Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اپریل 11, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ڈیزل 135، پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کرنے کا اعلان
  • مارکسزم، طب اور تضادات کی دنیا : ڈاکٹر علی شاذف کاکالم
  • پاکستانی وزیر دفاع کا غیرسفارتی اور غیر ذمہ دارانہ بیان : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اسلام آباد مذاکرات اور حزب اللہ کے 100 رہنماؤں کے قتل کی افواہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • سابق گورنر پنجاب سردارذوالفقار کھوسہ انتقال کر گئے
  • ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی ہیں : امریکی وزیرِ جنگ کا دعویٰ
  • جنگ بندی یا وقتی سکون ۔۔ کیا ایران کو ایٹمی قوت تسلیم کر لیا جائے گا ؟ ۔۔ شہزاد عمران یوسف زئی کا تجزیہ
  • زمانہ طالب علمی کی ایک یاد ، نیا مکتبہ اور پروفیسر ایف ایم خان : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی یاد نگاری
  • غیر مہذب اور پتھر کے زمانے کا ٹرمپ کیا جانے تہذیب کیا ہے ؟ صدائے ابابیل / معصومہ شیرازی کا اختصاریہ
  • پاکستان نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بند کرا دی : پرسوں اسلام آباد میں ایران امریکا مذکرات
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»گریٹر تھل کینال : لقمان اسد کا کالم
کالم

گریٹر تھل کینال : لقمان اسد کا کالم

ایڈیٹرجولائی 20, 202519 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
greater-thal-canal-project
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جب ہم گریٹر تھل جیسے منصوبے کی بات کرتے ہیں تو ہمیں تھل کی زمینوں پر ایک یلغار کی بات بھی کرنا پڑتی ہے جو کلیم مافیا کے ہاتھوں مقامی افراد سے جعلی کلیموں کے ذریعے چھینی گئی اور یہ مسئلہ بھی بحث طلب ہے تاہم پانی کے بغیر کسی بھی اراضی کی زندگی ناممکن ہے۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور اقتدار میں پانی کی تقسیم کا بین الصوبائی معاہدہ طے پایا اس وقت دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں جہلم، چناب، راوی، ستلج، بیاس، کابل اور کرم کا سالانہ اوسط بہاؤ 146ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اس میں سے تقریباً 114ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال ملک میں موجود سینکڑوں نہروں میں چھوڑا جاتا۔
اس معاہدے میں خریف (اپریل تا ستمبر) اور ربیع (اکتوبر تا مارچ) کے موسموں کیلئے علیحدہ علیحدہ بھی پانی کا کوٹہ مختص کیا گیا۔ اس کے مطابق ہر موسمِ خریف میں پنجاب کو 37.07ملین ایکڑ فٹ، سندھ کو 33.94ملین ایکڑ فٹ، خیبر پختونخوا کو 3.48ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 2.85ملین ایکڑ فٹ پانی ملنا چاہیے۔ اسی طرح ہر موسمِ ربیع میں پنجاب کے حصے میں 18.87ملین ایکڑ فٹ، سندھ کے حصے میں 14.82ملین ایکڑ فٹ، خیبر پختونخوا کے حصے میں 2.30ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کے حصے میں 1.02ملین ایکڑ فٹ پانی آنا چاہیے۔ چونکہ موضوع ”گریٹر تھل کینال“ہے سو اس پر لکھنا ضروری ٹھہرا،پنجاب کے مغربی اور جنوبی اضلاع سے گزرنے والی نہروں میں سے ایک، چشمہ جہلم لنک کینال سے ضلع خوشاب کے مقام آدھی کوٹ پر 35کلومیٹر لمبی گریٹر تھل کینال نکالی گئی ہے۔
اس کی تعمیر جنرل پرویز مشرف کےدور حکومت میں2002 میں شروع ہوئی جوجون 2009 میں مکمل ہوئی۔ اس نہر سے تین سو 44کلومیٹر لمبی چار شاخیں نکالے جانے کا عندیہ دیا گیاجن کے ذریعے میانوالی، جھنگ، خوشاب، لیہ،بھکر اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں 17لاکھ 38ہزار ایکڑ ایسی اراضی کو سیراب کرنا تھا جو تھل کے صحرا کا حصہ ہے۔ ان شاخوں میں سے منکیرہ برانچ تعمیر ہو چکی ہے اور چوبارہ برانچ کی تعمیر بھی اپنے آخری مراحل طے کرچکی ہےجبکہ ڈھنگانہ اور نورپور تھل برانچوں پربھی کام کیاجاچکا ہے۔اس منصوبہ کی سست روی کا پس منظر یہ ہے کہ سندھ کے کاشت کاروں اور سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ گریٹر تھل کینال کی مخالفت کی ہے۔ لیکن اس کی تعمیر اس لیے ممکن ہوئی کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت (2008-1999) میں اس صوبے میں ایک ایسی حکومت قائم تھی جس کا وجود مرکزی حکومت کی سرپرستی کا مرہونِ منت تھا۔ اس لیے اس صوبائی انتظامیہ کیلئے ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے منصوبے کو روک سکتی جسے مرکز اور پنجاب کے مقتدر حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اگرچہ سندھ کی موجودہ حکومت نےگریٹر تھل کینال منصوبے میں شامل چوبارہ برانچ کی تعمیر کی شدید مخالفت کی لیکن اسکے باوجود اس کی تعمیر کیلئے درکار تمام انتظامی اور مالی اقدامات تیزی سےکیے گئے تاکہ اس کا تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔
چوبارہ برانچ کے بننے سے صحرائے تھل میں رہنے والے لوگوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ لیکن معاشی اور ماحولیاتی انصاف کی جہاں تک بات ہے اس کی تعمیر سے ان کے آبائی علاقے میں غیر مقامی لوگوں کی آبادی میں اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ صحرا کے مقامی باشندوں کو اس طرح کے منصوبوں کی تعمیر کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہی ہوتا ہے۔ اس سے قبل مغربی پنجاب کے ضلع میانوالی میں کالا باغ کے مقام سے نکالی گئی تھل کینال دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کے متوازی بہتی ہوئی لگ بھگ تین سو کلومیٹر جنوب میں ضلع مظفر گڑھ میں ختم ہوتی ہے۔ اس کی تعمیر 1939 میں شروع ہوئی لیکن دوسری عالمی جنگ اور تقسیمِ ہندوستان کی وجہ سے اس کی تکمیل اور اس سے سیراب ہونے والی زمین کی الاٹمنٹ ہونے میں مزید 15سال لگ گئے۔ مشرقی اور وسطی پنجاب کے علاقوں سے لوگوں کو زمین کی آبادکاری کے نام پر تھل میں لا کر اس نہر سے سیراب ہونے والے علاقوں میں بسایا گیا جسکے نتیجے میں تھل کی مقامی آبادی کئی جگہوں پر اقلیت بن کر رہ گئی۔ سب سے پہلے تھل کینال سے مہاجر برانچ کے نام سے ایک چھوٹی نہر نکال کر پنجاب کے مغربی اضلاع میانوالی اور خوشاب سے گزاری گئی اور اس کی سیراب کردہ بیشتر اراضی 1947میں مشرقی پنجاب سے آنے والے مہاجرین کو الاٹ کی گئی۔
ان کے مطابق بعد میں بھی مختلف اسکیموں کے تحت تھل کینال کے آس پاس کی لاکھوں ایکڑ زمین تھل سے باہر کے لوگوں کو دے دی گئی۔ ان میں ضلع قصور سے آئے وہ لوگ بھی شامل تھے جن کی زمینیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنائی گئی سرحدی لائن کی نذر ہو گئی تھیں اور وہ لوگ بھی جنکے گھر، کھیت کھلیان اور چراگاہیں حکومت نے منگلا ڈیم اور اسلام آباد شہر بنانے کیلئے اپنے قبضے میں لے لی تھیں ۔ اس کا ثبوت تھل کے طول و عرض میں واقع ان بستیوں کی شکل میں موجود ہیں جو 1947کے بعد وجود میں آئیں اور جن کے رہنے والے لوگوں کی اکثریت یہاں دوسری جگہوں سے آ کر آباد ہوئی ہے۔ ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ اور ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں اس کا ایک ثبوت ان زرعی فارموں کی شکل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جن کے باہر لگے بڑے بڑے بورڈ بتاتے ہیں کہ ان کے مالک وسطی اور شمالی پنجاب کے اضلاع کے رہنے والے افراد ہیں۔ پاکستان میں بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے نام پر جتنے بھی منصوبے بنائے جاتے رہے ہیں وہ دراصل ’’اشرافیہ ‘‘کو نواز نے کی چال ہوتے ہیں۔
اس ضمن میں 1955 میں دریائے سندھ پر حیدرآباد کے قریب کوٹری بیراج کی تعمیر کی مثال کو لے لیں’’اس کا مقصد انڈیا سے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری تھا لیکن یہاں اشرافیہ اورمخصوص افراد کونوازاگیا اور یہ زمینیں ان کے نام الاٹ ہوئیں یہی کچھ 1962ء میں بنائے گئے گدو بیراج کے علاقے میں بھی ہوا‘‘۔ گریٹر تھل کینال کے بارے میں تھل کے مقامی باسیوں کے تحفظات ہیں کہ اس سے سیراب ہونے والی زمینیں بھی طاقتوراشرافیہ نے یا تو پہلے سے ہی الاٹ کرا لی ہیں یا خرید لی ہیں۔
(بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

#GreaterThalCanal #LuqmanAsad #WaterPolitics #IrrigationProjects #PunjabDevelopment #CanalSystemPakistan #WaterResources #AgriculturalReforms #WaterManagement #PakistanInfrastructure #گریٹرتهلکینال #لقماناسد #آبپاشیمنصوبہ #پانیسیاست #پنجابکیترقی #پاکستانکینال #زرعیاصلاحات #پانیکاکردار #آبیوسائل #انفراسٹرکچرپاکستان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleملا ہدہد، کھد بدھ اور ہٹاکٹا جی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
Next Article جنوبی وزیرستان سے سات پولیس اہلکار لاپتا ہو گئے
ایڈیٹر
  • Website

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ڈیزل 135، پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کرنے کا اعلان اپریل 10, 2026
  • مارکسزم، طب اور تضادات کی دنیا : ڈاکٹر علی شاذف کاکالم اپریل 10, 2026
  • پاکستانی وزیر دفاع کا غیرسفارتی اور غیر ذمہ دارانہ بیان : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 10, 2026
  • اسلام آباد مذاکرات اور حزب اللہ کے 100 رہنماؤں کے قتل کی افواہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم اپریل 10, 2026
  • سابق گورنر پنجاب سردارذوالفقار کھوسہ انتقال کر گئے اپریل 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.