حیدر جاوید سیدکالملکھاری

حیدر جاوید سیدکا کالم:کچھ وقت نکالئے اور غور کیجئے

سازشی تھیوریوں، افواہوں، کفروشرک کے فتوؤں کے ساتھ شخصیت پرستی کے جنون سے رزق پاتے سماج کا ’’اصل‘‘ کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں خود پسندی اور یہ زعم کہ ہمارے سوا سب ’’ابتر‘‘ ہیں ایک ہم ہی ہیں جو کرہ ارض پر بستے لوگوں کو نجات کا راستہ دیکھاسمجھا سکتے ہیں۔
جس سوال کو ہم عموماً نظرانداز کردیتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم عصری شعور کے ساتھ ان امراض کا علاج کیوں تلاش نہیں کرتے جو اب سرطان کی صورت اختیار کرچکے؟
فقیر راحموں کا خیال ہے کہ کچھ زیادہ جی لئے ہیں ہم ان (موجودہ) ماہ و سال کے لوگ ہی نہیں۔
ایک تو یہ فقیر راحموں جان کا عذاب بنا ہوا ہے۔ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کردیتا ہے کہ سارا دن کھولتے ہوئے گزرتا ہے اور پھر شب آنکھوں میں کٹتی ہے۔
خیر چھوڑیئے اسے، ہم اپنی باتیں کرتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو کبھی کبھی بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ان دنوں اس کی مقدار کچھ زیادہ ہے۔
وجہ سوشل میڈیا ہے۔ میں اسے اپنی فہم کے مطابق بات کرنے، دوستوں سے مکالمے اور کرہء ارض کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال سے آگاہی کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر آجکل تھڑدلوں کا قبضہ ہے مکالمے کی بجائے ملاکھڑے بلکہ گالم گلوچ کے شائقین دندناتے پھررہے ہیں۔
آپ کسی دن مخالف فہم کی کسی خاتون کے فیس بک یا ٹیوٹر کے اکاؤنٹ پر جاکر دیکھیں، حیرانی سے دانتوں میں انگلیاں داب لیں گے کہ یہ کیسی زبان و بیان مرغوب ہے ہماری نئی نسل کو۔
مجھے روزمرہ کی بنیاد پر اس بدزبانی سے پالا پڑتا ہے۔ مجھے کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ دیکھتا پڑھتا ہوں۔ زیادہ تر بدزبانی جعلی اکاؤنٹس سے ہوتی ہے۔ اصل کردار بھی ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر ہیں۔ بنی گالوی محبت کے اسیروں نے 1980ء اور 1990ء کے (ن) لیگیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ان دنوں حب الوطنی کی معراج یہ ہے کہ آپ جتنی بھاری بھرکم گالی دیں گے اتنے عظیم محب وطن پاکستانی ہیں۔ بات بات پر آپ کو یہ سننے کو ملے گا ’’دفع ہوجاؤ اس ملک سے‘‘۔ ارے بھیا کیوں دفع ہوجائیں، یہ تو 22کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ کسی لشکر نے فتح کرکے حدبندی کی نہ کسی خاص خاندان کی عزت مآب خاتون جہیز میں لائیں۔
دوعشرے ہونے کو آئے اس بات کو جب ایک دن ہم نے استاد مکرم سید عالی رضویؒ کی خدمت میں رکھا کہ ’’سماجی ارتقا سے محرومی کا عذاب کب ختم ہوگا؟‘‘
شفقت سے انہوں نے دیکھا اور پھر کہنے لگے، “صاحبزادے جو سماج تاریخ کا تجزیہ کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو بلکہ تاریخ کو بھی ایمان کی دولت کی طرح سینے سے لگائے جی رہا ہوں وہاں ارتقا کو نہیں زوال کو قسمت سمجھا جاتا ہے”۔ ساعت بھر کے لئے رکے اور پھر گویا ہوئے “ہمیں اپنا نصاب تعلیم جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ فکری مغالطوں اور تاریخ کے گھٹالوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ نئی نسل کی عصری شعور کے ساتھ تربیت لازمی ہے”۔ استاد مکرم فرمانے لگے، صاحبزادے وہ حضرت امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد یاد ہے نا ’’اپنی اولاد کی ان کے زمانے کے مطابق تربیت کرو اپنے زمانے کے مطابق نہیں‘‘۔ اسے رہنما اصول کا درجہ دینا ہوگا۔
ہمیں شعوری طور پر اس حقیقت کا اعتراف کرناچاہیے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کی اس طور تربیت نہیں کی جس کی ضرورت تھی اندھی محبت، اندھی نفرت، بدترین شخصی اطاعت کا طوق، اس کے علاوہ کیا دے پائے۔
آپ اگر بیس تیس سال پیچھے جائیں تو کہیں کہیں شجرسایہ دار مل جاتے تھے۔ صاحبان علم سے ملاقات ہوجاتی تھی جن سے آپ فیض پاتے اور رہنمائی لیتے تھے۔ اب جو لوگ صاحبان علم سمجھے یا پیش کئے جا رہے ہیں ان کی اکثریت مناظرے بازوں کی ہے، میں درست تم غلط بلکہ تمہارا وجود ہی بوجھ ہے۔
اس سوچ سے کب نجات ملے گی کب ہم ایک دروسرے سے تحمل کے ساتھ بات کرپائیں گے؟ فی الوقت اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو اور فوجی آمر جنرل ضیاء الحق دونوں شہید کا درجہ رکھتے ہوں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم اور دبئی میں مقیم سابق صدر جنرل پرویز مشرف دونوں محب وطن ہوں اس معاشرے میں ایک دوسرے کو بس سوا تین توپوں کی سلامی دیتے رہیں۔
معاف کیجئے گا بات کہاں سے شروع ہوئی اور کس سمت نکل لی۔ عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ ہمارے آپ کے چار اور جو ہورہا ہے لکھا بولا جارہا ہے اس میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے اس سماج میں عورت کو گالی دینا واجبات کاحصہ ہے۔
حیرانی ہوتی ہے کہ ہم کس سمت تیزی سے دوڑ رہے ہیں جو توقیر اور مرتبہ ہم اپنی خواتین کے لئے چاہتے ہیں وہ دوسروں کی خواتین کو دینے کے لئے تیار نہیں بالخصوص اگر خاتون کا تعلق ہماری سیاسی فہم کے مخالف دھڑے سے ہو تو پھر ہم زبان کو نشتر بنائے ایسے ایسے گھاؤ لگاتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیں۔
کیا یہ بدزبانی راتوں رات رواج پاگئی؟ جی نہیں بڑی محنت سے اسے رواج دیا گیا اور اس میں سارے طبقات کے ساتھ ریاست بھی شامل ہے۔
سادہ لفظوں میں یہ کہ بدزبانی ہمارے یہاں سب سے مرغوب کھابا ہے۔اصلاح احوال کے لئے اہل دانش کو آگے آنا ہوگا محراب و منبر والوں کو بھی اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کا بھی فرض ہے کہ اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔ ایک بات ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ اخلاقی و سماجی اقدار سے محروم معاشرے تاریخ کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں کوئی انہیں یاد تک نہیں کرتا۔
بطور خاص معذرت کے کالم کچھ کچھ کیا کچھ زیادہ ہی بوجھل باتوں سے یہاں تک آن پہنچا مگر کیا کیجئے اپنے چار اور کے حالات و واقعات اور دیگر امور سے کٹ کر جیا جاسکتا ہے نہ ہی یہ ممکن ہے کہ کان اور آنکھیں بند کرلی جائیں۔
ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ خواتین چاہے وہ دشمن کے خاندان کی کیوں نہ ہو ان کا احترام واجب سمجھنا ہوگا۔ ملاکھڑوں سے گریز کرکے مکالمے کو رواج دینا ہوگا۔
یہ بات بات پر کفر و غداری کے فتوے اچھالنے کی بیماری کا ڈھنگ کے معالج سے علاج کروانا چاہیے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے سب سے مراد بائیس کروڑ لوگ ہیں لشکر سنڈیوں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی یہ تو “پاڈان” کے ایک سپرے کی مار نہیں۔
ہم برداشت کریں گے تو برداشت کئے جائیں گے۔ اپنے اپنے لیڈروں سے محبت کیجئے لیکن یہ محبت ایمانی ہرگز نہیں نہ ہی دوسری جماعتوں کے لیڈر اور کارکن غدار ہیں۔
بہت کھیل لیا، غدار غدار کہنے کا کھیل نتیجہ کیا نکلا؟ کسی دن ٹھنڈے دل سے غورکرنے کی زحمت ضرور کیجئے۔ ایک بات اور عرض کردوں سیاسی نظریہ ہو یا مذہبی عقیدے، یہ عمل کرنے کے لئے ہوتے ہیں آپ اپنے عمل سے دوسروں کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں لیکن اگر آپ اسے تلوار بنالیں گے کہ تو کمزور آدمی لاٹھی تو سنبھالے گا ہی پھر فساد بڑھے گا۔
فسادوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ بدزبانوں کی خصوصاً خواتین کے معاملے میں بدزبانیوں کی حوصلہ شکنی کیجئے ورنہ یہ آگ کل آپ کے دامن کو لگے گی اور آپ کے گھر تک بھی پہنچے گی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker