کالمگل نوخیز اخترلکھاری

دیگی چرغہ۔۔۔گل نو خیز اختر

میں نے کارڈ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور لڑکے سے پوچھا’’اس کا فائدہ ؟‘‘لڑکا جلدی سے بولا’’سر! اس اسپیشل کارڈ کے ہوتے ہوئے آ پ جب بھی ہمارے منتخب ریسٹورنٹس پر جائیں گے تو آپ کو نہ صرف ہر کھانے پر پچاس فیصد ڈسکاؤنٹ ملے گا بلکہ آپ کو خصوصی پروٹوکول بھی دیا جائے گا‘‘۔ میری باچھیں کھل گئیں‘ مجھے بچپن سے شوق تھا کہ مجھے بھی پروٹوکول ملے‘ آج یہ خواہش بھی پوری ہونے جارہی تھی۔ یہ لڑکا صبح صبح میرے آفس میں آیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ اس کی کمپنی نے بہت سے ریسٹورنٹس سے معاہدہ کیا ہے۔میں نے کارڈ کی قیمت پوچھی تو پتا چلا کہ یہ شاندار کارڈ محض پانچ سو روپے میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔ میں نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور کارڈ خرید لیا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ میں بیوی بچوں کو اس کارڈ کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گا یوں جتنا بھی باہر کے کھانے کا خرچہ ہوگا وہ میری جیب سے آدھا جائے گا لیکن میری فیملی کو یہی لگے گا کہ میں نے بھاری خرچہ کیا ہے۔ میں نے فوری طور پر بیٹے کو فون کیا اور ڈنر کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔اس کی بھی باچھیں کھل گئیں۔رات کو ہم سب کارڈ پر لکھے ہوئے ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے‘ ویٹر نے جھک کر ہمارا استقبال کیا۔ میں نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈٹ کے کھانے کا آرڈر دیا۔ بل آیا تو رقم پانچ ہزار بن رہی تھی۔میری دندیاں نکل آئیں کہ اب محض پچیس سو روپے دینا پڑیں گے۔ میں نے بل والی کاپی اٹھائی اور گنگناتے ہوئے کاؤنٹر کی طرف چل پڑا۔ ویٹر ہکا بکا رہ گیا۔ غالباً آج سے پہلے کسی گاہک نے ایسی مذموم حرکت نہیں کی تھی۔کاؤنٹر پر پہنچ کر میں نے بڑے فخر سے کارڈ نکالا اور کیشئر کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے کارڈ اٹھایا‘ ایک نظر ڈالی‘ پھر بڑے ملائم لہجے میں بولا’’سوری سر! آپ نے غلطی سے کریڈٹ کارڈ کی جگہ کوئی اور کارڈ نکال لیا ہے‘‘۔ میرے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی’’کریڈٹ کارڈ تو میں نے کبھی رکھا ہی نہیں میرے دوست! یہ کارڈ اس لیے دکھایا ہے تاکہ آپ پچاس فیصد پیسے کاٹ کر نیا بل بنا دیں‘‘۔ میری بات سنتے ہی کیشئرنے اپنی کنپٹی کھجائی پھر منیجر سے فون پر بات کی اور کارڈ واپس میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا’’سر! ہم اِن کارڈ والوں کو نہیں جانتے اِنہوں نے ہم سے پوچھے بغیر ہمارے ریسٹورنٹ کا نام دیا ہے‘‘۔ یہ جملہ سنتے ہی مجھے ’’زور کا جھٹکا ہائے زوروں سے لگا…‘‘
اکثر ایک پٹرول پمپ پر لگے بینر پر نظر پڑتی تھی جس پر لکھا تھا’’اگر وائپر والا لڑکا آپ کی گاڑی کا شیشہ صاف نہ کرے تو آپ کو ہرجانے کے طور پرایک سافٹ ڈرنک فری ملے گی‘‘۔ میں نے جھٹ سے گاڑی پٹرول پمپ کی طرف موڑ دی۔حسب معمول میری گاڑی میں پٹرول بھر گیا تو میں نے پیسے ادا کیے اورآرام سے گاڑی آگے بڑھا دی۔ میری گاڑی کا شیشہ کسی نے صاف نہیں کیا۔ میں نے گاڑی ایک طرف روکی اور فخریہ انداز میں باہر نکل کر پٹرول پمپ کے کیشئر کی طرف بڑھا۔ وہ چوکنا ہوگیا کہ شاید ڈکیتی کا پروگرام ہے۔ تاہم جب میں نے اسے بتایا کہ میں وہ خوش نصیب ہوں جو سافٹ ڈرنک جیت گیا ہوں تو اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور منہ بنا کر بولا’’اگر لڑکے نے شیشہ صاف نہیں کیا تھا تو آپ نے اسے کہہ دینا تھا‘‘۔ میں نے اس کی توجہ بینر کی طرف دلائی’’یہ دیکھئے! یہاں ایسی کوئی بات نہیں لکھی ہوئی‘ لائیے میری سافٹ ڈرنک‘‘۔ کیشئر بیزاری سے بولا’’یہ اسکیم ختم ہوچکی ہے‘‘اور دوسری طرف کا کیش وصول کرنے میں مصروف ہوگیا۔
میڈیکل اسٹور پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا’’تمام ادویات پر دس فیصد رعایت‘‘۔ میں نے گھر کے لیے کچھ میڈیسن خریدناتھیں سو اسی میڈیکل اسٹور سے لینے کا فیصلہ کیا۔ ساری ادویات خرید لیں تو احتیاطاً ان کی قیمت پڑھی‘ پتا چلا کہ دس فیصد رعایت کی بجائے دس فیصد مہنگی ملی ہیں۔ کیشئر سے گلہ کیا تو لاپروائی سے بولا’’یہ پرانا اسٹاک ہے‘ رعایتی پیکیج نئے اسٹاک پر ہے‘‘۔آپ موبائل خریدیں‘ یو پی ایس کی بیٹری‘ جنریٹر‘ لیپ ٹاپ یا الیکٹرونکس کی کوئی مہنگی چیز۔آپ کو بطور خاص گارنٹی کارڈ عنایت کیا جاتاہے‘ تاہم یہ صرف نام کا ہی گارنٹی کارڈ ہوتاہے۔اگر آپ کی چیز خراب ہوجائے اور آپ اِس گارنٹی کارڈ کے بل بوتے پر اپنی چیز دکاندار کے پاس لیکر جائیں تو اس کے پاس گارنٹی کارڈ کو فضول ثابت کرنے کے ایک سو ایک جوابات موجود ہوتے ہیں مثلاً گارنٹی پرزوں کی نہیں تھی، گارنٹی آپ صرف کمپنی سے کلیم کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کوئی صاحب آپ کی جھولی میں ایک پمفلٹ پھینک جاتے ہیں جس پر کسی بابا جی کی طرف سے پیغام لکھا ہوتاہے کہ اگر آپ دکھی ہیں تو صرف ایک دفعہ بابا جی سے دعا کروا لیں بابا جی فی سبیل اللہ یہ خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ آپ خوش ہوجاتے ہیں کہ کتنا عظیم بابا ہے جو فی سبیل اللہ خدمت کے لیے بھی ذاتی جیب سے پمفلٹ چھپواکربانٹ رہا ہے۔ایک دن آپ بابا جی کے پاس جا پہنچتے ہیں اور پتا چلتاہے کہ بابا جی دعا تو فی سبیل اللہ کرتے ہیں لیکن مسئلہ حل کرانے کے بیس ہزار ضروری ہیں۔
آ پ نے کئی ایسے ریسٹورنٹس بھی دیکھے ہوں گے جن پر بے شمار کانٹی نینٹل اور چائنیزڈشزکے نام لکھے ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک ریسٹورنٹ پر پچاس ڈشوں کے نام پڑھ کر جی للچا گیا۔ گاڑی روکی تو ایک لڑکا جھٹ سے بھاگتا ہوا قریب آگیا۔ آرڈ ر دیا کہ شاشلک پیک کردو۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا’وہ تو نہیں ہے‘۔ میں نے آہ بھری۔چلو پھرایگ فرائڈ رائس اور منچورین پیک کردو‘۔ اس نے جلدی سے نفی میں سرہلایا’وہ بھی نہیں ہے‘۔ اس کے بعد میں نے بورڈ پر لکھی تین چار اور ڈشز کے نام لیے۔پتا چلا کہ وہ بھی نہیں ہیں۔ میں نے دانت پیسے’’کون سی چیز ملتی ہے یہاں؟‘‘۔ جھٹ سے بولا’صرف دیگی چرغہ !‘۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker