کالمگل نوخیز اخترلکھاری

لار ا اڈہ۔۔گل نو خیز اختر

’’اُن دنوں میں ایک ٹی وی چینل میں اسکرپٹ ایڈیٹر تھا ۔ مختلف پرائیویٹ پروڈکشن کمپنیوں کے لوگ اپنے تیار کردہ ڈرامے ٹی وی کو بیچنے کے لیے آئے رہتے تھے۔ مجھے چیئرمین صاحب کی طرف سے سخت ہدایت تھی کہ کسی کمپنی کو اقرار یاانکار نہیں کرنا۔ میرے پاس سارا دن لوگوں کا تانتا بندھا رہتا جو اپنے ڈراموں کا اسٹیٹس جاننے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ ان میں سے ایک پارٹی کچھ زیادہ ہی چکر لگاتی تھی۔ میں نے ایک دن ان کا ڈرامہ بغور دیکھا اور تنگ آکر کہہ ہی دیا کہ جناب آپ کا بنایا ہوا ڈرامہ بہت غیر معیاری ہے‘ یہ ہمارے چینل پر نہیں چل سکتا۔‘‘ میری بات سن کر انہوں نے اثبات میں سرہلایا اور اطمینان سے سلام لے کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد چیئرمین صاحب کے پی اے کی کال آئی کہ آپ کو چیئرمین صاحب بلا رہے ہیں۔ میں چیئرمین کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سر پکڑے بیٹھے تھے‘ مجھے دیکھتے ہی بے بسی سے بولے’’میں نے کہا بھی تھا کہ کسی کو کچھ نہیں کہنا پھر آپ نے یہ کیا کہہ دیا‘‘۔ میں سمجھ گیا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے‘ میں نے انہیں بتایا کہ اِس پارٹی نے مجھے بہت تنگ کیا ہوا تھا اور ویسے بھی ان کا ڈرامہ اسکرپٹ سے ڈائریکشن تک بہت سی غلطیوں سے بھرا ہوا ہے‘ ایسے لوگوں کو ڈائریکٹ انکار کرنے کا کیا نقصان ہے؟ میری بات سن کر چیئرمین صاحب نے کچھ دیر میری طرف دیکھا پھر آگے کو جھکے’’اُس پارٹی نے ایک ’’اے ایس آئی‘‘ سے سفارشی فون کروایا ہے‘‘۔ میری ہنسی نکل گئی’’سر! اے ایس آئی کی کیا جرات ہے کہ وہ ٹی وی چینل کے چیئرمین کو ڈرامہ خریدنے کے لیے مجبور کرے‘‘۔ چیئرمین صاحب نے سرہلایا’’بالکل ٹھیک! لیکن دیکھ لینا‘ آج وہ اے ایس آئی کی سفارش لے کر آئے ہیں‘ کل ایس ایس پی تک پہنچ جائیں گے۔‘‘مجھے چیئرمین صاحب کی بات کا یقین نہیں آیا لیکن اُس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ایک دن چیئرمین صاحب نے بتایا کہ وہی پارٹی ڈی آئی جی کی سفارش لے کر آئی ہے اور اب ہمیں یہ ڈرامہ ہر حال میں چلانا ہی ہوگا۔‘‘یہ واقعہ مجھے ایک معروف سینئر لکھاری اور ہدایت کار نے سنایا ۔ ’’لارے لگانے‘‘ کی روایت بہت پرانی ہے‘ ویسے تو سب ہی ’’لارے‘‘ کے مطلب سے آشنا ہوں گے لیکن جن قارئین کو اس کا مطلب نہیں آتا ان کی آسانی کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ ’’لارے لگانا‘‘ کا مطلب ہے ٹرخانا۔م
یں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتاہوں جنہوں نے آدھی دنیا کو یورپ اور امریکہ لے جانے کا وعدہ کر رکھا ہے ‘ یہ صاحب مفت کھانے کھاتے ہیں‘ لوگوں کی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں لیکن ہر دفعہ انہیں ایک نیا لارا لگا جاتے ہیں۔دنیا بھر میں لارے لگائے جاتے ہیں۔ یہ اتنی اچھی چیز ہے کہ اس سے اپنا امیج بھی خراب نہیں ہوتا اور دوسرا بندہ بھی قابو میں رہتاہے۔ صاف انکار کردینے سے ناراضی کا ڈر رہتا ہے لہذا لوگ کوشش کرتے ہیں کہ جو کام نہ بھی کرنا ہو ااُس کے بارے میں دوسرے کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھیں۔لارے لگانے کا بہترین مظاہرہ دیکھنا ہو تو کسی کو ادھار دے کر دیکھیں۔ جس دن آپ اس سے ادھار کی رقم واپس مانگیں گے ’’لارے لگانے‘‘ کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اس دوران آپ کو عجیب و غریب باتیں سننے کو ملیں گی’’میرے گھر ڈاکا پڑ گیا تھا‘ کاروبار میں نقصان ہوگیا ہے‘ فوتگی ہوگئی ہے‘ بیماری نے آن گھیر ا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لارے لگانے میں ہم سب کمال رکھتے ہیں۔ ہر بندہ اپنی حیثیت اور پیشے کے مطابق لارے لگاتاہے۔ انشورنس کمپنیوں کے نمائندے انشورنس کرتے وقت اپنی کمپنی کی جو خوبیاں بیان کرتے ہیں وہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میں یکدم لاروں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ہاؤسنگ سوسائٹیوں والے اپنے انداز کے لارے لگاتے ہیں کہ بہت جلد آپ کو آپ کے پلاٹ کاقبضہ مل جائے گا۔پیر اپنے مریدوں کو ہر کام ہوجانے کے لارے لگاتاہے‘ ورکنگ جرنلسٹ اپنے گھر والوں کو بہتر مستقبل کے لارے لگاتاہے، مزدور دو دن میں کام ختم کرنے کے لارے لگاتاہے‘ موبائل کمپنیاں ایک کلو سونا اور قیمتی گاڑیاں ملنے کے لارے لگاتی ہیں حکمران حالات بہتر ہونے کے لارے لگاتے ہیں‘ اپوزیشن انقلاب کے لارے لگاتی ہے‘ امریکہ دوستی کے لار ے لگاتاہے اور مذہبی جماعتیں اسلام کے لارے لگاتی ہیں۔
لارے لگانے کا کلچر اتنا عام ہوچکا ہے کہ لوگ لاہور سے کراچی جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوں توکراچی خبر کر دیتے ہیں’’بس کچھ دیر میں پہنچ رہا ہوں‘‘۔ میرے ایک دوست کو دس سال سے کامل یقین ہے کہ کچھ ہی دنوں میں اُس کا قبضہ شدہ پلاٹ واپس مل جائے گا کیونکہ وکیل نے کہا ہے۔ ایک محلے دار بیس سال سے اسی لارے پر زندہ ہے کہ اُس کی خاندانی جائیداد پر قابض اُس کا بھائی اُس کا حصہ ضرور دے گا۔ہر وہ بندہ جو کسی کو لارے لگا رہا ہوتاہے خودبھی کسی کے لاروں کی زد میں ہوتاہے۔ میرے ایک جاننے والے بزرگ حج پر گئے تو اپنی گاڑی امانتاً ایک عزیز کے گھر کھڑی کرگئے۔ واپس آئے تو پتا چلا کہ مذکورہ صاحب گاڑی فروخت کرکے پیسے کھا چکے ہیں۔ بزرگ نے احتجاج کیا تو انہیں تسلی دی گئی کہ ایک ہفتے کے اندر آپ کو گاڑی کے پیسے مل جائیں گے۔ آج بارہ سال ہونے کو آئے ہیں‘ بزرگ تھانے کچہریوں میں ذلیل ہوتے پھر رہے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ابھی تک اپنے اُس عزیز کے ساتھ میل جول رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ اِس شخص نے تو آپ کی گاڑی فروخت کردی تھی اور ابھی تک رقم بھی نہیں دی‘ آپ نے اس پر کیس بھی کروایا ہوا ہے‘ پھر آپ اس کے ساتھ کیسے میل جول رکھے ہوئے ہیں؟ معصوم بزرگ بولے’’اس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ بس دو مہینوں کی مہلت دے دیں‘ آپ کے پیسے آپ کے ہاتھ میں ہوں گے‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker