بلوچستانغلام یاسین بزنجولکھاری

سروز : ایک بلوچی ساز جو ماضی کا حصہ بن گیا ۔۔ ‬غلام یاسین بزنجو

انسان کو قدیم زمانے سے اپنی ثقافت کے ساتھ اپنی زبان میں موسیقی پسند ہے ۔ انسان نے شروع سے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے چیزیں ایجاد کیں ۔ اسی طرح روح کو خوشگوار بنانے  کے لئے موسیقی کے  آلات بنائے ۔ دنیا میں آج بھی بلوچ قوم کو اپنی ثقافت کا امین سمجھا جاتا ہے ۔ چونکہ بلوچ قوم نے روز اول سے اپنی ثقافت سے محبت کی اور پوری دنیا کو حیران کردیا ۔                                               سروز بلوچ ثقافت کا ایک ایسا  آلہ ہے ، جس کی تاریخ بہت پرانی بتائی جاتی ہے ۔ سروز  چنال اور شیشم کے درختوں کی لکڑیاں تراشنے کے مراحل سے گزار کر تیار کی جاتی ہے ۔ معروف سروزی عیسل معیار داودی نے سروز کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سروز کا بجانا جتنا مشکل ہے ، اتنا ہی سروز بنانا بھی مشکل ہے ۔ ان کے مطابق سروز کو تراش کر تیار کرنے کے بعد بارہ سے سترہ تار لگائے جاتے ہیں ۔ ایک اور لکڑی جو کہ اکثر شاگ کے درخت سے لی جاتی ہے اور اسے گھوڑے کے بالوں کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اور اس کی مدد ہی سے سروز بجایا جاتا ہے ۔  سروز کی آواز انتہائی سریلی اور دلکش ہوتی ہے ۔ تاہم آج تک کسی نے سروز کی اصل تاریخ نہیں بتائی  ۔ یہی کہا جاتا ہے کہ سروز کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ۔ عیسل معیار داودی نے یہ بھی بتایا کہ سروز شہتوت کے درختوں سے بھی تیار کی جاتی ہے ۔ تاہم ان کے مطابق سروز کی آواز کو سریلی اور معیاری بنانے میں لکڑیوں کا عمل دخل زیادہ ہے ۔ واضح رہے کہ سروز کی آواز بینجو سے مختلف ہے ۔ بلوچستان میں سروز بجانے والوں کی تعداد خاصی محدود ہوتی جارہی ہے ۔ لوگ تو سروز کی آواز سننے کے لئے انتہائی بے چین ہوتے ہیں مگر سروز بجانے والے استاد کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کہیں بلوچ قومی ثقافت میں سروز معدوم نہ ہو جائے ۔ اس سلسلے میں عیسل معیاد داودی کا کہنا ہے کہ بلوچ نوجوان نسل چونکہ سہل پسند ہے ، اس لئے سروز ہمارے نوجوان نسل کے لئے مشکل سازوں میں سے ایک ہے ۔ اس حوالے سے پسنی کے بینجو ماسٹر فیض نے کہا کہ اس نے سروز بجانے کی کافی کوشش کی ہے مگر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔  پرانے زمانے میں بلوچ شعرا نے سروز کے ساتھ اپنے اشعار گا کر شہرت حاصل کی ہے ۔ اب بھی بلوچی زبان کے گلوکار اپنے گیت سروز کے ساتھ پرانے دھنوں کے ساتھ گاتے رہتے ہیں ۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ سروز آج اس طرح دکھائی نہیں دیتی جس طرح بلوچ قوم اپنی اس قومی ثقافتی ورثے پر فکر کرتی ہے ۔ حالانکہ بلوچستان کا ساحلی شہر پسنی جو شاعروں ادیبوں اور بلوچی موسیقاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے ، لیکن یہاں آج ایک بھی اچھا سروزی نہیں ہے ۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ کہیں سروز کا فن غائب اور اس کے فنکار ناپید نہ ہوجائیں ۔ عیسل معیار داودی نے افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی کے سروز فن سے منسلک لوگوں میں پھلان داؤد ، زباد کولواہی ،  نوکو سروزی کافی مشہور فنکار بتائے جاتے ہیں ۔ مگر ان لوگوں کی رحلت کے آج یہ فن یعنی سروز  لاوارث ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker