گزشتہ10 دنوں میں پاکستان کے انگریزی اور اردو اخباروں میں جب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست، انتخابی اشتہاروں کی بھرمار تمام فرنٹ اور بیک صفحات پر نظر آئی، وہیں دو خبروں نے کُچھ قارئین کی توجہ بہرحال حاصل کی۔
اول یہ کہ آئی ایم ایف سے وصول کی گئی بھاری رقم اِس وقت قومی خزانے میں موجود ہے اور دوم آزاد امیدواروں نے 379نشستیں حاصِل کیں۔
ملک کے جیّد Investigative Journalists نے ان دو خبروں میں کوئی ربط ڈھونڈنے کی کوشش کو تا حال ضروری نہیں سمجھا یا ایسے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ہونے والی ’حکومت سازی‘ کو زیادہ قابلِ توجہ سمجھا۔ شائد، صحافت کے اس دور میں یعنی جب سے ہم قارئین کو گاہک سمجھنے لگے ہیں تو exclusive کی دوڑ نے ملک میں ہونے والی سیاسی جوڑ توڑ کو خصوُصی توجہ کے قابِل سمجھا۔ اِس لیئے صحافت کی نوعیت بھی کمرشل رہی اور ہم، یعنی صحافی برادری ان سرمایہ دار و جاگیردار سیاستدانوں کے Mouth Piece بنے رہے۔
ایک طبقاتی شعور رکھنے والے دانشور، رشید مصباح نے انجمن ترقی پسند کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ’’کرپشن میں ’’لینے والے ہاتھوں‘‘ سے زیادہ ’’دینے والے ہاتھ‘‘ پر توجہ مرکوُز رکھنا بے حد اہم ہے کہ وہ پہلے عبوُری عزت دیتا ہے، پھر کھانا کھلاتا ہے، پھر بذریعہ رقم اُسے اپنا طُفیلی (Parasite) بنا لیتا ہے۔ اِس طرح سے ایک ایسی نسل پیدا ہوتی ہے، جو بغیر کہے ہی ہاتھ پھیلا دیتی ہے اور بہت سستے داموں طفیلی بن جاتی ہے‘‘۔
اگر رشید مِصباح کی تحقیق کے معیار پر معروض کو پرکھا جائے تو اسٹیبلشمنٹ کی حامی اور بظاہر یا نام نہاد اسٹیبلشمنٹ کی مُخالف سیاسی جماعتیں اور افراد صحافیوں اور صحافت کو پہلے ہی اپنا طفیلی بنا چکی ہیں، لہٰذہ آج کا سیاسی تجزیہ نگار قومی اور بین الاقوامی سیاست کو مربوط نہیں کر پا رہا۔۔۔۔ یا شائد کرنا ہی نہیں چاہتا۔
اب یہاں بھی دو باتوں کو مزید گہرا کھودنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ کیا پاکستان میں حکومت اور حکمران یعنی Government and governance کیا علیحدہ علیحدہ سیٹ اپ ہیں؟؟ اگر ایسا نہیں ہے تو نگران حکومت قومی خزانے میں موجود اس وقت کی ایک ایک پائی آنے والی حکومت کو آزاد اور شفاف آڈٹ کے ساتھ حوالے کر دیں اور دوئم میڈیا اگر صحافت کر رہا ہے تو تمام قومی خزانے کی تفصیل پہلے صفحے پر ڈالیں۔ مگر کہانی کو Fully cook کرنے کے لیئے لکھاریوں کو ایک طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یعنی جب تک کہ خود آئی ایم ایف اپنی Quarterly reports کو ڈی کلاسیفائی کر کے شائع نہ کر دے۔ ہماری کہانی تب تک ’’غیر مُصدقہ‘‘ ہی رہتی ہے تا وقتیکہ پٹرول اور بجلی کے نرخ کئی گُنا نہ بڑھ جائیں۔ گویا، ’’زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا‘‘۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے مہنگائی کنٹرول کے مزید باہر ہو جاتی ہے، بس اگر کُچھ کنٹرول میں رہتا ہے تو عام انسان کی گردن۔ ہماری پیاری سرمایہ دار جمہوریت میں عام انسان کو کنٹرول میں رکھنے کے لیئے ہی ایک بھاری بھرکم اسٹیبلشمنٹ بنائی گئی ہے، جِس کا جمہوُر یا جمہوُریت سے کوئی تعلق نہیں۔ بس ایک نیا مُحاورہ ہاتھ آ گیا ہے کہ ’’They are just doing their job‘‘ اور قِصہ ختم ۔۔۔۔
پاکستان میں بڑے بڑے جغادری دانشور مرکزیت (Centralization) کو ’’متنوع جمہوریت‘‘ سے متصادم بتاتے ہیں اور ٹھیک ہی بتاتے ہیں، بس کُچھ اِس ادا سے کے مرکرزیت کو قومی اتحاد سمجھا جائے۔ پچھلے دِنوں جب ایک طبقہ ماورائے آئین اقدامات کے ذریعے آئی ایم ایف سے قرضے اِکٹھے کرنے کی دھُن میں تھا، اُسی وقت بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین کا استقبال، ٹھٹھرتی سردی میں واٹر کیننز کے ساتھ کیا گیا۔ کِسی اخبار نے متنوع جمہوریت کی بات تک نہیں کی۔ جب ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی ریاستی جبر کا شکار ہو رہے تھے تو کِسی تجزیہ کار نے نہیں لِکھا کہ جِس جمہوریت کے نام پر آپ عام انتخابات کا غلغلہ بلند کیئے ہوئے ہیں، اُس میں ذات، عقیدہ، مذہب، جنس، صوُبے اور دیگر پہلوؤں کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یعنی کسی جگہ سے یہ خبر نہیں آئی کہ فلاں حلقہ سے کوئی مزدور، کوئی کسان، کسی اقلیت کا ایک فرد یا کوئی بھی محکوم کسی نشست جیتا ہو یا کم از کم انتخابات میں کھڑا ہی ہوا ہو۔۔۔!
جمہوریت میں تنوع ایک اصطلاح ہے جو لوگوں کی نسلی اور نسلی درجہ بندی میں کچھ فرق کو بیان کرتی ہے۔ اس میں عمر، مذہب، جنس، جسمانی صلاحیتیں، فلسفہ، جنسی رجحان، صنفی شناخت، سماجی و اقتصادی پس منظر، ذہانت، جسمانی صحت، برتاؤ، معاشی طبقہ اور کچھ دوسری خصوصیات شامل ہو سکتی ہیں۔ جب بات متنوع جمہوریت کی ہو، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تنوع میں بھی کچھ اتحاد ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، مذہبی اتحاد، جغرافیائی اتحاد، لسانی اتحاد، ثقافتی اتحاد، طبقاتی یگانگت اور سیاسی اتحاد وغیرہ غرضیکہ ’’اتحاد‘‘ صرف متنوع جمہوریت کے بطن سے ہی جنم لے سکتا ہے۔ غیر متنوع جمہورہت کی سب سے بڑی مِثال ہے کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جِس کے ریاست نے ٹُکڑے ٹُکڑے کر دیئے، اس کے رہنماؤں اور کارکنان، کہ ایک پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان میں گہرا طبقاتی تضاد پایا جاتا ہے، اُن کے چئیرمین پر لغو مقدمے بنائے گئے، جیلوں میں بھیجا گیا، غرضیکہ ہر طرح کے ریاستی جبر کا نشانہ بنائا گیا مگر ان کی وفاداری مُلاحظہ کیجیئے کہ ان کی ہمدردی کی پُکار میں بھی اسٹیبلشمنٹ سے وفاداری کی صدا آتی رہی، جِسے ڈاکٹر علی شاذف، میر کے ایک شعر کے حوالے سے واضح کرتے ہیں کہ ۔۔۔
میِر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوُئے جِس کے سبب
اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
شائد، یہی وہ پارٹی ہے، جِس پر صحافی دوستوں کویہ تحقیق روا ہے کہ اِن آزاد امیدواران میں کِتنے ہیں جو آئی ایم ایف کے قرضوں پر بطور فرد ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کھیلیں گے اور کِتنے بطور پارٹی؟ اب اِس سے تو انکار کیا نہیں جا سکتا کہ کھیل میں ایک طرف تو یہ 379 اراکینِ قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں، مگر یہ کھیل کس نے رچایا ہے، وہ شائد ہمارا exclusive ہے ہی نہیں۔
فیس بک کمینٹ

