Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, جولائی 10, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • روسی ادب چند مطالعات : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب کا مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟ شاکر حسین شاکر کا کتاب کالم
  • Forcing God’s Hand ایک جائزہ : فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی صیہونیوں کا مذہبی فریضہ ہے ؟ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • ایران پر امریکی حملے اور امن کی رہی سہی امید : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اینکر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ : مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام
  • بلوچستان : چار دن میں شدت پسندی کے تین واقعات : 11 فوجی ، 27 پولیس اہلکارجان سے گئے ، 54 شدت پسند بھی مار دیے ۔۔ آئی ایس پی آر
  • معروف پبلشر ، ڈرامہ نگار اور صحافی بی اے جمال رخصت ہو گئے
  • بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایران دوبارہ نشانے پر : 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج
  • شارجہ سے آنے والا کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، پانچ افراد سوار تھے : ریسکیو آپریشن جاری
  • غیر ملکی خواتین کا اغوا اور کرائے پر دستیاب متوازی ریاستی طاقت کے مراکز : نصرت جاوید کا کالم
  • روہی ٹی وی ملتان کے 36 ملازمین بے روزگار : صحافیوں کا شدید احتجاج
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»حفیظ خان»بشیر ساربا ن سے ڈونلڈ ٹرمپ تک : سَرکشی/ حفیظ خان
حفیظ خان

بشیر ساربا ن سے ڈونلڈ ٹرمپ تک : سَرکشی/ حفیظ خان

ایڈیٹرجنوری 5, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
hafeez khan
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

میری عمر کے پاکستانیوں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اُن کا مسلسل خوف سے پالا ہے۔ یہ خوف پانچ جہتی خوف ہے یعنی اسلام خطرے میں ہے، پاکستان خطرے میں ہے، جمہوریت خطرے میں ہے، بیرونی ہاتھ سے خطرہ ہے اور امریکی امداد خطرے میں ہے۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اسلام تو اللہ کے فضل وکرم سے پندرھویں صدی میں پھل پھول رہا ہے تو اسے کب، کس سے خطرہ لاحق ہوا تو سمجھ میں یہی آتا ہے کہ نہ تو ایک عام مسلمان کے اسلام کو خطرہ ہے اور نہ ہی کسی عالم ِ دین کے اسلام و ایمان کو۔ اگر کہیں کوئی خطرہ ہے تو وہ مُلا کے اسلام کو خطرہ ہے مُلا کے ایمان کو خطرہ ہے۔حضرت صاحب کو اپنے رب پر یقین ہی نہیں کہ جس ذات نے اِس دین ِ مبین کو خلقت کے لیے منتخب کیا وہی اِس کی حفاظت کرے گا۔مُلا کے اسلام کو خوف اِس لیے بھی سمجھ میں آتا ہے اُس کے تانے بانے براہ ِ راست اُس کے دنیاوی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جب کہ عالم کاربط اُس کے علم سے اور ایک عام مسلمان کا تعلق اپنے دین سے دنیاوی مفادات و حاجات کا محتاج نہیں ہوتا۔
اِسی طرح ایک عام پاکستانی کے پاکستان کو کب کوئی خطرہ لاحق ہوا ،خطرہ ہے تو حاکموں کے پاکستان کو کہ جن کے نزدیک پاکستان کا مطلب اُن کا اقتدار ہے ۔عام پاکستانی نے تو ہمیشہ اپنے لہو سے اِس دھرتی کی آبیاری کی ہے اور بھارت سے ہونے والی چار جنگوں کے باوجود اسے محفوظ و مامون رکھاہے۔دہشت گردی کا عفریت اگر کہیں تیس برس سے ہماری سرحدوں کے اندر گھسا ہوا ہے تو ہمارے حاکموں کی طمع، حرص اور ناعاقبت اندیشی کے سبب مگر اپنی جانوں کا نذرانہ پھر بھی ایک عام پاکستانی اور اُس کے سرحدی محافظ دے رہے ہیں۔حاکموں کاپاکستانی بیانیہ تو بہر صورت اُن کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی جزیات سے تیار ہوا ہے۔اُن کے نزدیک پاکستان کی سالمیت اور بقا ءاُن کی حکمرانی کی سالمیت اور بقاءسے مشروط ہے۔وہ کرسی پر ہیں تو نہ پاکستان کو خطرہ ہے اور نہ ہی اِس کے اداروں کو اور اگر وہ کرسی پر نہیں رہے تو پاکستان بھی پل بھر میں غیر محفوظ اور اس کی پارلیمنٹ ، عدلیہ ، عساکر اور میڈیا سبھی مطعون اوراُن کی جانب سے طعنہ زنی کا ہدف۔ مُلا کی طرح ہمارا سیاستدان بھی اپنی حاکمیت کی بنیاد خوف اور محرومیوں پر استوار کرتا ہے۔ایک عام محب ِ وطن پاکستانی کو مسلسل حالت ِ خوف میں رکھنے کے لیے پہلے بھارت اور پھرمسئلہ کشمیر کو بوجوہ اور حسب ِ منشا کبھی طاقِ نسیاں میں دھر دیا گیا اور کبھی زندہ کر دیا گیا۔امریکہ بہادر نے افغانستان میں سوویت یونین کو پچھاڑنے کا قصد کیا تو ہمارے حاکموں نے اپنی ہوس کے لیے پورے پاکستان کو میدان ِ جنگ میں بدل دیا۔
امریکہ نے پاکستان کے اُس وقت کے حاکموں کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ا سٹنگر میزائل دیے تو وہ ایران کوفروخت ہونے کے بعد عراق کے خلاف استعمال ہوئے تو اِس میں پاکستان کا کیا قصور۔جن کا قصور تھا وہ تو باز پرس پر مُکر گئے اور جب تحقیقات کے لیے امریکی جہاز میں سوار ٹیم مبینہ طور پر اسلام آبادمیں اترنے والی تھی تو فیض آباد کے قریب اوجڑی کیمپ کو اڑادیا گیا ۔ہلاکت خیز اسلحے کی بارش کا نشانہ پھر بھی عام پاکستانی ہی بنے جن میں موجودہ وزیراعظم کے والد خاقان عباسی بھی شامل تھے۔اب بھی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی محض اسی لیے کی جاتی رہی ہے کہ حاکموں کے گلشن کا کاروبار چلتا رہے کہ جس کا عوام کے پاکستان سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔حاکموں کا پاکستان تو اُس قسم کی شکار گاہ ہے کہ جس طرح کی کئی شکار گاہیں ہمارے حکمرانوں نے خلیجی شہزادوں کو سرائیکی وسیب میں دے رکھی ہیں جہاں مقامی لوگوں کو اپنے گھروں میں جانے کے لیے بھی ”ویزہ نما“ اجازت لے کر جانا پڑتا ہے۔حاکم اگر اقتدار میں نہ ہوں تو اُن کے پاکستان کا ”جغرافیہ “بدل جاتا ہے۔ کوئی انگلینڈ کو اپنا پاکستان بنا لیتا ہے اور کوئی دوبئی کا نام پاکستان تصور کر لیتا ہے۔اگر پاکستان اپنی اصل شناخت کے ساتھ قائم ودائم ہے تو وہ غریب عوام کا پاکستان ہے ۔اُن کی زندگی بھی یہیں اور مرنے کے بعد قبریں بھی اِسی دھرتی میں۔حاکم تو غریبوں کے پاکستان میں اسکول اور ہسپتال بھی نہیں بناتے مبادایہاں کے باشندے اُن سہولتوں سے فیض یاب نہ ہو جائیں کہ جنہیں حاکم اپنے اپنے ”پاکستان“ میں جا کر انجوائے کرتے ہیں۔
تیسرا خوف ہمارے سر پر جمہوریت کے خاتمے کا سوار کر دیا گیا ہے کہ جمہوریت کا ”لُٹو تے پُھٹو“ ماڈل اگر نہ رہا تو نہ جانے کیا ہو جائے گا۔میں پوچھتا ہوں کیا ہو جائے گا۔کم از کم اِس قسم کے کلیشوں سے تو نجات مل جائے گی کہ بری سے بری جمہوریت اچھی سے اچھی ڈکٹیٹر شپ سے بہتر ہے۔بھائی صاحب کس نے کہہ دیا کہ بری جمہوریت اچھی ڈکٹیٹر شپ سے بہتر ہوتی ہے۔یہ بری جمہوریت ہی ڈکٹیٹر شپ کی ارفعیٰ شکل ہے جو آپ اور ہم بھگت رہے ہیں۔آخر مان کیوں نہیں لیتے کہ یہ مستعمل جمہوریت ہمارے مذہب اور ہماری ثقافت دونوں سے متصادم ہے۔ عجیب مخمصے میں ڈال رکھا ہے ہمارے حاکموں نے جمہوریت کے نام پر اقتدار کی چوربازاری کو۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال مصور ِ پاکستان تھے کہ جنہوں نے تخلیق ِ پاکستان کا خواب دیکھا مگر دوسری جانب ہم نے اُن کے تصورِ جمہوریت کو ”کھوہ کھاتے“ میں ڈال رکھا ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ ہم تو جنیاتی طور پر ”تلوار“ کی حاکمیت کے مطیع چلے آتے ہیں کہ جس میں کم از کم ”میرٹ“ تو ہے کہ جو طاقت ور وہی حاکم۔یہ تو نہیں کہ ”بریانی“ کھانے والوں کی پرچیاں بیلٹ باکس میں ڈالیں اور وہاں سے اقتدار کی کرسی نکال لی۔ اِس قسم کی جمہوریت صرف اُن معاشروں میں چل سکتی ہے کہ جہاں ووٹ کی قیمت ایک پلیٹ بریانی نہ ہو ہمارے ہاں نہیں۔ہمارے پیٹ بھرے ہوئے بھی ہوں تو نیت نہیں بھرتی اور جہاں نیت ہی ”فاقہ زدہ“ ہو وہاں کیسی جمہوریت۔ووٹ کے نام پر بدترین آمریت دیکھنی ہو تو کوئی ہمارے ہاں دیکھے کہ جس میں عوام گوجرانوالہ کے چِڑوں کی طرح سلاخ میں پرو کر بھونے جا رہے ہیں۔
ایک اور خوف ہمارے ہاں ”بیرونی ہاتھ“ کا بھی ہے کہ نہ جانے کب کہاں سے کوئی بیرونی ہاتھ نکلے اور ہمارا سب کچھ تہس نہس کر کے چلتا بنے۔ معلوم نہیں ہمارے ہاں سب سے پہلے کس بد بخت نے یہ اصطلاح استعمال کرنا شروع کی کہ جس کے بعد ہر قومی سانحے ، حادثے اور دہشت گردی کی واردات میں نہ دکھائی دینے کے باوجود یہی بیرونی ہاتھ کارفرما ہونے لگا۔ہمارے تحقیقی اور تفتیشی اداروں کے لیے بھی بیرونی ہاتھ کی آڑ میں ”مٹی پاو¿“ پروگرام کا چلن عام ہوا تو پھر بیرونی ہاتھ نے وہاں وہاں ”آگ لگاو¿“اسکیم بھی متعارف کرا دی کہ جہاں صرف مٹی ڈالنے سے کام ہونے والا نہیں تھا۔بیرونی ہاتھ بھی عجیب کارگر نسخہ ہے کہ بڑے سے بڑے سانحے کی فائل اس طرح دریا برد کی جاتی ہے کہ نشاں بھی نہیں ملتا اور ذمہ داری سے بھی نجات۔کوئی نہیں پوچھتا کہ محترم جب یہ بیرونی ہاتھ آپ نے دیکھا تو اُسے پکڑ کیوں نہ لیایا اُس کے جسم کا باقی حصہ کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔بدقسمتی سے اپنی ستر سالہ تاریخ میں کلبھوشن نام کا ایک ”بیرونی ہاتھ“ ہمارے ہاتھ تو لگ گیا ہے مگر اب ہماری قیادت کی جان پر بنی ہوئی ہے کہ اس ”ہاتھ“ سے کیسے ہاتھ چھڑائیں۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے امریکی دورے کے بعد پیداہونے والا ایک اور خوف ابھی تک کسی بھوت کی صورت ہم سے چمٹا ہوا ہے کہ کہیںامریکہ بہادرہم سے ناراض ہو کر ہماری امداد نہ بند کر دے۔اتنے طویل عرصے میں ہم کسی مجنوں کی طرح امریکی لیلیٰ کے در کے سامنے کاسہ لے کر سرنگوں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب اِس میں اُس کا” التفات“کا جھونگا گرے اور ہماری عید ہو جائے۔امریکی گندم سے شروع ہونے والی یہ امداد 1971ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران ساتویںامریکی بحری بیڑے کی مفروضہ آمد کاانتظار کاٹتی ہوئی جب افغانستان کی ٹھیکے کی جہادتک پہنچی تو نوبت ایں جا رسید کہ اس مملکت ِ خداداد میں حصول ِ اقتدار کے لیے بھی انکل سام کی آشیر باد لازم ٹھہری۔اور یہ ہزیمت یہیں نہیں رُکی، اگر امریکی ایوان ِ صدارت کا کوئی اہلکار ملنے سے گریزاں ہو تو منت ترلے کے لیے عرب حکمرانوں کی راہداری کا ناپا جانا بھی معیوب قرار نہیں پاتا۔تو پھر ایسے میں امریکی صدر محض 33ارب ڈالر کے زر ِ ٹھیکہ داری کے لیے پاکستان کو جھوٹا اور دغا باز ہونے کا طعنہ کیوں نہ دے۔قصور پاکستان کا نہیں اور نہ ہی پاکستان جھوٹا اور دغا باز ہے۔قصور تو اُن حاکموں کا ہے جو پاکستانی شناخت کو اس سطح تک لے آئے ہیں ۔ورنہ یہی پاکستان 1961ءمیں بھی تھا کہ جب کراچی کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب صدر لنڈن بی جانسن نے سڑک کنارے کھڑے ہوئے اونٹ ریڑھی کے ساربان بشیر احمد کو اپنا ذاتی دوست قرار دے کر امریکہ میں بطور مہمان بلوایا تھا اور ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی بیگم کے ساتھ صدر ایوب خان کا ریڈ کارپٹ استقبال کرنے کے لیے ائیر پورٹ پر ڈیرہ جمائے رکھا تھا۔اگر ہم نے اِس جمہوریت کے لیے دوسرے ملکوں کے حاکموں سے یونہی در در بھیک مانگنی ہے تو بھاڑ میں جائے یہ جمہوریت۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleائیر مارشل اصغر خان مرحوم کا ایک انٹرویو
Next Article ایک عہد کا خاتمہ : نام ور شاعر رسا چغتائی انتقال کر گئے
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

روسی ادب چند مطالعات : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب کا مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟ شاکر حسین شاکر کا کتاب کالم

جولائی 10, 2026

Forcing God’s Hand ایک جائزہ : فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی صیہونیوں کا مذہبی فریضہ ہے ؟ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

جولائی 10, 2026

ایران پر امریکی حملے اور امن کی رہی سہی امید : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 10, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • روسی ادب چند مطالعات : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب کا مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟ شاکر حسین شاکر کا کتاب کالم جولائی 10, 2026
  • Forcing God’s Hand ایک جائزہ : فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی صیہونیوں کا مذہبی فریضہ ہے ؟ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جولائی 10, 2026
  • ایران پر امریکی حملے اور امن کی رہی سہی امید : سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 10, 2026
  • اینکر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ : مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام جولائی 9, 2026
  • بلوچستان : چار دن میں شدت پسندی کے تین واقعات : 11 فوجی ، 27 پولیس اہلکارجان سے گئے ، 54 شدت پسند بھی مار دیے ۔۔ آئی ایس پی آر جولائی 8, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.