کالمگل نوخیز اخترلکھاری

گانا پانی۔۔گل نو خیز اختر

گلوکار نے اپنا ہارمونیم سنبھالا اور شروع کیا ’’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں‘‘ جیسے ہی اس نے گانا شروع کیا، برابر میں بیٹھے مرزا صاحب کے حلق سے آہیں بلند ہونے لگیں۔ ہم سب چونک گئے۔ مرزا صاحب بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں بہت دُکھ جھیلے ہیں یقیناً اِس گانے سے مرزا صاحب کے ماضی کی تلخ یادیں وابستہ تھیں۔ میں نے گلوکار کو گانا بدلنے کا اشارہ کیا۔ اُس نے فوراً نیا گانا اسٹارٹ کیا ’’نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں‘‘ مرزا صاحب کی سسکیاں نکل گئیں۔ گلوکار گھبرا گیا اور جلدی سے ایک اور گانا چھیڑ لیا ’’اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں‘‘۔ مرزا صاحب کی آنکھوں میں باقاعدہ آنسو آگئے۔ مجھے غصہ آگیا، میں نے گلوکار کے کان میں غراتے ہوئے کہا ’’جب پتا بھی ہے کہ ایک بندہ المیہ گانے برداشت نہیں کر سکتا تو کیوں بار بار ایسے گانے سنا رہے ہو؟ کوئی شوخ سا گانا شروع کرو۔‘‘ گلوکار بے بسی سے بولا ’میں غزل کا گلوکار ہوں‘۔ میں نے آنکھیں نکالیں ’’کوئی بات نہیں، ابرار الحق کا گانا غزل سمجھ کر گا دو‘‘۔ وہ گھگھیایا ’’کوئی پیار محبت والی غزل سنا دیتا ہوں‘‘۔ میں نے دانت پیسے ’’ٹھیک ہے جو مرضی سناؤ لیکن یاد رکھنا اندر جو کریلے گوشت پک رہے ہیں وہ یہاں نہیں آئے گا‘‘ یہ سنتے ہی اس نے ایک جھرجھری سی لی، کانوں کو ہاتھ لگایا، طبلے والوں کو اشارہ کیا اور خوشی سے بھرپور آواز میں چلایا ’’اساں تے جاناں بلو دے گھر‘‘ یہ سنتے ہی مرزا صاحب کی کربناک چیخیں نکل گئیں۔ وہ دھاڑیں مار مار کر روتے اور ہائے ہائے کیے جاتے تھے۔ یہ معاملہ مشکوک تھا۔ ابرر الحق کا گانا سن کر اکرم راہی والی فیلنگز بھلا کیسے آ سکتی ہیں؟ میں مرزا صاحب کی طرف جھکا اور پوچھا ’محترم مرزا صاحب! آخر وہ کون سا ناقابل بیان سانحہ ہے جو گانا شروع ہوتے ہی آپ کو یاد آ جاتا ہے؟‘ مرزا صاحب کراہتے ہوئے بولے ’’سانحہ کوئی نہیں، اصل میں گلوکار صاحب جب گاتے ہوئے ہارمونیم بجاتے ہیں تو وہ میرے پیر کے زخم سے ٹکراتا ہے‘‘۔ یہ سن کر میں کچھ لمحے خاموش رہا، پھر مرزا صاحب کے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ عقیدت ہو تو ایسی۔ یعنی پیر کا زخم برداشت کرلیا شکوے کا ایک لفظ زبان پر نہیں لائے۔ یہ ہوتے ہیں سُرشناس لوگ۔ لیکن آج کل ایسے مہربان کہاں؟
کل شام کو ایک نوجوان کا فون آیا، پوچھنے لگا کہ مجھے موسیقی سیکھنے کا بہت شوق ہے لیکن گھر والے اجازت نہیں دیتے، کیا کروں؟ میں نے اس کی باقاعدہ حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا موسیقی سیکھنے سے پہلے یہ یاد رکھنا کہ بعض اوقات یہ جاں لیوا اور روح فرسا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ میری مثال سامنے ہے، میں نے کئی بار گانے کی کوشش کی لیکن ہر دفعہ کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جاتا ہے کہ مجھے موسیقی کو بریک لگانا پڑ جاتی ہے۔ ایک دفعہ میں نہر کنارے درخت کے نیچے آنکھیں بند کیے ’’پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ گا رہا تھا، گانا ختم ہوا تو میں نے دیکھا میرے دائیں طرف کافی سارے پیسے پڑے ہوئے تھے۔ اسی طرح ایک دفعہ میں لارنس گارڈن میں باآوازِ بلند ’’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے‘‘ گانے کی کوشش کر رہا تھا، جیسے ہی میں نے کہا ’’دشمن مرے‘‘ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی اور پتا چلا کہ مالک مکان اللہ کو پیارا ہو گیا ہے۔ میں نے اس مسئلے کا ذکر موسیقی کے ایک معروف استاد صاحب سے کیا تو فرمانے لگے کہ ’’موسیقی سیکھنے کے لیے ریاض بہت ضروری ہے‘‘ میں نے اگلے دن سے اپنے دوست ریاض کو ساتھ بٹھانا شروع کر دیا۔ استاد جی نے غصہ کیا اور فرمایا کہ ریاض سے مراد ’’ریاض چوہدری‘‘ نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ گانے کی پریکٹس کی جائے۔ میں نے کہا ’’استاد جی! میں جب بھی گانے کی کوشش کرتا ہوں اردگرد کے گھروں سے تعزیتی فون آنے لگتے ہیں‘‘۔ استاد جی نے تبسم فرمایا اور حوصلہ دیتے ہوئے بولے ’’تمہارے والا مسئلہ کئی نامور گلوکاروں کو بھی درپیش رہا ہے۔ اِس کا حل اساتذہ نے یہ نکالا کہ وہ خالی گھڑے میں منہ ڈال کر اونچی آواز میں ریاض کیا کرتے تھے، یوں گونج بھی پیدا ہوتی تھی اور آواز بھی گھڑے سے باہر نہیں جاتی تھی‘‘۔ میں بہت خوش ہوا اور اگلے ہی دن ایک 32بور کا گھڑا خرید لایا۔ چھت پر جاکر اِدھر اُدھر دیکھا۔ پھر پوری ذمہ داری سے گھڑے کو ایک کونے میں رکھا اور اُس میں منہ ڈال کر پوری قوت سے سُر لگایا ’’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘‘ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اتنی بلند آواز گانے کے باوجود کہیں سے کوئی جوتی آئی نہ آٹا۔ میرا حوصلہ بڑھا۔ اور پھر میں نے معمول بنا لیا کہ ہر شام ساڑھے چھ بجے چھت پر جاتا اور مزے سے گھڑے میں منہ ڈال کر زور زور سے گانے گاتا اور ایک گھنٹے کے ریاض میں کئی دفعہ کیسٹ کی Aاور Bسایڈیں ختم کر ڈالتا۔ میرا ریاض پورے شدومد کے ساتھ جاری تھا کہ ایک دن گلی کی نکڑ پر اماں جیراں مل گئی۔ اماں جیراں کا گھر ہمارے گھر کے ساتھ ملا ہوا تھا اور چھتیں بھی آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔ اماں نے مجھے دیکھا تو چونک کر تیزی سے قریب آگئی۔ ’’پتر! ٹائم ملے تو میرے پاس آنا میں تمہیں نیلا تھوتھا دوں گی‘‘۔ میری جان نکل گئی ’’نیلا تھوتھا یعنی زہر، لیکن کیوں اماں! میرے نام میں تو کہیں بھی ’سقراط‘ نہیں آتا‘‘۔ اماں نے دانت پیسے ’’مریں! تیرے لیے نہیں، چھت پر ڈالنے کے لیے‘‘۔ میں مزید پریشان ہوگیا ’’چھت پر ڈالنے کے لیے، لیکن کیوں؟‘‘ اماں نے ادھر اُدھر دیکھا اور میرے کان کے قریب ہوکر پوری رازداری سے بولی ’’مجھے پکا یقین ہے تیرے گھر کی چھت پر لومڑی نے بچے دے رکھے ہیں‘‘۔ میں زور سے اچھلا ’’لومڑی… لیکن اماں شہر میں لومڑی کہاں سے آ گئی؟‘‘۔ اماں جیراں نے تسلی دی ’’آجاتی ہے، کبھی کبھی آجاتی ہے میں اچھی طرح اس کی آواز پہچانتی ہوں، یہ اسی کے بچوں کی آواز ہے‘‘۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’اماں یہ آواز آتی کس وقت ہے؟‘‘ اماں نے کچھ سوچا اور انگلیوں پر حساب لگاتی ہوئی بولی ’’یہی کوئی شام چھ سے سات بجے کے قریب‘‘۔ میں نے اسی دن گھڑا توڑ دیا۔ آج کل میں شام چھ سے سات بجے تک اُستاد جی کی روح کے ’’ایصالِ عذاب‘‘ کے لیے باقاعدگی سے دُعا کرتا ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker