کالمگل نوخیز اخترلکھاری

گل نوخیز اختر کا کالم : پیٹ پوجا

ہمارے ملک میں کچھ لوگ کھانے کے لیے زندہ ہیں‘ کچھ مزید کھانے کے لیے۔جہاں چار دوست مل کر بیٹھ جائیں یہی اہم مسئلہ ڈسکس ہونا شروع ہوجاتاہے کہ کھانا کہاں سے کھایا جائے؟ آپ راہ چلتے کسی بندے سے پوچھ کر دیکھئے‘ یا وہ کھانا کھانے جارہا ہوگا‘ یا کھا کر آرہا ہوگا۔شادی بیاہوں سے لے کر مہمانوں کی خاطر تواضع تک ‘ کھانا سوسائٹی کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔جہاںکھانا نہیں ہوتا وہاں گلے شکوے شروع ہوجاتے ہیں۔رشتے دار اُس وقت تک مہمان نوازی کو تسلیم ہی نہیں کرتے جب تک انہیں کھانا نہ کھلایا جائے۔موسم خوشگوار ہو تو ہر ایک کے منہ سے یہی نکلتا ہے ’’باہر چل کر کچھ کھاتے ہیں‘‘۔ہر گھر میں صبح و شام ایک ہی جملہ گونجتا ہے’’آج کیا بنایا ہے؟آج کیا بنانا ہے؟‘‘کسی یار دوست کی کامیابی کی خبر ملے تو منہ سے فوراً نکلتا ہے ’’یار اب ٹریٹ پکی‘‘۔ہماری اکثر ضرورتیں بھی کھانے سے متعلق ہی ہیں‘ دفتر میں اگر بیوی کا فون آجائے تو عموماً یہی اطلاعات سننے کو ملتی ہیں کہ انڈے ختم ہوگئے ہیں‘ ڈبل روٹی اوررس لیتے آئیں۔بھوکا بندہ بہت خطرناک ہوتاہے شاید اسی لیے ہم ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا چاہتے ہیں‘ لیکن فرق کوئی نہیں پڑ رہا۔ چھپڑ ہوٹل سے فائیو اسٹار ہوٹل تک ہر میز بُک ہوتی ہے لیکن ہماری بھوک مٹنے میں ہی نہیں آتی۔کھانا سامنے آتے ہی ہمارا سارا صبر دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے‘ ہمارا پیٹ بھرا بھی ہو تو ہم ایک دو لقمے چکھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتےیہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی کی معاشی خوشحالی کے لیے بھی’’کھاتے پیتے‘‘ کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ہمارے ہاں اچھا کھانا وہ نہیں ہوتا جو ہمیں اچھا لگےبلکہ اچھے کھانے سے مراد مہنگا کھانا لیا جاتاہے۔بے شمار لوگ دال بڑے شوق سے کھاتے ہیں لیکن اُنہیں ہمیشہ یہی سننے کو ملتا ہے کہ ’’کبھی اچھا کھانا بھی کھا لیا کرو‘‘۔ آئیے دیکھتے ہیں اچھا کھانا کیا ہوتاہے۔ یاد رہے کہ اِن کھانوں کے اجزائے ترکیبی میں نے ’’آپا سرداراںکا دستر خوان‘‘ سے لیے ہیں۔
1۔ ایگ فرائڈ رائس۔ ابلے ہوئے پھیکے چاولوں میںگاجر‘ بند گوبھی‘ شملہ مرچ اوردیگر لوازمات کے ساتھ تلے ہوئے انڈے شامل ہوتے ہیں‘ یہی چیز گھر میں بنی ہوئی ہو توبکواس کہلاتی ہے‘ تاہم کسی چائنیز ریسٹورنٹ میں جاکر کھائی جائے تو اچھا کھانا کہلاتی ہے!
2۔ منچورین۔ بون لیس چکن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جنہیں چکن اور کیچ اپ کی گریوی کے ساتھ مکس کیاہوتاہے‘ اِسے عموماً ایگ فرائڈ رائس کے ساتھ کھایا جاتاہے‘ تاہم میرے جیسے کئی نابلد ‘ تلوں والے نان کے ساتھ بھی نوش فرما جاتے ہیں۔یہ بھی اچھے کھانے میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اس کے پیسے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
3۔ چکن جنجر۔ بون لیس چکن‘ ادرک‘ پیاز ‘ لہسن وغیرہ وغیرہ۔یاد رہے کہ اس کا نام ’’جنجر‘‘ ہے ‘ اورشروع میں ’’ج‘‘ آتا ہے’’ک‘‘ نہیں۔
4 ۔ چکن چائومین۔ چائنیز گاجر‘ شملہ مرچ اور بند گوبھی کے تعاون سے نوڈلز شامل کی جاتی ہیں اور کچھ ایسے مصالحے شامل کیے جاتے ہیں جن کے نام چھن چھنگلو‘ چلوسک ملوسک ٹائپ کے ہوتے ہیں‘ سنا ہے اصل لفظ ’’چوا۔مین‘‘ ہے‘ لیکن فسادِخلق کے ڈر سے اِسے چائومین بولا جاتاہے…بڑی اچھی بات ہے۔
5۔ پیزا۔ اگرچہ یہ چائنیز آئٹم نہیںمگر اُس کا شمار اچھے کھانوں میں ہے‘ میلوں ٹھیلوں پر جو تین چار گز کا’’قتلمہ‘‘ ملتا ہے یہ اُسی کی جدید شکل ہے‘ لیکن قتلمہ اچھے کھانے کی ذیل میں نہیں آتا‘ اچھا کھاناپیزا ہی کہلائے گا۔
6۔ زِنگر برگر۔ یہ عجیب و غریب برگر ہوتاہے‘ اسٹوڈنٹ لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے اِسی کی شرط لگاتے ہیں‘ یہ چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی‘ تاہم جو برگر جتنا بڑا ہوتاہے وہ اتنا ہی اچھا کھانا شمار ہوتاہے‘ پہاڑی سائز کا وہ برگر جسے کھانے کے لیے دو دفعہ منہ کھولنا پڑے وہ انتہائی امیر ہونے کی نشانی کہلاتاہے۔
7۔ پران۔ یہ عجیب و غریب ڈش ہے جس میں قبلہ جھینگا صاحب کو مردہ یا نیم مردہ حالت میں پلیٹ میں ڈال کر پیش کیا جاتا ہے‘ کئی دفعہ تو جھینگے کو تھوڑا سا ہلایا جائے تو موصوف ایک ٹانگ بھی ہلا کر جواب دے دیتے ہیں‘ اِسے کھاتے ہوئے دل و دماغ میں فاسد خیالات کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے‘ تاہم لوگوں کی اکثریت اسے شوق سے کھاتی ہے ‘ کئی میرے جیسے بھی ہیں جو گردن اکڑا کر ’’پران‘‘ کا آرڈر کرتے ہیں اور پھر نظر بچا کر میز کے نیچے پڑی باسکٹ میں پھینک کر ڈکار مارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
8۔ شاشلک۔ بون لیس چکن‘ پیاز ‘ شملہ مرچ ‘ چائنیز گاجروغیرہ کو ایک سیخ میں پرو کر تھوڑا سا سیک دیا جائے تو جو چیز تیار ہوتی ہے اُسے شاشلک کہا جاتاہے۔یہ ساری چیزیں اگر ہانڈی میںپکا کر کھائی جائیں تو غریبانہ کھانا کہلاتی ہیں‘ تاہم سیخ میں گرم کرکے یہ شاشلک بن جاتی ہیں اورا سٹیٹس سمبل میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔
ان کھانوںکے علاوہ بھی ہر ریسٹورنٹ والے نے اپنے ذاتی اور ہولناک نام رکھے ہوئے ہیں ‘کھانے وہی ہوتے ہیں تاہم اُن میں عجیب و غریب تجربے کرکے اُنہیں نیا نام دے دیا جاتاہے۔ لوگ چار گنا زیادہ پیسے دے کر یہ کھانا کھاتے ہیں اورخوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اچھا کھانا کھایا ہے۔ اِن کھانوں کے نام کچھ اس طرح سے ہوتے ہیں۔چکن بوم بوم ‘ جو جو برگر‘ جرمن پراٹھا‘ افریقن دال ماش‘ کینیڈین چاول چھولے‘ اٹالین دودھ سوڈا‘ سائبیرین گول گپے‘ برٹش مگرمچھ‘ امریکن حلوہ پوری وغیرہ وغیرہ…!!سچی بات تو یہ ہے کہ جو مزا دیسی کھانوں میں ہے وہ کسی اور میں نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ میرے جیسے بندے باہر سے یہ ’’اچھاکھانا‘‘ کھا بھی آئیں تو گھر آتے ہی سب سے پہلے ’’براکھانا‘‘ کھاتے ہیں۔یقین کریں اُسی سے پیٹ بھرتاہے‘ اُسی سے بھوک مٹتی ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker