اختصارئےفہیم عامرلکھاری

صحافی آزادی ء صحافت کے نام پر دھوکہ نہ کھائیں : رپورٹ فہیم عامر

صحافتی آزادی کے حوالے سے پاکستان انقلابی پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور میں بذریعہ وڈیو لنک منعقد ہوا جِس میں صحافت کے شعبے سے منسلک پاکستان انقلابی پارٹی کے رہنماؤں فہیم عامر، رشید مصباح، شفیق بھٹی اور یٰسین حیدری بادشاہ سمیت دیگر صحافیوں نے خِطاب کیا۔
فہیم عامر نے کہا کہ معاشی آزادی کے بغیر حرمتِ حرف اور صحافتی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ویج بورڈ کے مسائل ہوں یا صحافیوں کے اجرت کے مسائل، صحافتی آزادیوں کی راہ میں بھی مقتدر طبقات ہی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں حائل نظر آئیں گے۔ جنرل مشرف کے دور میں نجی ٹیلی ویژن چینلوں کو دیئے جانے والے لائسنسوں نے بھی اینکروکریسی اور اخبار مالکان پر مُشتمل ایک مافیا ہی کو تشکیل دیا۔
اپنے خِطاب کے دوران انہوں نے منہاج برنا کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی ترقی پسند قوتیں ہمیشہ ہی سے آز ادیء صحافت کے لیئے سرگرم رہی ہیں اور آج پاکستان انقلابی پارٹی اِس مشن کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا آج ملک کو آزاد کہا جاتا ہے مگر یہ کیسی آز ادی ہے جہاں صحافت تو صحافت بلکہ عدلیہ اور دیگر محتسب اداروں کے ہاتھ بھی بندھے ہیں۔
ان کا کہنا تھا پاکستان ایک عرصے سے صحافیوں کے لیئے خطرناک ترین جگہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیئے پاکستان انقلابی پارٹی نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی صحافتی اداروں کے بھی ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا پاکستان انقلابی پارٹی آزادیء صحافت کے لیئے سب سے پہلے صحافیوں کو معاشی سطح پر اخبار مالکان کے استحصال سے بچانے کا عزم رکھتی کیونکہ یہی ایک بنیاد ہے جِس کے اوپر سرکاری اداروں کے جبروتسلط اور سیاسی اثرورسوخ سے بچ کر آزاد صحافت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
پروفیسر رشید مصباح کا کہنا تھا صحافت ہی دراصل عصرِ حاضر کی درست تاریخ ہوتی ہے مگر ایک عرصے سے آنے والی نسلوں کے لیئے محض حکمران طبقات کا ہی لکھا اور پڑھایا جا رہا ہے۔ ہم بائیں بازو کے ترقی پسندوں نے ایوب خان کا نیشنل پریس ٹرسٹ بھی دیکھا، جنرل ضیاء الحق کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب اخبارات خالی چھاپے جاتے تھے اور عہدِ حاضر میں صحافیوں کو تھپڑ پڑتے بھی دیکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ان کی اس بات کو کسی فرد کی تائید نہ سمجھا جائے کیونکہ جن جن صحافیوں کو تھپڑ مارے گئے اور جن وجوہات کی بنیاد پر مارے گئے، وہ ان کو سرے سے صحافی تسلیم ہی نہیں کرتے کیونک وہ خود بھی صحافی ہونے کی بجائے مقتدر طبقات کے آلہء کار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مگر ہم اس حکومتی بدمعاش کی سختی سے مذمت کرتے ہیں جس کا فرضِ اولیں شادی بیاہوں میں جا کر ان نام نہاد صحافیوں کو ز دوکوب کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا آج کل صحافت کی آزادی کے نام پر ایک بڑا اخباری ادارہ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس ادارے کو آزادیء صحافت کا خیال تب آیا جب حکمران طبقات نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیئے انہیں سرکاری اداروں کا نشانہ بنا رکھا ہے وگرنہ اس ادارے میں بھی صحافیوں کے ساتھ جو جو سلوک ہوتا رہا، پاکستان انقلابی پارٹی اچھی طرح جانتی ہے، اس لیئے صحافی حضرات کسی دھوکے میں نہ آئیں۔
شفیق بھٹی کا کہنا تھا صحافتی ادارے مسلسل صحافتی برادری کے حقوق کے لیئے جدوجہد کے عمل میں ہیں مگر مقتدر طبقات کسی بھی حوالے سے صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا اگر حکمران واقعی پاکستان میں حرمتِ حرف کے لیئے کُچھ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو آئیں اور ہم سے بیٹھ کر بات کریں۔
یٰسین حیدری بادشاہ کا کہنا تھا چھوٹے اخبارات کو اے پی این ایس اور حکومت دونوں سے ہی کوئی معاونت نہیں مل رہی اسی لیئے آج صحافت کے شعبے میں صحافی کم اور ٹاؤٹ زیادہ نظر آ رہے ہیں۔ حکومت اس سلسلے میں توجہ دے ورنہ پاکستان انقلابی پارٹی سلطانیء جمہور کے بہت جلد آنے والے زمانے میں زرد صحافت کے نقشِ کہن کو بھی مکمل طور مٹا دے گی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker