فاروق عادلکالملکھاری

فاروق عادل کا کالم:چینی انٹیلی جنس ایجنسی کا نام کیا ہے؟

یہ واقعہ ایوان صدر کا ہے۔ مسلم لیگ ق کی کوئی تقریب تھی یا ایسا ہی کوئی اور موقع، عظیم چوہدری صاحب کی دل چسپی ان دنوں سیاست میں کچھ زیادہ تھی اور بھابھی آسیہ تو تھیں ہی قومی اسمبلی کی رکن۔ چوہدری صاحب کو جانے کیا سوجھی، وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور مسکراتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی طرف بڑھے۔
صحافی سیاست کی دنیا میں آ جائے، چاہے کسی دوسرے کوچے میں نکل جائے، اس کی شریانوں میں دوڑتے ہوئے لہو کے خلیوں میں سانس لیتی ہوئی صحافتی کیفیات ہمہ وقت زندہ رہتی ہیں۔
ملک کے طاقت ور ترین حکمران نے حکمراں جماعت کے ایک اہم عہدے دار کا نسبتاً سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ حکمران کے ساتھ ایک نیا چہرہ دیکھ کر سیماب صفت بیرے لپک کر ان کی طرف بڑھے لیکن جنرل مشرف نے آنکھ کے اشارے سے کچھ لینے سے انکار کیا تو عظیم چوہدری نے بھی ان کی پیروی کی۔ رسمی گفتگو ابھی جاری تھی کہ چوہدری صاحب کی رگ صحافت پھڑکی۔انھوں نے کچھ سوچتے ہوئے جنرل مشرف کی طرف دیکھا اور کہا کہ ایک بات آپ سے پوچھنی تھی۔
’’جی جی پوچھئے‘‘۔
جنرل مشرف نے میزبانوں جیسی فراخ دلانہ خوش دلی سے کہا۔
’’اس گھڑی میں نے سوچا کہ آج کیوں نہ ان سے بہت سی ایسی باتیں پوچھ لی جائیں جنھیں پوچھنے کا حوصلہ اب کوئی نہیں کر سکا‘‘۔’’خیال تو خوب ہے لیکن ایک رسمی، سرسری ملاقات میں مختصر سوال ہی زیب دیتا ہے نہ کہ بحث مباحثہ‘‘۔
چوہدری صاحب نے سوچا۔گھڑی کی چوتھائی میں یہ سب خیالات اُن کے ذہن میں آئے اور پلٹ گئے اور انھوں نے حکمراں سے وہی سوال کیا جو ان کے ذہن میں تھا۔ جنرل مشرف کو آمادہ گفتگو پا کر انھوں نے نہایت نپے تلے الفاظ میں سوال کیا:
’’سر، کیا آپ کو چین کی انٹیلی جنس ایجنسی کا نام معلوم ہے؟‘‘۔
ایوان صدر کی تقریبات کا ماحول نہایت، خوش گوار، سنجیدہ اور باوقار ہوتا ہے، شور شرابہ تو وہاں ویسے بھی نہیں ہوتا لیکن اس ایوان کے مکین کی موجودگی میں یہ کیفیت مزید گہری ہو جاتی ہے لیکن اُس گھڑی صاحبِ خانہ سے کیے جانے والے سوال نے گویا دھماکا کر دیا۔ یہ الفاظ جیسے ہی جنرل مشرف کے کان میں پڑے، انھوں نے مخاطب کی طرف دیکھ کر اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے بینکوئیٹ ہال کے اس دیو قامت آئینے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا جس میں دیکھنے والے کو اپنا قد خود بخود زیادہ محسوس ہوتا ہے لیکن اس جادوئی آئینے کی یہ خوبی بھی اس روز اس حکمران کی کوئی مدد نہ کر سکی۔ جنرل مشرف نے انتہائی دھیمی آواز میں، جو رازدارانہ لہجے کے والیوم سے ذرا ہی بلند ہو گی، بتایا:
’’مجھے نہیں معلوم‘‘۔
ان تین الفاظ نے سوال کرنے والے پرگویا بجلی گرا دی اور انھوں نے تڑپ کر سوال کیا کہ سر، آپ اس ملک کے صرف حکمران ہی نہیں بلکہ فوج کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے یہ بات کسی تاثر کے بغیر سنی اورمزید کہا کہ نہ صرف یہ کہ چین کی انٹیلی جنس ایجنسی کا نام انھیں معلوم نہیں بلکہ یہ بھی کبھی معلوم نہ ہوسکا کہ اس ادارے کی قیادت کون کرتا ہے۔اتنا کہہ کر جنرل مشرف لحظہ رکے پھر کہا کہ رسمی ملاقاتوں کا تو خیر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر سلامتی سے متعلق انتہائی غیر معمولی حالات میں کسی ایسے چینی عہدے دار سے کبھی کوئی ملاقات ہوئی بھی تو وہ پہلی اور آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ مطلب یہ کہ ایک عہدے دار ایک ہی فرد سے کبھی دوبارہ نہیں ملا۔
’’یہ ہوتا ہے قومی سلامتی سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذمے داروں کی شخصیت کا اسرار‘‘۔
عظیم چوہدری نے یہ واقعہ سنایا اور ایک جملے میں تبصرہ کر کے بات ختم کر دی۔
یہ واقعہ سنا تو محترمہ بے نظیربھٹو کے پہلے دور حکومت کی یاد تازہ ہوئی۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب حکومت کی طرف سے افغان مجاہدین کی حکومت تسلیم کرنے کے لیے یہ شرط عاید کی گئی کہ وہ اگر جلال آباد پر قبضہ کرلیں تو ان کی حکومت کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ یہ مہم کامیاب نہ ہوسکی جس پر وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔ اُس زمانے کی کشیدہ سیاسی صورت حال میں ملک بھر میں اس تلخی کی گونج پورے ملک میں سنی گئی۔اس زمانے میں لوگ آئی ایس آئی کے سربراہ کو کتنا جانتے تھے؟
آج شاید کوئی یقین نہ کرے کہ لوگوں کو ان کا درست نام تک معلوم نہ تھا، کوئی اس زمانے کے اخبارات نکال کر دیکھے گا تو حیرت میں ڈوب جائے گا کیوں کہ ان دنوں جب کبھی بھی ان کا نام شایع ہوا، جنرل ’گل حمید‘کے نام سے شایع ہوا۔ اسی طرح ان دنوں ان کی صرف ایک ہی تصویر دست یاب تھی اور وہ بھی بلیک اینڈ وائٹ جسے ہفت روزہ ٹائم نے کبھی شایع کیا تھا۔ جلال آباد کے واقعے کے بعد جب بے نظیر بھٹو سے جنرل حمید گل کی تلخ کلامی کی خبریں اور جائزے شایع ہوئے تو اس موقعے پر ان کے غلط نام کے ساتھ وہی ٹائم والی واحد تصویر شایع ہوئی۔ بعد میں جب ان کا اصل نام معلوم ہوا تو بڑی حیرت ہوئی۔
جہاد افغانستان کے پس پشت اصل حکمت کار بریگیڈیئر محمد یوسف کو ریٹائر ہوئے،اس وقت تک دو برس گزر چکے تھے، ان کی کتاب’’’دی بیئر ٹریپ‘‘شایع ہونے والی تھی اور اُن دنوں وہ چند لوگوں سے کھلی گپ شپ کرنے لگے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی اسٹار انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کادرست نام تک معلوم نہیں۔ کہنے لگے:
’’اس لیے کہ ان کے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے‘‘۔
پھر بتایا کہ افغان سیل کے سربراہ کی حیثیت سے اس ادارے میں میری اہمیت ظاہر ہے کہ بہت زیادہ تھی لیکن تم یقین کرو گے کہ میں جانتا تھا اور نہ کبھی معلوم کرنے کی کوشش کی ساتھ والے سیل میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں کون ہوتا ہے۔
’’انٹیلی جنس کا کام ایسا ہی ہوتا ہے‘‘۔
انھوں نے کہا۔سیاست اور اس کا کلچر بدلا تو ہمارے ہاں جانے کیاکچھ بدل گیا لیکن دنیا میں جاسوسی اور خفیہ کاری کے طریقے ویسے کے ویسے ہی رہے، یہاں تک کہ ماضی قریب میں بھی۔
ریمنڈ ڈیوس والے واقعے میں جب اسے سفارت کار قرار دے کر چھوڑنے کے لیے امریکی دباؤبہت بڑھ گیا تو پاکستان میں ایک دل چسپ اور تاریخی واقعہ رونما ہوا۔ اس خطے میں سی آئی اے کے علاقائی سربراہ کا نام ذرایع ابلاغ کے توسط سے عام ہو گیا۔ جیسے ہی یہ واقعہ رونما ہوا، وہ شخص پاکستان سے راتوں رات افغانستان پہنچا اور وہاں سے امریکا روانہ ہو گیا۔ اس تیز رفتاری کے پیچھے حکمت یہ تھی کہ وہ شخص جو بے نقاب ہو چکا ہے، اب وہ اپنا کام کس طرح کر سکے گا؟
گزشتہ ہفتے بھر سے ہمارے بعض بھائی بندوں نے ذرایع ابلاغ پر جو اودھم مچا رکھا ہے اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنی باخبری اور کچھ ذمے داروں کو زیادہ سے زیادہ جاننے کا جو ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ ایسا کر کے وہ اپنے قومی اداروں کا کام آسان کر رہے ہیں یا مزید مشکل بنا رہے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker