ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ : پی ڈی ایم کی تحریک ، کیا مولانا تنہا رہ گئے ؟

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم)کی حالیہ حکمت عملی سے حکومت پر دباؤ کم ہوتا دکھائی دے رہاہے۔ ایک جانب پی ڈی ایم نے جلسوں کے بعد اسمبلیوں سے استعفوں اور لانگ مارچ کا اعلان کیا تو دوسری جانب ضمنی انتخابات اور سینٹ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیاگیا۔
سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمن کی جانب سے اسلام آباد یا راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ کے اعلان پر بھی دیگر جماعتیں متفق دکھائی نہیں دیتیں۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے دعوے اپنی جگہ لیکن زمینی حقائق کے مطابق پی ڈی ایم کی حکمت عملی زیادہ منظم اور مؤثر نہیں لگتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن نے ایوانوں سے مستعفی ہونے اور راولپنڈی جانے کا اعلان جلدی میں کیا، مزید براں انتخابی عمل کا حصہ بننے سے پہلے والا پریشر بھی کم ہوتا جارہاہے جس سے لگتا ہے اس صورت حال میں حکومت خراب کارکردگی کے باوجود خطرے میں نہیں ہے۔
اپوزیشن اورحکومت کے دعوے
موجودہ سیاسی صورت حال میں ایک طرف حکومت اوراپوزیشن ملک میں قومی و صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں پر ضمنی الیکشن جیتنے اور سینیٹ میں ایک دوسرے پر برتری کی کوشش میں مصروف ہیں تو دوسری طرف دونوں جانب سے بیان بازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔مسلم لیگ ن کے مرکزی جنرل سیکرٹری احسن اقبال کے مطابق مسلم لیگ ن ضمنی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی اورپہلے سے بڑی کامیابی حاصل کرے گی ۔ان کا کہنا تھا تھا کہ حکومت نے ضمنی انتخابات ڈی سی، اے سی ڈی آئی جی یا آر پی او کے ووٹوں سے نہیں بلکہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے ہیں اور عوام ثابت کریں گے کہ حکومت اعتماد کھو چکی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان حقیقی تبدیلی اور ہم نئے منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان نے یوٹیوبرز سے گفتگو میں اپوزیشن کی کردار کشی کی۔ انہیں اپوزیشن کی کردار کشی اور جھوٹے مقدمے کے علاوہ الف بے نہیں پتہ۔ انہوں نے کہا کہ میں شہزاد اکبر اور عمران خان سے پوچھتا ہوں کہ 32 سو ارب روپے آخری گیارہویں مہینے میں کیوں لگائے گئے؟
صوبائی وزیر سبطین خان سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ جمہوریت بحالی کا راگ الاپنے والے پہلے اپنا امیج بحال کرلیں۔ پی ڈی ایم شہر شہر جلسے کر کے عوام کو گمراہ مت کرے۔ کرپٹ ٹولے کے جلسے چور مچائے شور کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہا اپوزیشن لیڈر عوام کے سامنے بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ 2020کی طرح 2021 بھی اپوزیشن کی سبکی کا سال ہے۔ رواں سال اپوزیشن کی مایوسی میں اضافہ کرے گا۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے والے خود ضمنی الیکشن لڑنے پر قائل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کا حصہ لینے کا فیصلہ حکومت کی جیت ہے۔
استعفے اور انتخابات میں حصہ لینے کی پالیسی
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی سے اس سیاسی منظرنامے پر بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ایک پیج پر نہیں کیونکہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے جو سخت موقف اپنایاگیاہے کہ راولپنڈی تک لانگ مارچ ہوگا اس پر بڑی دونوں اپوزیشن جماعتیں متفق نہیں کیونکہ ان کے سٹیک ہیں۔ اقتدار میں رہنے والی جماعتیں کبھی ایسے انتہائی قدم کی حمایت نہیں کریں گی۔ سلمان غنی کے مطابق دوسری جانب اسمبلیوں سے استعفوں اور سینٹ انتخابات کے بائیکاٹ پر بھی اپوزیشن تقسیم دکھائی دی کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ انتخابی عمل سے باہر نہیں ہوسکتیں۔ اب ضمنی الیکشن اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان سے اختلاف ظاہر ہوا ہے۔ایسی صورت حال میں ایک طرف استعفوں اور لانگ مارچ جیسا انتہائی قدم دوسری جانب سینیٹ اور ضمنی الیکشن کی تیاریوں سے موقف کمزور ہوا ہے۔ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمن کے سخت موقف پر دونوں بڑی جماعتیں ساتھ دینے کوتیار نہیں۔
اینکر پرسن منصور علی خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم تیسری بار حکومت مخالف تحریک کا آغاز کر کے غیر موثر ہوچکی ہے۔ پہلے چیئرمین سینیٹ پرعدم اعتماد کی کوشش پھر اسلام آباد دھرنے اور اب جلسوں کے بعد حکومت پردباؤ کم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں کے مختلف سیاسی انداز ہیں اپنے اپنے مفادات ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ اتحاد فطری نہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے استعفے تو جمع ہونے کا دعوی کیا مگر کئی ارکان نے استعفے نہیں دیے نہ دینا چاہتے ہیں۔پھر جلسے کیے گئے اورلانگ مارچ کا اعلان ہوا مگرپیپلز پارٹی راولپنڈی کی طرف رخ کرنے پر تحفظات کا شکار ہے۔ منصور علی کے خیال میں ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان پی ڈی ایم کے سخت اعلانات کا کھوکھلا پن ظاہر کرتاہے۔ دراصل اپوزیشن مؤثر اور ٹھوس حکمت عملی کے تحت اب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف اتحاد پیدا نہیں کر سکی۔ حتیٰ کہ گلگت کے انتخابات ہوں یا ضمنی الیکشن اور سینٹ انتخابات اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہوسکیں اورنہ کوئی انتخابی اتحاد بنا جس کا فائدہ حکومت کو پہنچ رہاہے جب کہ ہر اپوزیشن جماعت اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker