تمنا، متشددانہ رویوں کو نظر انداز کرنے کی عادت، ساتھی کے رویوں کو بدل دینے کی آرزو اگر ہے تو سمجھ لیجیے آپ پولیانا سنڈروم کا شکار ہیں۔اسی لئے تو پاکستانی عورت چاہے وہ طبقہ امرا سے ہو یا غربت کی پاتال سے، اسی سنڈروم میں مبتلا نظر آتی ہے۔خیالی جنت بناتے، منفی رویے نظر انداز کرتے ہوئے خوش فہمیوں کے انبار جمع کرتے، خود کو قربانی کے جذبے سے لبریز سمجھتے، دوسروں سے ہمدردی جتاتے، اپنی ذات اور زندگی کو بھولتے ہوئے کبھی قتل ہوتی ہے، کبھی ریپ۔ کبھی چولہے میں جل مرتی ہے، کبھی تیزاب سے داغدار ہوتی ہے اور کبھی گھر کے اندر گھٹ گھٹ کر فنا ہو جاتی ہے۔
نور مقدم کے قتل پہ دل دکھی تو بہت ہے لیکن یہ فکر کا ایک دروازہ وا کرتا ہے کہ ظاہر جعفر کی ذات میں پائی جانے والی منفی علامات کو نور نے کیسے نظر انداز کیا اور کیسے اس دوستی کو نباہتی رہیں جس کا انجام اس قدر درد ناک تھا۔ ظاہر جعفر کی ذات پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سب کی زندگی میں نہ جانے کتنے ظاہر جعفر ہر وقت رہتے ہیں جو اپنے رویوں اور الفاظ کی چھری سے ہر وقت کسی نہ کسی کو ذبح کر رہے ہوتے ہیں۔ اور نشانے کا شکار اپنی اچھائی کے زعم میں معاف کرتا ہی چلا جاتا ہے۔
خدارا سوچ وفکر کو اپنا ہتھیار بنائیے، خوش فہمیوں سے پیچھا چھڑائیے، دیوی بن کر زندگی گزارنے کی بجائے ”کند“ رکھیے۔
جی وہی ہماری اماں کی بتائی ہوئی ”کند“ !

( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker