اختصارئےکالملکھاری

ا یسٹر ۔۔۔ عید قیامت یسوع المسیح کا تہوار ۔۔ ڈاکٹر کنول فیروز

یسوع مسیح نے زمینی زندگی کے دوران امن و آشتی کا علم بلند کیا اسی لئے اُنہیں شہزادۂ امن کہا گیا۔ اُنہوں نے مقدس کتب کے مطالعہ، مروجہ شرعی قوانین کے اتباع کے ساتھ ساتھ آسمانی بادشاہت کی بشارت دی۔اُنہوں نے اپنے عالمگیر پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے شہر بہ شہر، قریہ بہ قریہ اور کُوبہ کُو پا پیادہ سفر کئے۔ اُنہوں نے محیرالعقول معجزات دکھائے۔اُن کی نرم خوئی، دردمند طبیعت اور انتہائی محبت سے لبریز شیریں بیانی ہر ملاقاتی کا دل موہ لیا کرتی تھی، اُنہوں نے بُروں اور اپنے دشمنوں تک سے بھلائی اور دُعا کے ساتھ ساتھ بیگانوں سے یگانگت اور اپنے ستانے والوں کے حق میں بھی دعائے خیر کا عظیم اور نادر درس دیا۔خودی سے انکار اور خدا سے پیار کی اس تعلیم کی کہیں کوئی مثال یا بدل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح کی زبانِ معجز بیان سے کوئی جملہ اور اُن کے پیکر اطہر و مسعود سے کوئی فعل یا عمل ایسا سرزد نہ ہوا جو انسانیت کے مفاد، احکاماتِ الٰہی کے منافی ہوتا۔وہ سراپا پیکر محبت، مجسمہ خلوص اور گونا گوں صفات کے حامل بے مثال شخصیت کے مالک تھے،جبکہ اُن کے ناقدین اور مخالف اسرائیلی کاہن اور نام نہاد مذہبی راہنما افعال و اعمال میں اُن سے صریحاً مختلف تھے۔کہاں محبت، اخوت کا عالمگیر پیغام کہاں محدود اور فروعی شرعی قوانین اور اُن کی من مانی غلط تفاسیر لہٰذا دونوں کا کردار ایک دوسرے کی ضد نظر آتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پیکر صدق و صفا اور مجسمہ محبت یسوع ناصری کی مخالفت پر تل گئے اور اُس دور کے عاقبت نا اندیش مذہبی علماؤں نے اُن کی ہر مرحلہ حیات میں مخالفت کی۔خداوند یسوع المسیح کا پیغام تھا کہ تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ اور یہ کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ‘‘ انہوں نے کہا کہ غیر قوموں کے بادشاہ اُن پر حکومت چلاتے ہیں اور اُن پر اختیار رکھتے ہیں اور خداوند نعمت کہلاتے ہیں مگر تم ایسے نہ ہونا بلکہ جو تم میں بڑا ہے وہ چھوٹے کی مانند اور جو سردار ہے وہ خدمت کرنے والے کی مانند ہے ۔ خداوند یسوع مسیح نے زمینی زندگی کے دوران نہ تو کوئی گھر بنایا نہ کوئی بادشاہت قائم کی بلکہ تمام عمر اپنے شاگردوں کے ہمراہ بے سروسامانی کے عالم میں گذار دی حتیٰ کہ سواری کے لئے اُس دور کی عوامی سواری گدھا تک میسر نہ تھا۔اُنہوں نے کہا کہ ’’خداوند کا روح مجھ پر ہے اسی لئے اُس نے مجھے غریبوں کو خوش خبری دینے کے لئے مسح کیا اور اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کورہائی، اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔ خداوند یسوع المسیح اُن کی فضل خداوند ی سے معمور تعلیم مذہبی گماشتوں اور شرعی فتویٰ فروشوں کے لئے تازیانہ عبرت ثابت ہوئی۔اُنہوں نے خداوند یسوع مسیح کو شریعت کا باغی قرار دے کر واجب القتل قرار دیا۔ اُنہیں صلیب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے رومی حاکموں کے حوالہ کر دیا جنہوں نے اُن کے کپڑے اُتار لئے اور قرعہ اندازی سے آپس میں بانٹ لئے ،تاکہ نبیوں کے نوشتے پورے ہو ں۔انہیں طنزاً یہودیوں کا بادشاہ کہہ کر اُن کا تمسخر اڑایا گیا۔ منہ پر تھوکا اور طمانچے مارے گئے مگر اُن کے صبر و برداشت کا یہ عالم تھا کہ منہ سے اُف تک نہ نکلا۔اُن کے ہاتھوں اور پاؤں میں کیل ٹھونک کر صلیب پر لٹکا دیا گیا اس انتہائی اذیت ناک حالت میں انسانیت کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے والی شخصیت کا دل اب بھی محبت سے معمور تھا۔ اُنہوں نے کمال دل سوزی سے دعا کی کہ اے باپ انہیں معاف کر ،کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔‘‘ آج عید قیامت المسیح کا تہوار ہمیں خداوند کے دکھوں میں شریک ہونے اور اس کے قبر پر فتح یاب ہوکر زندہ ہونے کی نوید کے ساتھ ساتھ محبت اورخدمت کے عظیم کام پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتا ہے۔آج اس نفسا نفسی اور ایمانی اور فکری انتشار و بحران ، مذہبی دہشت گردی، انتہا پسندی کے عہد میں خداوند یسوع مسیح کے پیغامِ محبت اور امن کے مشن کی ترویج و اشاعت کی جس قدر ضرورت ہے اتنی شاید اس سے قبل نہ تھی ،لیکن آج معراجِ انسانیت کا شرف حاصل کرنے کے لئے عفوودرگذر، معافی اور صلح جوئی کی ہر سطح پر تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہے ،تاکہ پائیدار امن کے قیام کے پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔آپ سب کو ایسٹر عید قیامت المسیح اپنی تمام تر مادی اور روحانی برکات و فیوض کے ساتھ مبارک ہو۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker