اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع نجی مال سینٹورس میں آگ لگ گئی جس پر دو گھنٹوں کی کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا۔ترجمان سی ڈی اے کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک شاپنگ مال کو سیل کردیا گیا ہے۔
خیال رہےکہ آج شام سیکٹر ایف ایٹ میں واقع نجی مال میں آگ لگ گئی تھی جس پر 2 گھنٹوں کی کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا تھا،فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے آگ بجھانے کی کارروائی میں حصہ لیا، فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مال کے چوتھے فلور پر واقع فوڈ کورٹ کے کچن میں آگ لگی جو مال کے دیگر حصوں تک پھیل گئی، شاپنگ مال کی اونچائی کے باعث فائربریگیڈ کو آگ پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا رہا۔ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہےکہ مال میں آگ لگنےکی وجوہات کی تحقیقات تک عمارت سیل رہےگی اور کسی کو بھی شاپنگ مال میں داخل ہونےکی اجازت نہیں ہوگی۔
ضلعی انتظامیہ نے نجی مال کو فوری سیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے اور آتشزدگی کی وجوہات کے تعین کے لیے 7 رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کمیٹی کےکنوینر مقرر کیےگئے ہیں،کمیٹی تعین کرے گی کہ عمارت میں فائر سیفٹی آلات آپریشنل تھے یا نہیں، کمیٹی آتشزدگی کے باعث نقصانات کا بھی تعین کرےگی۔
بی بی سی کے مطابق اتوار کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز میں واقع سینٹورس مال میں آگ بھڑک اٹھی اور دور دور تک اس سے نکلتا ہوا دھواں دکھائی دیا۔ سوشل میڈیا پر آنے والی تصاویر اور فوٹیج میں مال کے ایک حصے میں عمارت کے اندر اور باہر آگ کے شعلے بھی نظر آئے۔
ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد عمارت خالی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور لوگ باہر کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سینٹورس مال سے محفوظ طریقے سے باہر آنے والے ماجد عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے ہی آگ لگی لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، بہت ہلا گلا مچ رہا تھا، بڑی مشکل سے لوگ جان بچا کر باہر نکلے۔
ان کے مطابق اندر دھواں نہیں تھا، باہر دھواں تھا۔ ان کے مطابق ’مال کے سکیورٹی گارڈ لوگوں کو باہر نکال رہے تھے، الارم بج تھے، مال کی سکیورٹی آ گئی تھی، انھوں نے سب کو باہر نکال دیا، اندر بہت زیادہ رش تھا، بھاگنے کی جگہ ہی نہیں مل رہی تھی، بڑی مشکل سے باہر نکلا ہوں‘۔
ماجد عباسی کے مطابق ’سب لوگ اپنا مال اندر چھوڑ کر بھاگے ہیں، چیخ و پکار بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ ہم 15 سے 20 منٹ اندر تھے، جیسے رش کم ہوا تو ہمیں باہر نکالا گیا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم فوڈ کوڈ پر موجود تھے۔ ویکینڈ تھا اور لنچ کا وقت تھا تو لوگ وہاں موجود تھے، ہم لفٹ کے ذریعے نیچے آئے۔‘
توقیر تین برس سے اس مال میں ایک دکان پر ملازمت کر رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ صبح معمول کے مطابق سب چل رہا تھا۔ اچھا رش ہوا تو خیال آیا کہ آج سیل بھی زیادہ ہو گی۔ توقیر کے مطابق ’مجھے بعد میں (اپنے ساتھیوں سے) پتا چلا کہ مونال ہوٹل پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی۔‘
ان کے مطابق کافی زیادہ رش تھا، مال کی سکیورٹی نے آگ پھیلنے سے پہلے پہلے لوگوں کو باہر نکال دیا۔ دھواں پھیلنے سے پہلے لوگوں کو باہر نکال دیا گیا۔ ہم آخر میں مال سے باہر نکلے۔‘
توقیر کے مطابق آگ تقریباً ساڑھے تین بجے بھڑک اٹھی اور اس کے بعد 30 منٹ تک لوگوں کو باہر نکالنے میں لگے۔ ان کے مطابق باہر آ کر پتا چلا کہ آگ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق فرنٹ سے شیشے گر رہے تھے اور مال کی انتظامیہ نے لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے ایمرجنسی رستے کھول دیے تھے۔

