کالمگل نوخیز اخترلکھاری

وہ بُرا ہے۔وہ اچھا ہے!۔۔گل نو خیز اختر

مدثر مجھے بہت برا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ دو قسطیں شارٹ ہونے کی وجہ سے کمپنی والے اس کی موٹر سائیکل چھین کر لے گئے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ویسے بھی یہ اصول کی بات ہے، جب آپ کمپنی سے تحریری معاہدہ کرچکے ہوں کہ آپ بروقت اقساط جمع کرائیں گے تو پھر آپ کی طرف سے کوتاہی کی صورت میں کمپنی کو حق ہے کہ وہ آپ کی موٹر سائیکل واپس لے جائے۔فیصل مجھے بہت اچھا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ محض دو قسطیں شارٹ ہونے کی وجہ سے کمپنی والے اس کی موٹرسائیکل چھین کر لے گئے ہیں تو مجھے بہت دکھ ہوا۔یہ سراسر بدمعاشی ہے۔کمپنی والوں کو احساس ہی نہیں کہ آج کل تنخواہیں کتنی لیٹ ملتی ہیں اور اوپر سے روز بروز بڑھتے ہوئے اخراجات…بندہ تھوڑا لیٹ تو ہوہی جاتاہے۔ حکومت کو کمپنی کے اس ظلم پر نوٹس لینا چاہئے اور آئندہ کے لیے پابند کرنا چاہئے کہ وہ کسی صورت موٹر سائیکل واپس نہ لے۔
طارق مجھے بہت برا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ انکم ٹیکس والوں نے ٹیکس چھپانے کے جرم میں اس کے دفتر کو سیل کر دیا ہے تو میں خوشی سے جھوم اٹھا۔ ایسا ہی ہونا چاہئے، انکم ٹیکس چھپانے والوں کو نشان عبرت بنا دینا چاہئے، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ غریب بندے پر تو سینکڑوں ٹیکس لگا دیے جائیں اور امیر بندہ مزے سے اپنا ٹیکس چھپا جائے۔میرا تو خیال ہے طارق کو سرعام پھانسی لگا دینا چاہئے تاکہ دوسروں کو بھی عبرت ہو۔ناصر مجھے بہت اچھا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ انکم ٹیکس والوں نے محض بیس لاکھ ٹیکس چھپانے کے الزام میں اس بیچارے کا دفتر سیل کر دیا ہے تو میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔کیا ایک بندہ دن رات محنت صرف اس لیے کرتا ہے کہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بلاوجہ انکم ٹیکس والوں کو دے دے، ہمیں تو پتا ہی نہیں کہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ کہاں کہاں عیاشیوں کے لیے استعمال ہوتاہے ۔ناصر نے ہمیشہ ٹیکس دیا ہے، کیا ہوا اگر ایک دفعہ اس سے غلطی ہوگئی، اسے معافی ملنی چاہئے ۔
مشتاق مجھے بہت برا لگتاہے ،یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ اس کی بیوی نے طلاق لے لی ہے تو مجھے اچھا لگا۔ وہ ہے ہی بہت وحشی انسان، پتا نہیں کیسے اس کی بیوی نے اسے پسند کرکے اس کے ساتھ شادی کرلی، ایسے انسان کو تو جنگل میں رہنا چاہئے۔ اس کی بیوی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ مشتاق ایک ظالم،کمینہ اور کنجوس انسان ہے جو اپنی بیوی کو نہ صرف مارتا پیٹتا تھا بلکہ اسے مجبور بھی کرتا تھا کہ اپنے باپ سے پیسے لے کر آئے۔ کہاں ہیں عورت کی مدد کرنے والے ادارے؟ کوئی ہے جو مشتاق کی گردن پکڑے اور پوچھے کہ تم کون ہوتے ہو ایک کمزور عورت پر تشدد کرنے والے۔
اشرف مجھے بہت اچھا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ اس کی تیسری بیوی نے اس سے طلاق لے لی ہے تو مجھے اس کی بیوی پر شدید غصہ آیا۔ اس کی بیوی کا کہنا تھا کہ اشرف اس پر تشدد کرتا تھا۔تو پھر کیا ہوا؟ عورت پر اتنا تشدد تو جائز ہے جس سے اس کے جسم پر نشان نہ پڑے۔اور ویسے بھی جو عورت ایک مرد کی تیسری بیوی بن کر آرہی ہے کون سی بہری ہوگی؟ اس عورت نے یہ بھی کہا کہ اشرف اس سے کہتاتھا اپنے باپ سے پیسے لے کر آؤ۔ کیسی عورت ہے، کیا اسے معلوم نہیں کہ اشرف آج کل بے روزگار ہے؟ ایک بے روزگار نے گھر کا خرچ چلانے کے لیے اگر سسرال سے مدد مانگ لی تو اس میں کون سی قیامت آگئی ؟ اور تو اور اشرف کی بیوی نے اشرف کے کردار پر بھی انگلی اٹھاتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ غیر عورتوں کے پاس جاتا تھا۔ بھئی اگر گھر میں بیوی ہر وقت چخ چخ کرتی رہے گی تو بندے نے تو مجبوراً کوئی قدم اٹھانا ہی ہے۔سارا قصور اشرف کی بیوی کا ہے۔
عاطف مجھے بہت برا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ اس کے بیٹے نافرمان ہوگئے ہیں تو مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ایسے بدقماش باپ کے بیٹوں نے نافرمان ہی ہونا تھا۔ ویسے بھی اولاد میں باپ کا عکس ہوتاہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ باپ ایک نمبر کا لفنگا ہو اور اولاد نیک شریف نکل آئے۔ عاطف کے بیٹوں کے متعلق مجھے یہ بھی پتا چلا ہے کہ نشہ کرتے ہیں اور چھوٹی موٹی ڈکیتیوں میں بھی ملوث ہیں۔شاکر مجھے بہت اچھا لگتاہے، یہی وجہ ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ اس نیک سیرت انسان کے بیٹے گستاخ ہوگئے ہیں اور جرائم میں ملوث ہیں تو میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں، ضرور ی نہیں ہوتا کہ نیک والدین کی اولاد بھی نیک نکلے۔میں نے خود بدمعاشوں کی اولادیں امام مسجد اور امام مسجد کی اولادیں بدمعاش بنتے دیکھی ہیں۔ایک باپ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد بگڑے اور ویسے بھی شاکر تو انتہائی متقی اور پرہیز گار بندہ ہے لیکن اب روز پولیس اس کے گھر چھاپے مارنے پہنچی ہوتی ہے، پولیس کو شرم آنی چاہئے، بیٹوں کے کرتوتوں کی سزا باپ کو دینا کہاں کا انصاف ہے۔
فرقان مجھے بہت برا لگتاہے، ہر وقت لڑکیوں کی باتیں کرتا رہتاہے،ڈھیروں دوست بنا رکھی ہیں، دن رات ان سے الٹی سیدھی چیٹ کرتا رہتاہے۔ ذہن کا اتنا خراب ہے کہ اس کے موبائل میں مختلف لڑکیوں کی تصویریں ہیں جنہیں سرعام اپنے دوستوں کو دکھا کر اپنی چکربازیوں کے قصے سناتا ہےبد تمیز کہیں کا۔اسلم مجھے بہت اچھا لگتاہے، انتہائی زندہ دل بندہ ہے، 40 سال کا ہونے کے باوجود اس نے اپنے اندر کے انسان کو مرنے نہیں دیا، آج بھی خوبصورتی سے پیار کرتاہے، ہر وقت لڑکیوں کے جھرمٹ میں گھر ا رہتاہے۔و ہ جب بھی اپنی کسی دوست کا قصہ سناتا ہے ، ہم سب رشک میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ یار ! انسان کو ایسی ہی خوشیوں سے بھرپور زندگی گزارنی چاہئے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker