فہیم عامرکالملکھاری

آخووروال کا اکلوتا ذریعہء پیداوار اور بیس کا گروہ۔۔فہیم عامر

کسی کا شعر ہے کہ
اپنے گرد لکیریں کھینچیں اور پھر ان میں قید ہوئے
اِس دنیا میں جتنے کھیل تھے سارے ہی طبقاتی تھے۔
3 اگست 2019 کو خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے جب درہّ آدم خیل کے کوئلے کی کانوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اشارہ دیا کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیئے بہترین سہولیات دی جائیں گی تو ہم اسی وقت مقتدر طبقات کے حکمران ٹولے کی نیّت بھانپ گئے تھے کہ یہ ٹولہ پیشہ ور معاشی قاتلوں (Economic Hit men) کو قومی اثاثے فروخت کر دے گا اور یہی ہوا۔
ہم بتاتے ہیں کہ یہ پیشہ ور معاشی قاتل (Economic Hit men) کون ہیں۔حاجی الیاس، جنہوں نے اتفاق کول کمپنی پرائیویٹ لیمیٹد بنا رکھی ہے۔ کمپنی نمبر 0145114 کے تحت یہ 7 جنوری 2020 کو انکارپوریٹ ہوئی اور اب اس کے پاس آخوروال کی کوئلے کی کانوں کی لیز ہے۔
دوئم: دوستان کول مائینز کمپنی۔ اس کے جنرل سیکرٹری بنیادی طور پر تو ملک حاجی یونس خان تھے مگر اب محمد یونس اس کے کرتا دھرتا ہیں۔ 15 فروری 2020 کے دی نیوز انٹرنیشنل کی خبر کے مطابق آخوروال قبائل نے ان کے خلاف تب احتجاج کیا جب یہ منظور شدہ چھایسٹھ سو مربع فٹ جگہ کی بجائے تئیس ہزار مربع فٹ جگہ پر قبضہ کر کے وہاں سے کوئلہ چرانے لگے۔ سوئم: ذاہد کول کمپنی، چہارم: ظفر عالم کول کمپنی اور پنجم جمیل کول کمپنی۔
تاہم سرکاری آنکڑے کے مطابق کوہاٹ کی کوئلے کی کانیں 20 افراد کو لیز پر دی گئی ہیں۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر دی گئی ہیں؟ کیا وہ لوگ جن کی جدی زمینوں سے یہ کانیں دریافت ہوئیں ان کو کچھ ملا؟ کیا سرکار ان کوئلے کی کانوں کو قومی سطح پر چلا کر وہاں کے مقامی عوام کو خوشحال نہیں کر سکتی تھی یا صرف 20 پیشہ ور معاشی قاتلوں کو خوش کرنا ہی مقتدر طبقات کی منشاء تھی؟؟ اور اگر ایسا ہے جو بظاہر ایسا ہی ہے تواس ڈیل میں وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے کیا مفادات تھے؟ ایسا نہیں کہ ان کا جواب مع ثبوت و شواہد ہمارے پاس موجود نہیں۔ مگر اس وقت ہمارے چند سوال ہی بنیادی شواہد ہیں۔
ہم پوچھتے ہیں کہ پیر عطا اور آخوروال طلبہ و مشران نے ایسا کیا کر دیا کہ 17 جون 2020 کو پیر عطا سمیت سترہ افراد کو ایف آئی آر نمبر 62/20 میں ملک کے خلاف مجرمانہ سازش، مسلح جتھے بنا کر املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش اور بھتہ لینے وغیرہ کی دفعات لگا دی گئیں؟
ہم پوچھتے ہیں کہ 5 جنوری 2020 کو ایسا کیا ہوا تھا کہ آخوروال کی عوام پر اقدامِ قتل، دہشت گردی، پولیس مقابلہ، لشکر کشی، قبضے اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج کر دیئے گئے۔
ہم سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ آیف آئی آرز درست ہیں تو 6 جنوری کو ایف آئی آر درج ہوئی۔ 324 اور 7ATA لگی تو زخمی کدھر ہے، میڈیکو لیگل رپورٹ کدھر ہے اور انہیں اب تک سزائیں کیوں نہیں ہوئیں؟؟؟ کیا کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ عدلیہ کو نااہل بتانا چاہتی ہے؟
بات بہت سادہ ہے۔ یہ طبقاتی لڑائی ہے۔ ایک طرف آخوروال کے وہ عوام ہیں جن کا گذر بسر لکڑہاری اور مویشی چرانے پر ہوتا تھا۔ نسلوں سے وہ ان زمینوں پر آباد ہیں جہاں کوئلے کی کانیں دریافت ہوئیں۔ ان کی غربت کا استحصال کرتے ہوئے انہیں خاصانِ زمیں اور ان کی تائید کرنے والے مفتیء دیں نے طالبنائزیشن کی نذر کیئے رکھا اور آج جب وہاں کوئلے کی کانیں دریافت ہو گئی ہیں تو مقتدر طبقے کے لوگ اس پر قبضہ کرنے کے لیئے چہرہ بدل کر آگئے ہیں۔ بلکہ مقتدر طبقات کی کیا بات کریں، میرے اپنے ایک بہت قریبی دوست ٹھیکیداری کے خلاف آواز اُٹھانے والے پیر عطا محمد کی جدوجہد کو عجب خان آفریدی کی جدوجہد سے مشابہت دینے پر ناراض ہو گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر کئی لوگ مجھے اور صابر علی حیدر کو طالبان اور دہشت گرد اور نجانے کیا کیا بتا رہے ہیں۔
خیر، دو پرچوں کا تو میں ذِکر کر چکا ہوں اور میری دور اندیشی مجھے ڈرا رہی ہے کہ جلد ہی ایک تیسرا پرچہ بھی درج کرلیا جائے گا اور جیسے ہی ان پیشہ ور معاشی قاتلوں (Economic Hit men) کی انٹیل مکمل ہوئی یہ سامراجی تسلط کے ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔
اور رہی خاصانِ زمیں کی بات جو محنت کش طبقات کی سانسوں پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے تو ان کا کردار یہ ہے کہ ان میں سے ایک ایکپریس ٹریبیون اور ڈیلی ڈان کے مطابق مشرف کے دور میں مٹہ تحصیل کی یونین کونسل ناظم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی آتی ہے تو اس کے ساتھ ہوتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ سیاست کا میکنزم ہی کچھ ایسا ہوتا ہے اور جب پی ٹی آئی کو لایا جاتا ہے تو یہ ان کی حکومت میں بھی وزیر بن جاتے ہیں۔ ان پر 2014 میں 1.8 ملین کی کرپشن کا الزام لگتا ہے اور معاملہ ہائی کورٹ میں چلا جاتا ہے۔ کمشن بنتا ہے اور یہ بیان دیتے ہیں وزارتِ اسپورٹس سے یہ روپیہ غلطی سے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو گیا تھا، لہٰذہ چند سرکاری ملازم وقتی طور پر معطل ہو جاتے ہیں اور آج یہ آخوروال قبائل کی زمین پر دریافت ہونے والے کوئلے کی کانوں پر سرمایہ کاروں کو دعوتِ قیام دے چکے ہیں۔ اب ان کا نام بھی میں بتاؤں؟؟
باقی رہے ڈپٹی کمشنر کوہاٹ عبدالرحمٰن یا اسسٹنٹ کمشنر شایان علی جاوا تو یہ بیوروکریسی ہے، جِسے عرفِ عام میں ’’نوکر شاہی‘‘ کہا جاتا ہے سو یہ بیچارے تو وہی کریں گے جو مالک کہیں گے اور نظامِ زر میں آخوروال کے محنت کش تو شاہ ہونے سے رہے۔
2003 میں ایک معاہدہ کر کے آخوروال مشران سے سفید کاغذ پر دستخط کروا لیئے، 2006 میں ایک جھوٹا مصالحتی فیصلہ کروا لیا کہ آخوروال کو ایک ہزار روپیہ فی ٹن ادا کروایا جائے گا، 2007 میں ڈی سی کامران آفریدی اور اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ نے معاہدہ کر لیا کہ چھ ماہ کا نقصان پورا کر لیں گے اور رفتہ رفتہ 2020 میں تین پرچے ۔۔۔۔ جن میں سے دو درج ہوچکے ہیں اور ایک جلد ہی درج ہونے کا اندیشہ ہے، تیّار کر لیئے گئے۔ ضلعی انتظامیہ بس اتنا ہی کر سکتی ہے۔
جنگ دو طبقوں کے درمیان ہی ہے۔ ایک طبقہ قبائلی سرداروں، مقامی قبائلی سرداروں یا ملِکوں اور سرمایہ داروں پر مشتمل ہے اور دوسرا طبقہ آخوروال قبائل کے محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ اب ایسا ہونا تو ناممکنات میں سے ہے کہ بابائے آخوروال طلبہ مصطفیٰ آفریدی، حمزہ آفریدی، ضیاء اللہ آفریدی، فرید آفریدی اور پیر عطاء محمد وغیرہ آخوروال قبائل کے حق سے دستبردار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مقتدر طبقات کے خلاف، ٹھیکیداری نظام کے خلاف آواز بلند کی ہے اور پاکستان انقلابی پارٹی ان کے ساتھ ہے، این ایس ایف پاکستان ان کے ساتھ ہے، جِس کی تاریخ میں جدلیات ہے۔ اگر این ایس ایف پاکستان ایوب خان جیسے آمر کو عوامی طاقت سے گھر بھیج سکتی ہے تو اِس بوسیدہ نِظام کے کمزور اور کرپٹ پیادے، آخوروال عوام کے سامنے کتنی دیر ٹکیں گے؟ طاقت کے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے مقتدر طبقات کی بصارت اور بصیرت تو ہمیشہ سے اتنی ہی رہی ہے کہ سامنے لکھا نوشتہء دیوار بھی نہیں پڑھ سکتے۔
اب دیکھتے ہیں کہ 20 سرمایہ داروں کا گروہ، جس کے سرغنہ پر 1.8 ملین کی کرپشن کا الزام لگ چکا ہے، کب تک پاکستان کی انقلابی قوتوں کے سامنے ٹِک سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا ۔۔۔۔ پھِر کہتا ہوں کہ آخوروال کے عوام، ان کے زرایع پیداوار یعنی کوئلے کی کانوں اور مقتدر ٹولے کی جدلیات بس یہی ہیں کہ ۔۔۔۔
اپنے گرد لکیریں کھینچیں اور پھر ان میں قید ہوئے
اِس دنیا میں جتنے کھیل تھے سارے ہی طبقاتی تھے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker