حیدر جاوید سیدکالملکھاری

نواز شریف اور جماندرو تجزیہ نگار .. حیدر جاوید سید

نیب کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر موجود جناب نواز شریف کی لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے طبی بنیادوں پر ضمانت منظورکرلی۔ نواز شریف ایک ایک کروڑ کے دو الگ ضمانتی مچلکے جمع کروائیں گے۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں طبی بنیادوں پر سزا معطل کئے جانے کی درخواست کی سماعت دو دن کیلئے ملتوی کر دی گئی۔



جماندرو (پیدائشی)تجزیہ نگاروں میں سے ایک کا دعویٰ ہے کہ معامللات سات ارب ڈالر میں طے ہوئے اور یہ معاملہ نواز شریف سے ہسپتال میں ون ٹو ون ملاقات کرنے والی شخصیت نے طے کروایا۔ صحافیوں سمیت ہر کس وناکس اس امر سے آگاہ ہے کہ جمعرات کو سروسز ہسپتال لاہور میں سابق وزیراعظم سے مولانا طارق جمیل نے ون ٹو ون ملاقات کی تھی۔ سچ کیا ہے یہ مولانا طارق جمیل بتا سکتے ہیں ..



البتہ شریف خاندان کے قریبی ذرائع نے ڈیل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”بعض اداروں کے ایما پر پچھلے چند برسوں سے نواز شریف کو بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تجزیہ نگار ہی بتا سکتے ہیں کہ ایک خالص پاکستانی اور محب وطن حکومت نے بھارتی ایجنٹ کے 100 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کی بجائے صرف سات ارب ڈالر پر معاملہ کیوں طے کیا”۔
ڈیل ڈھیل کی پتنگیں اُڑاتے تجزیہ نگاروں اور سیاسی مسافروں نے کسی زمانے میں دو سو ارب ڈالر’5ارب پاکستانی اور پچاس من سونا کراچی سے دبئی جانے والی لانچ سے بھی برآمد کروایا تھا۔



500ارب روپے سراج درانی کے شکارپور والے گھر کے تہہ خانے میں شارٹ سرکٹ سے جلوا دئیے تھے۔ شرجیل میمن نے بھی 60ارب کی کرپشن کی تھی۔
ڈاکٹر عاصم پر 400ارب روپے کی کرپشن کے الزامات تھے اور مقدمہ درج ہوا اپنے ہسپتال میں ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کا علاج کرنے کا۔ سابق صدر آصف علی زرداری پر اربوں روپے کے جعلی اکائونٹس ڈالے گئے مگر افسوس کہ نیب ابھی تک ڈیڑھ کروڑ روپیہ سکہ رائج الوقت کا چالان خود اپنی تفتیش کے نتائج کی روشنی میں جمع نہیں کرواسکی۔



الزامات درالزامات کی دھول میں پل کر جوان ہوئی نسل ڈھنگ کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ اس نسل کے دیوتا نے بڑی قربانی دی اور برطانوی قانون کے مطابق طلاق لینے والی اہلیہ سے قانون کے مطابق کوئی رقم نہیں لی۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ دیوتا کے حصے کی رقم ان کے دونوں صاحبزادوں کے نام پر منتقل ہوئی ہے۔ ہم عجیب لوگ ہیں سازش’ سودے’ ڈیل اور پسند کا دیوتا ڈھونڈ لاتے ہیں ‘ اگر کسی سے یہ دریافت کرلیا جائے کہ علیمہ خان کے 60ارب اور عظمیٰ خان کے 40ارب کا قصہ کیا ہے تو اب جواب ہوتا ہے آپ کردارکشی کر رہے ہیں معزز خواتین کی۔ ارے صاحب یہ ادلے کا بدلہ ہے یہی دستور ہے۔
اس سے جتنی جلدی جان چھڑالیں گے اتنا اچھا ہے۔



نواز شریف شدید علیل ہیں، زندگی موت کا مالک اللہ رب العزت ہے مگر میاں صاحب کی بیماری جس سٹیج پر ہے یہ 60 اور 40والا معاملہ ہے زندگی کا تسلسل قائم رہنے کے امکانات 40فیصد ہیں۔ حکومت کے مقرر کردہ ڈاکٹر اگر قبل ازیں حکومت سے جھوٹ بولتے رہے ہیں اور نواز شریف کی بیماری بارے درست تشخیص سے حکومت کو بے خبر رکھا ہے تو پھر یہ نااہل تھے ہر دو باتوں کی تحقیقات بہت ضروری ہے۔ سروسز ہسپتال کے ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ اگر میاں نواز شریف کو کم از کم 10دن قبل ہسپتال منتقل کردیا جاتا تو خون کے خلئے ٹوٹنے کے عمل کو بروقت روکا جاسکتا تھا۔ کس نے اور کیوں اس بات کا انتظار کیا کہ قوت مدافعت کم پڑ جائے تو احسان کیا جائے؟ کیا ہمیں اس سوال کا جواب کوئی دے گا؟۔



بیماریوں کا مذاق اُڑانے والے کہتے ہیں مشرف بارے نون لیگ کا یہی رویہ تھا مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرف بیمار کیسے ہوئے اور پھر لندن ودبئی کے نائٹ کلبوں میں کیسے تھرکتے ہوئے دیکھے گئے۔ کیا یہ کڑوا سچ نہیں کہ نواز شریف بیٹی کے ہمراہ مقدمات کا فیصلہ سننے کیلئے وطن واپس آئے جبکہ مشرف کو باقاعدہ انتظام کے تحت ملک سے فرار کروایا گیا۔ طریقہ واردات سب کے سامنے ہے اور وہ خود بھی چند لوگوں کا ٹی وی انٹرویوز میں شکریہ ادا کرچکے جنہوں نے ملک سے نکلنے میں ان کی مدد کی۔ معاف کیجئے گا اگر ملک کے اندر یہ کہا اور پوچھا جاتا ہے کہ کیا مجرم یا ملزم صرف سیاستدان ہوتے ہیں تو برا منانے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔



جناب نواز شریف کو اللہ صحت دے ان پر جو الزامات ہیں ان میں بے گناہ ثابت کرنا ان کی قانونی ٹیم کا کام ہے۔
فرض کیجئے اگر وہ پیسے تعلقات اور ”دور تک رسائی” سے اس زندگی میں بچ جاتے ہیں تو کیا آخرت میں بھی ”دور تک رسائی” ان کی مدد کرے گی؟ صاف سیدھا جواب یہ ہے کہ بالکل نہیں۔ اور یہ معاملہ صرف نواز شریف یا زرداری کا نہیں دیوتا سمیت سب کاہے۔ قدرت کے اپنے قوانین ہیں اور میدان حشر کی عدالت میں اعمال وافعال سزا وجزا کے موجب ہوں گے۔ ہاشوانی اور آستانہ عالیہ آبپارہ شریف کے بالک کچھ دیر قبل ایک ٹی وی پروگرام میں اپنی دل کی مریض کسی مریم اور ایڈز کے مریض نواز کی بھی نواز شریف کی طرح رہائی مانگتے ہوئے دکھائی دئیے



وہ آج کل سات پیاروں میں شامل ہیں، وزیراعظم براہ کرم ان پر نظرکرم فرمائیں اور ہوسکے تو ان کے بچوں کا دودھ چوری کرنے والوں کیخلاف جے آئی ٹی بھی بنوا دیں تاکہ جھگڑا ختم ہو۔



فقیر راحموں کہتے ہیں
” نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت قطعاً برائی نہیں اچھی بات ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ معاہدہ جلاوطنی ‘ضمانتیں اور قید میں نجی گاڑیوں کی سہولت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ہے اور چھوٹے صوبوں و قوموں کے لیڈر پھانسی چڑھتے ہیں۔ بیرون ملک ہوٹل میں مردہ پائے جاتے ہیں’ سڑک پر مار دئیے جاتے ہیں یا گیارہ گیارہ سال جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں تو ہمیں پنجاب پر رشک آتا ہے”۔بہر طور یہ ایک ابدی سچائی ہے کہ تمام تر رویوں کے باوجود ریاست کسی پنجابی سیاستدان کی جیل میں طبی موت کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتی۔کمی کمینوں کی خیر ہے وہ پیدا ہی مرنے کیلئے ہوتے ہیں، مرنے دیجئے سڑنے دیجئے۔

روزنامہ مشرق پشاور



نوٹ ۔
یہ کالم ہفتہ کی صبح لکھا گیا اسی دن شام کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں انسانی بنیادوں پر منگل تک نواز شریف کی ضمانت منظور کرلی ۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف ان کی اپیل سماعت کےلیے مقرر ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker