شاعریلکھاریماہ طلعت زاہدی

خدا حافظ : ماہ طلعت زاہدی کی غزل

خدا حافظ : ماہ طلعت زاہدی کی غزل

بے َکہے، بے ُسنے ُخدا حافظ
جو بھی ُگزرے اُسے ُخدا حافظ

درد ُرک بھی گیا اگر تو کیا
ہے َاجل سامنے ُخدا حافظ

لغزشیں سب ُمعاف ہوں میری
وقت ُعجلت میں ہے ُخدا حافظ

ِِاِتنی ناراضگی، ارے توبہ!
وہ بھی بیمار سے! ُخدا حافظ

کم سے کم ُمڑ کے دیکھئے صاحب
زندگی کہتی ہے ُخدا حافظ

درد ہے یا ہے موت کی دستک
بے َبسی کیا کرے، ُخدا حافظ

کارِ دُنیا تو ختم ہوتا نہیں
کہنا ہی پڑتا ہے ُخدا حافظ

ماہ طلعت زاہدی

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker