اہم خبریں

غزہ پر اسرائیل کا حملہ: اہم کمانڈر اور بچی سمیت 10 افراد ہلاک

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں ایک عسکریت پسند کمانڈر سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسند کمانڈر تيسير الجعبری کی جانب سے مبینہ طور پر دی جانے والی دھمکیوں کے ردعمل میں یہ کارروائی کی تھی۔
مقامی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بچی بھی شامل ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ کارروائی گذشتہ دنوں غرب اردن میں فلسطینی اسلامک جہاد، پی آئی جے کے ایک سرکردہ رہنما کی گرفتاری سے پیدا ہونے والے تناؤ کے بعد کی گئی ہے۔
غزہ میں موجود پی آئی جے نے یہ دھمکی دی تھی کہ مرکزی اسرائیل کو بموں سے نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پی آئی جے نے `ابتدائی ردعمل میں` اسرائیل پر 100 سے زیادہ راکٹ فائر کیے تاہم زیادہ تر کو اسرائیل کی آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس شیلڈ نے روک دیا۔
ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم یائیر لاپڈ نے کہا کہ `اسرائیل نے ایک فوری خطرے کے خلاف دہشت گردی کے خلاف ایک درست آپریشن کیا۔‘
وزیراعظم یائیر لاپڈ نے کہا تھا کہ اسرائیل دہشت گرد تنظیموں کو ایجنڈا سیٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ `جو بھی اسرائیل کو نقصان پہچانے کے لیے کھڑا ہو گا اسے بتایا دیں کہ ہم اس تک جا پہنچیں گے۔ ہماری سکیورٹی فورسز اسرائیلی شہریوں کو لاحق خطرے کو حتم کرنے کے لیے اسلامک جہاد کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گی۔ ‘
اسرائیل کی دفاعی افواج آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس نے ان جگہوں کو نشانہ بنایا ہے جو پی آئی جے سے منسلک ہیں۔
ان میں غزہ شہر کا بلند ٹاور بھی شامل ہے، حملے سے وہاں ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے نتیجے میں عمارت سے دھواں اٹھنے لگا۔
مقامی صحت سے منسلک حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں پی آئی جے کے کمانڈر تيسير الجعبری اور پانچ سالہ بچی سمیت متعدد افراد شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 55 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف کا اندازہ ہے کہ 15 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
ایران میں اپنے دورے کے موقع پر پی آئی جے کے سیکریٹری جنرل زیاد النخالہ نے کہا کہ `ہم اس جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے، لڑائی ہو گی اور اس میں ہمارے لوگ جیتیں گے۔
`اس جنگ میں کوئی سرخ لکیر نہیں ہے۔۔۔ اور تل ابیب مزاحمتی راکٹوں کے نرغے میں ہو گا۔‘
دوسری جانب حماس نے کہا کہ ہے کہ مسلح گروہ اس جنگ میں `متحد‘ ہیں اور وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
پیر کی رات کو اسرائیل نے بسیم سعدی کو گرفتار کیا تھا اور رپورٹ کی تھی کہ وہ پی آئی جی کے غرب اردن میں سربراہ ہیں۔
انھیں جینن کے علاقے میں قید میں رکھا گیا تھا۔ اسرائیلی عربوں اور فلسطینیوں کے حملوں کے نتیجے میں 17 اسرائیلی اور دو یوکرینی ہلاک ہوئے تھے اور دو حملہ آور ضلع جینن سے آئے تھے۔
بسیم سعدی کی گرفتاری کے بعد نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر موجود آبادیوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کو مزید سخت کر دیا تھا اور انتباہ جاری کیا تھا کہ پی آئی جے شہریوں اور سپاہیوں پر حملے کرنا چاہتا ہے۔
پی آئی جے کو ایران کی حمایت حاصل ہے اس کا ہیڈ کوارٹر دمشق، شام میں ہے اور یہ غزہ میں موجود مضبوط ترین عسکریت پسند گروہوں میں سے ایک ہے۔
اس گروپ پر اسرائیل میں بہت سے حمل ےکرنے کا الزام ہے جن میں فائرنگ اور راکٹ حملے دونوں شامل ہیں۔
اسرائیل اور پی آئی جے نے سنہ 2019 میں پانچ روز تک جنگ کی تھی۔ یہ لڑائی بھی اسرائیل کی جانب سے ایک پی آئی جے کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ مرنے والے کمانڈر کے بارے میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس تشدد کے نتیجے میں 34 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے اور 111 زحمی ہوئے تھے جبکہ 63 اسرائیلیوں کو بھی طبی امداد کی ضرورت پڑی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے 25 فلسطینی عسکریت پسند تھے جن میں سے وہ بھی شامل تھے جو راکٹ حملے کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker