اختصارئےفرحان اللہ ملک ایڈووکیٹلکھاری

بڑھیا مر گئی فاقے سے .. فرحان اللہ ملک ایڈووکیٹ

تاک دھنا دھن تاکے سے
بڑھیا مر گئی فاقے سے
ایک دوست نما چیز کے یہ زہر بھر ے عجیب ہم قافیہ ردیف جملے مجھے ایک دم سٹپٹانے کے لیے کافی تھے مگر اس وقت سمجھنے سے قاصر رہا کہ بحث تو میری روزی روٹی کی جدوجہد اور والد کے کردار کی ہو رہی تھی بیچ میں یہ تاک دھنا دھن تاکے سے کیا ہے۔
1947 ءکی آزادی سے دو قومی نظریہ کی بازگشت کی بنا پہ عام تل وطنی اور نئے مہاجرین مسلمان اور اقلیتیں اس غلط فہمی میں اتنی شدت سے مبتلا ہیں کہ شاید دینی اور دنیاوی روزمرہ کے امور کی انجام دہی میںمعاملہ میں وہ خود کفیل ہو چکے ہیں۔مگر 1947 کے بعد سے 1963,64تک کے نیو آباد کار مہاجرین کی آمد آزادی کے دن سے یونینسٹس اور جو ہندوستانی پنجاب رجمنٹ کی تقسیم کی بدولت دنیا بھر کی طرح استعمار کار کا خود کار نظام معرض وجود میں لا کر نیے وطن کے اندر ایک کالونی کے تشخص کو وجود بخشا گیا تو نیم خوابیدہ لٹے پٹے عام عوام کے لیے غربت ذلت کی چکی تیار تھی۔آئینہ دیکھنے کو آزادی کے دنوں میں ہی چین اور جاپان بھی آزاد ہوئے اور پھر سنگا پور 65 کے کے بعد آزاد ہوا اور بنگلہ دیش اکہتر میں ملزم نما کالونیل سٹیٹ سے علیحدہ ہونے میں کامیاب ہوا اور متذکرہ بالا ممالک آج ہم سے کہیں آگے ہیں۔اکہتر سال سے غریب عوام کے وسائل پہ اشرافیہ عوام کی فلاح کے گھسے پٹے بیانیے پہ عوام کا استحصال دیدہ دلیری سے کیے جا رہی ہے اور حکومت اور ادارے مل کر اپنے لیے دنیا کا ٹاپ کرپٹ ملک بنا چکے ہیں کہ جس کے مقتدر طبقہ کی مطلق العنانیت کو کو ئی مائی کا لعل چیلنج نہیں کر سکتا۔عوام بھوکی ننگی ایڑیاں رگڑ رہی ہے اور ملک خداداد میں کھربوں ڈالرجلسوں سیکورٹی چھوٹے شارٹ وقتی مینجیرز کی بڑی تنخواہوں پروٹوکولز اکھاڑ پچھاڑ آنیاں جانیاں چمک دمک پہ اڑا دیے جاتے ہیں کہ جس کی کچھ پرسنٹ رقم سے مل کے قرضے اتارے جا سکتے تھے مگر اکہتر سال کی بڑھیا کے ننگ و بھوک مٹانے کے لیے سواے دلاسوں دعووں کے کچھ نہیں جبکہ اشرافیہ کی اپنی عیاشیوں کے لیے یہ وطن کسی جنت سے کم نہیں وہ کسی نے کیا خوب کہا تھا
تاک دھنا دھن تاکے سے
بڑھیا مر گئی فاقے سے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker