فہیم عامرکالملکھاری

ذرا سی خوشامد اور نومولد وزیرِاعظم کی سنسر شپ ۔۔ فہیم عامر

یہ بات تو ہر قِسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ ہماری نسل کے ذوقِ سماعت کو تشکیل دینے میں ضیا مُحئی الدین اور بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ کا بہت بڑا حصّہ ہے۔ اِن نابغہء روزگار شخصیات کا تذکرہ کرنا ہمارے لیئے یوں ضروری ہو گیا کہ ہم اپنے قارئین کو بتانا چاہتے تھے کہ ہمیں پکّے راگ اور شیخ رشید کی تقریر سننے کا ذرا بھی شوق نہیں۔ ہاں پکّا راگ نِسبتاً بھلا معلوم ہو تا ہے۔
مگر ہم پر اس سے بھی زیادہ ناگوار سنسرشِپ گزرتی ہے کہ ہمیں اِس سے جنرل ضیا الحق کا دور یاد آ جاتا ہے۔ آج ہوا کچھ یوں کہ پہلے ہی سے جب شاہِد خاقان عباسی تقریر کر رہے تھے تو ہمیں موجودہ پارلیمان سے ایک ’ہینڈ پِکڈ‘ مجلسِ شوریٰ کی بو آ رہی تھی۔ اِس بات کی تصدیق سیّد نوید قمر نے بھی اپنی تقریر میں کر دی کہ دورِ طالِب علمی سے ہی ان کے ہم کمرہ، شاہِد خاقان عباسی، جنرل ضیا کی طرزِسیاست سے متاثر تھے اور خاقان عباسی کے صاحبزادے کو متاثر ہونا بھی ضیاالحق کی سیاست سے ہی چاہیئے تھا نہ کہ نیلسن منڈیلا کی سیاست سے۔
تاہم، اس کے بعد جب شیخ رشید کی باری آئی اور انہوں نے آن دی فلور آف دی ہاؤس، لیڈر آف دی ہاؤس کو تنقید کا ننشانہ بنانا شروع کیا تو شائد سرکاری چینل کے ایم ڈی عطا الحق قاسمی کو اپنے سیاسی مُرشد جنرل ضیا کی یاد آ گئی اور انہوں براہِ راست نشریات کو منقطع کر دیا۔ اب یہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کارِ خیر خود ان کے حکم پر ہوا یا کسی وفادار نے پاسِ وفاداری نِبھایا، مگر اس اعلیٰ سطحی نشریات کی ذمہ داری تو بہرحال قاسمی صاحب پر جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے ان کی نیّت ناظرین کو سمع خراشی سے بچانے کی ہو مگر آئین کی رو سے ان کا عمل تو آذادیء اظہار سے متصادم ہی ہے اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا یہ بات ہمیں بے حد ناگوار گزری اور اس حد تک کہ ان کا یہ عمل ہمیں اس دور میں پھِر لے گیا جب سول عدالتوں میں باوردی فوجی افسر بیٹھا کرتے تھے اور بڑے فوجی ٹرکوں میں پریس مشینیں لاد کر کسی دور کے مقام پر لا کر پھینک دی جاتی تھیں۔
ان کا اِس کارروائی سے جِس کو بھی خوش کرنا مقصود ہو مگر انہوں نے کُچھ ایسے نوجوانوں کو بہرحال ناراض بھی کر دیا جو کل تک نواز شریف کی نااہلی کو ’جوڈیشل کُو‘ قرار دے رہے تھے۔ ایم ڈی صاحب کی اِس چھوٹی سی خوشامد کے بعد اِن نوجوانوں کی سوچ ممکنہ طور پر کیا ہو سکتی ہے۔ آیئے ہم اِس کی مثالیں پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
کُچھ نے تو سوچا ہو گا کہ میاں صاحب جو آج سول سپریمیسی کی باتیں کر رہے ہیں، یہ محض دکھاوا ہے۔ دراصل ان کے اندر سے ابھی تک ضیا الحقی فِکر نکلی نہیں۔ ضرور میاں صاحب اپنے سیاسی مُرشد کی طرح کسی جگہ بیٹھ کر نشریات کا معائینہ کر رہے ہوں گے اور ان کے وفاداروں نے فوراً اس جگہ سے نشریات منقطع کر دیں جہاں سے ان کے ناراض ہونے کا اندیشہ تھا۔
کُچھ کا خیال یہ شائد یہ ہوگا کہ میاں صاحب کے لشکر نے ہار تسلیم کر لی ورنہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ایل این جی کے ذکر پر یوں نشریات منقطع کر دی جائیں۔ یعنی اپنی ایک چھوٹی سی خوشامد کے باعث ایم ڈی صاحب نے نوجوانوں کو کِسی بھی قِسم کے عدالتی فیصلے سے قبل ہی ذہنی طور پر تیّار کر دیا کہ اِس ایل این جی سکینڈل کی دال میں کُچھ نہ کُچھ کالا ضرور ہے۔
کئی نوجوانوں نے تو شائد وِکی پیڈیا پر ریسرچ بھی کر لی ہو کہ خود کو نظام سقّہ بتلانے والے وزیرِاعظم کی سیاسی تاریخ کیا ہے۔ اب وِکی پیڈیا تو اِن نوجوانوں کو یہی بتا سکتا ہے کہ نظام سقّہ وزیرِاعظم کا جنم خاقان عباسی کے ہاں ہوا جو بنیادی طور پر تو پاک فِضائیہ کے ملازم تھے مگر بعد میں جنرل ضیا کے ہاں وزیرِپیداوار کے طور پر تعینات ہوئے۔ وکی پیڈیا تو یہ بھی بتائے گا کہ ان کی وفات سانحہء اوجڑی کیمپ کا ایک مہلک میزائل لگنے کے باعث ہوئی۔ یعنی اِس طرح وہ سیٹ خالی ہوئی، جِس پر پہلی مرتبہ حالیہ وزیرِاعظم شاہِد خاقان عباسی ایک آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے اور بلآخِر اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنے، جو بہر حال سیاسی سطح پر جمہوریت کے دعوے کے لیئے کوئی معاوِن عنصر نہیں ہو سکتا۔
ہو سکتا ہے، اس تحقیق کے دوران کُچھ نوجوانوں کی نظر سے یہ بھی گزرے کہ موصوف نہ صرف سعودی آئل اینڈ گیس سیکٹر میں ملازم رہے بلکہ ائر بلیو نامی کمپنی کے مالِک بھی رہے۔ شاہِد خاقان عباسی یہ ضرور کہتے ہیں کہ اب ان کا ایئر بلیو سے کوئی تعلق نہیں مگر اپنے تین بیٹوں کے بارے میں وہ خاموش ہیں جِن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج بھی ایئر بلیو کمپنی کے مالکان میں شامِل ہیں۔ یعنی آج انہوں نے قومی اسمبلی میں بطور وزیرِاعظم تو خاکساری ہی ظاہِر کی، مگر اِس حقیقت سے تو ہر کوئی واقِف ہے ان کا نام شمالی پنجاب کے چںد انتہائی امیر خاندانوں میں شامِل ہے، جِس کے پسِ منظر میں بظاہر صرف ان کے والد کی بطور ایئر کموڈور ملازمت ہے۔
تحقیق کرنے والے نوجوانوں کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ حضرت نے 1990 کے عام انتخابات میں بھی اسلامی جمہوری اتحاد کی طرف ہی حصہ لیا اور جیت کر پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع مقرر ہوئے۔ ہاں 1993 کے عام انتخابات میں بیشک وہ اپنی حالیہ پارٹی کی طرف سے منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں دفاع کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چئیرمین رہے۔ چلیئے اِس میں تو ان کے جمہوری قدوقامت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ مگر جب بات یہاں تک آئے گی کہ موصوف 1997 کے انتخابات جیتنے کے بعد پی آئی اے کے چیئرمین بنے۔ یعنی پی آئی اے کا چیئرمین ایک ایسا دولتمند سیاستدان بنا جِس کے ساتھ ایئر بلیو کی مالکی، دفاع کا تجربہ، ضیا الحق کی سوچ اور توانائی کے منصوبوں کا تجربہ ہمزاد کی طرح چِپکا ہوا تھا، تو اِس پر وہ اپنا کیا دفاع پیش کر سکیں گے؟ میں عدالتِ عظمیٰ کی نہیں اُس سے بڑی عدالت کی بات کر رہا ہوں، جِس کا تذکرہ نو منتخب وزیرِاعظم آج خود فرماتے رہے۔
ہماری رائے میں تو اگر وہ اپنے دو سال کی اسیری کا تذکرہ کر بھی لیں تو اس بات کا کیا جواز دیں گے کہ 2002 کے انتخابات میں وہ قاف لیگ سے نہیں، بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار سے ہارے تھے؟ پھِر 2007 میں کچھ عرصہ وزیرِتجارت رہنے کے بعد، 2013 میں کُچھ بنے تو وزیرِ پیٹرولیئم ہی بنے۔ غرضیکہ، دو سال کی اسیری اور اتنا طویل سیاسی کیریئر ہونے کے باوجود ایک سرکاری ادارے کی چھوٹی سی خوشامد نے ان کا جمہوری بُت پاش پاش کر دیا، جو ابھی پوری طرح تراشا بھی نہیں گیا تھا۔
ہم تو حیران ہیں کہ پی ٹی وی کے ایم ڈی صاحِب نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ شیخ رشید کی تقریر کا جو بھی حصہ انہوں نے خوشنودیء سرکار میں حذف کر دیا وہ شام کو نجی چینلوں پر بڑھا چڑھا کر بتایا جائے گا! ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خوشنودیء سرکار ہے تو بنگلہ، کوٹھی و کار ہے، مگر بھائی، آج کل معلومات کی بھرمارہے، یعنی اِس دور میں یہ سب کُچھ بیکار ہے۔
آپ یقین کیجیئے، ہم سچ مُچ حیران ہیں کہ ایم ڈی صاحب کو آخر کیا سُوجھی کہ ابھی وزیرِاعظم نے حلف بھی نہ اُٹھایا تھا کہ انہوں نے آزادیِ اِظہار پر حکومتی عزائم کو بے نقاب کر دیا۔
جہاں تک نون لیگ کے جمہوری ایمیج کا تعلق ہے تو ابھی تک تو لوگوں کے ذہنوں سے یہ سوال بھی محو نہیں ہوا کہ اسپیکر جِسے کسٹوڈیئن آف دی ہاؤس کہا جاتا ہے، کیا جمشید دستی کے پروڈکشن آرڈر دینے میں اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے؟ خیر اُن سے کیا گِلہ کریں، وہ تو آج سیّد نوید قمر کو بھی ہدایت کر رہے تھے کہ وہ ذرا اپنے اور نومولود وزیرِاعظم کی ذاتی دوستی کے حوالے سے گفتگو کر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیں۔ مگر نوجوانوں کے ذہن سے یہ تو قطعی طور پر محو نہیں ہوا کہ سابقہ وزیرِ ریلوے نے ابھی چند دِن پہلے ہی ریلوے ڈرائیوروں کو دہشت گردی کی دفعات لگا کر اندر کروا دیا اور اپنی جمہوری سوچ کا کھُل کر اظہار کیا ہے۔
مگر وزیرِ اعظم نے آج ایک عزم ظاہر کیا کہ وہ ایوان کے تقدّس کو بحال کریں گے۔ تو جنابِ وزیرِ اعظم، ایوان کا تقدس آذادیء اظہار پر پابندی لگا کر نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ راست نشریات سے اپنے ایک سیاسی مخالف کی تقریر کو حذف کرنے سے بہت سے لوگوں کو ہماری طرح یہی پیغام گیا ہے کہ صاحبو ضیاالحق کی مجلسِ شوریٰ کے ارکان بدلے ہیں نہ اِن کی سوچ اور نہ اُ کا طرزِعمل۔
باقی، آپ خود سمجھدار ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker