تجزیےفیضان عارفلکھاری

برطانیہ اور پاکستان کا نظام تعلیم : لندن سے ایک خط/ فیضان عارف

یہ میرے بیٹے کا سکول (نرسری) میں پہلا دن تھا، کلاس روم کے دروازے پر اس نے قطار میں کھڑے ہو کر کچھ دیر انتظارکیا اور پھر اندر داخل ہو کر میز پر رکھے اپنے نام کا ٹیگ اٹھا کر ٹوکری میں ڈال دیا۔ کچھ روز تو اُسے اپنے نام کا ٹیگ پہچاننے میں دشواری ہوئی پھر وہ اسے باآسانی پہچان کر ٹوکری میں ڈالنے لگا۔ ابتدا میں اُسے صرف تین گھنٹے کیلئے سکول (نرسری) جانا ہوتا تھا جہاں اس کی دلچسپی کے کھلونے موجود تھے اور ایسی گیمز کا اہتمام تھا جن کی وجہ سے اس کا دل اپنی کلاس کی مصروفیات میں لگا رہتا تھا۔ کلاس روم سے ملحقہ ایک ٹوائلٹ یعنی ڈبلیو سی بھی تھا جسے استعمال کرنے اور ہائی جین کا خیال رکھنے کے بارے میں پہلے دن سے اُسے تربیت دی جانے لگی۔ چند ہفتے بعد وہ پلاسٹک کے ایک کپ میں لگا چھوٹا پودا گھر لے کر آیا جس کا بیج اس نے سکول میں کپ کے اندر بویا تھا وہ بیج سے پودے کے اُگنے کی تفصیل بتاتے ہوئے بہت خوش تھا۔ کچھ مہینے بعد ایک سدھایا ہوا سفید اُلّو اس کی کلاس میں لایا گیا اور ہر بچے نے چمڑے کا لمبا دستانہ پہن کر اس اُلو کو اپنے ہاتھ پر بٹھا کر باری باری تصویریں بنوائیں۔ چار ماہ بعد سکول کی طرف سے ایک خط والدین کو بھیجا گیا کہ میرے بیٹے اور اس کی کلاس کے بچوں کو آدھے دن کے لئے ایک اینیمل فارم یعنی جانوروں کے باڑے میں لے جایا جائے گا۔
میں حیران تھا کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں بچوں کو غیر محسوس طریقے سے احساس دلایا جاتا ہے کہ پودے، پرندے اور جانور بھی ہماری اس کائنات کا حصہ ہیں ہمیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ برطانوی سکولوں میں جب بچے پرائمری جماعت میں ہوتے ہیں تو انہیں اساتذہ کی نگرانی میں مختلف عجائب گھروں، اہم مقامات، پارکوں اور باغات وغیرہ کی سیر کرائی جاتی ہے جہاں انہیں سڑک عبور کرنے، ٹرین یا بس کی ٹکٹ خریدنے اور ان میں سوار ہونے کی تربیت بھی ساتھ ساتھ دی جاتی ہے۔ پرائمری سکول میں ہی بچوں کو مختلف مذاہب کے بارے میں بنیادی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ یوں کہناچاہئے کہ مذاہب سے متعارف کرایا جاتا ہے تاکہ بچے دوسرے مذاہب کا احترام کرنا سیکھیں ۔جو بچے موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہوں یا کسی کھیل سے رغبت رکھتے ہوں یا فنون لطیفہ کی طرف راغب ہوں تو پرائمری سکول میں ہی اُن کی دلچسپی کے مطابق انہیں مختلف کلبز کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ اُن کے ذوق اور شوق کی تربیت ہو سکے۔ سیکنڈری سکولوں میں بچوں کو برطانیہ کے طرز معاشرت، لوکل کونسلوں اور حکومتی نظام کے بارے میں بنیادی معلومات سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ سیکنڈری سکول میں ہی بچے اپنی دلچسپی کے مطابق مضامین کا انتخاب کر کے اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرتے ہیں اور ا ن پر صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لئے والدین یا اساتذہ کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوتا اس لئے برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت اپنے لئے اُن شعبوں کا انتخاب کرتی ہے جو اُن کی پسند اور رجحان سے مطابقت رکھتے ہوں۔
اگر ہم برطانیہ کے نظام تعلیم اور خاص طور پر پرائمری تعلیم کا جائزہ لیں تو ایک بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہاں کے سکول ابتدائی جماعتوں میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ جس طرح تربیت کے عمل کو خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں اس سے چھوٹی عمر میں ہی بچوں کی شخصیت سازی کا مرحلہ طے ہو جاتا ہے اور یہ تربیت زندگی بھر اُن کے کام آتی ہے ۔ یکساں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی وجہ سے برطانیہ میں ہر رنگ و نسل اور مذہب کے لوگوں کو ایک ہی طرح کے مواقع میسر آتے ہیں اور ترقی کرنے کے لئے قابلیت اور اہلیت کو ہی اولیت حاصل ہے۔ برطانیہ میں جو بچے لازمی بنیادی تعلیم یعنی جی سی ایس سی کے بعد مزید پڑھنے لکھنے کی طرف مائل نہ ہوں اُن کو ہر طرح کا ہنر سکھانے کے لئے ایک سے ایک تربیت گاہیں اور ادارے موجود ہیں۔ ہیئر کٹنگ سے لے کر پلمبنگ، الیکٹریشن سے لے کر کار مکینک اور کارپینٹر سے درزی تک ہر شخص باقاعدہ ہنر سیکھ کر ان شعبوں میں آتا ہے اور ان ہنرمندوں کی اکثریت اپنے شوق اور رجحان کی وجہ سے یہ ہنر سیکھتی ہے۔ اگر آپ برطانیہ کے نظام تعلیم اور خاص طور پر پرائمری طرزِ تعلیم کا موازنہ پاکستان کے نظام تعلیم سے کریں تو ہمیں اپنے زوال اور علمی زبوں حالی کی وجہ آسانی سے سمجھ آ جائے گی۔
برطانیہ میں کالج تک تعلیم سب کے لئے مفت ہے سب کے لئے ایک جیسا تعلیمی نصاب ہے اور پرائمری تعلیم کے د وران بچوں کی تربیت کو بہت بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی تربیت انہیں نسلی امتیاز سے باز رکھتی ہے اُن کے اندر قوت برداشت کے جذبے کو غالب کرتی ہے، قانون اور ضابطے کا احترام کرنا سکھاتی ہے، شخصی آ زادی کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے، ماحولیات کی افادیت کا احساس اجاگر کرتی ہے، جانوروں، پرندوں، درختوں ، پودوں اور جانداروں کو اس کائنات کا حصہ ہونے کا ادراک عطا کرتی ہے۔ برطانیہ میں خواندگی کی شرح تقریباً سو فیصد ہے کیونکہ یہاں بنیادی تعلیم سب کے لئے لازمی ہے، برطانیہ کی ترقی اور خوشحالی کا راز اس کے نظام تعلیم و تربیت میں ہی پوشیدہ ہے بلکہ پوشیدہ بھی نہیں بہت نمایاں اور واضح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم واقعی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں تو واحد رستہ یہی ہے کہ پاکستان میں بنیادی تعلیم سب کے لئے لازمی، یکساں اور مفت ہو۔ کالج اور یونیورسٹیاں بنانا بھی اپنی جگہ اہم اور ضروری ہے مگر جب تک معیاری پرائمری تعلیم اور تربیت کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنائیں گے اس وقت تک ہم بھیڑ اور ہجوم سے ایک قوم میں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ کیسے ممکن ہے کہ ہماری نرسری میں صحت مند پودے نہ ہوں اور ہم ہرے بھرے جنگل کی آس لگائے رکھیں۔
اٹل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے جن ممالک نے بھی ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف سفر کیا ہے وہاں کے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے اپنی قوم کے لئے معیاری تعلیم اور تربیت کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہے اور خاص طور پر بنیادی اور پرائمری تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی مصلحت اور جواز سے بالاتر ہو کر کام کیا۔ ترقی یافتہ ممالک کے حالات اس بات کے گواہ ہیںکہ تعلیم اور علم ہی وہ راستہ ہے جو اقوام کے افراد میں حالات کے تقاضوں کا شعور بیدار کر کے اُن کو کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔ جو اقوام عالم تعلیم اور تربیت یافتہ ہیں وہاں انصاف کی بالادستی قانون کی حکمرانی، ضابطوں کی پاسداری، کرپشن سے نفرت، آبادی میں اضافے سے گریز، اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہی اور اپنے ملک سے محبت کے احساسات بہت مستحکم اور نمایاں ہیں۔ کتنی عجیب حقیقت اور کتنی بڑی خود فریبی ہے کہ ہم اپنی قوم کے لئے بنیادی اور معیاری تعلیم و تربیت کو اپنی پہلی ترجیح بنائے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب دیکھتے ہیں یعنی ہم ایک ایسی موٹر میں سوار ہیں جس کا سفر کراچی سے لاہور کی طرف جاری ہے مگر ہم کوئٹہ پہنچنا چاہتے ہیں جب تک ہم اپنی سمت اور راستے کا صحیح تعین نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری منزل ہم سے دور ہی رہے گی۔ آج ہم اُٹھتے بیٹھتے اہل مغرب کی بالا دستی اور سازشوں کا رونا روتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اہل مغرب کی بالا دستی کی بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی اقوام کے لئے تعلیم اور تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے اُن کے ملک پرامن، خوشحال، بنیادی ضروریات زندگی سے مزین اور انصاف پسند ہیں۔ دنیابھر کے 195 ممالک میں 52 ملک اسلامی ریاستیں یا اسلامی جمہوریہ ہیں لیکن دو چار ملکوں کو چھوڑکرشاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہو گا جہاں قوم کے لئے حکمرانوں کی ترجیحات میں علم اور تعلیم و تربیت ان کی پہلی ترجیح ہو یہی وجہ ہے کہ آج پوری مسلم دنیا میں کوئی اسلامی ملک کرونا وائرس کی ویکسین یا دوا ایجاد یا دریافت کرنے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ کرونا میں مبتلا مسلمان دل ہی دل میں دعا کرتے ہیں کہ کوئی کافر ملک اس وبا کا علاج جلد از جلد دریافت کر لے تاکہ ہمیں اس عذاب سے نجات ملے۔
اہل مغرب اپنے ماضی کو ایک تاریخ کے طور پر پڑھتے ہیں اس پر فخر بھی کرتے ہیں مگر محض فخر کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے موثر حکمت عملی سے کام لیتے ہیں جبکہ ہم صرف اپنے شاندار ماضی کو اپنے لئے فخر کی علامت بنائے رکھتے ہیں ۔جن ملکوں کے مسلمان ہیروز کو ہم اپنے لئے رول ماڈل اور امت مسلمہ کی شان کا معتبر حوالہ اور شناخت سمجھتے ہیں کبھی ان مسلمان ملکوں میں جا کر دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ ایک پاکستانی مسلمان کی حیثیت سے آپ کی کتنی قدر اور عزت کی جاتی ہے ۔ ہم یہ بات بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ اہل مغرب نے حضرف عمر ؓ کے ویلفیئر سسٹم کو اپنا کر اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کا نظام وضع کیا اور مسلمان سائنسدانوں کی بنیادی دریافتوں اور ایجادات سے استفادہ کر کے ترقی کے مراحل طے کئے۔ اگر اس بات کو سچ مان بھی لیا جائے تو کیا وجہ ہے آج کے مسلمان اپنی اس میراث کو اپنے لئے مشعل راہ نہ بنا سکے۔ اسلام نے علم کے حصول اور کائنات کے اسرار و رموز پر غور کرنے کی جو تلقین کی ہے ہم اس پر توجہ دینے اور عمل کرنے کی بجائے محض اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اسلام بہترین مذہب ہے مگر اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عصر حاضر میں مسلمان ایک بدترین قوم کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ ہمارے قول و عمل کے تضاد نے ہمیں زوال کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے اب اس زوال سے نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم نبی کریمﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے علم کے حصول کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں اور اللہ کے رسولﷺ کی طرح سچائی، سادگی، امانت داری، صلہ رحمی، خوش اخلاقی، ثابت قدمی، انصاف پسندی اور قناعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی کی منزل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker