حیدر جاوید سیدکالملکھاری

حکیم محمود خان کا سانحہ ارتحال ، ملتان میں روشنی اور کم ہوئی ۔۔ حیدر جاوید سید

جنم شہر سے ہمیشہ ٹھنڈی ہوائیں محبت بھرے سندیسے اور طلبی کے فرمان آتے ہیں لیکن بیچ میں کبھی کبھی کوئی سوگوار کردینے والی خبر بھی آجاتی ہے ۔ زندگی کی ابدی سچائی یہی ہے کہ دکھ سُکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں
پچھلی شب برادرم شاکر حسین شاکر کی فیس بک وال پر حکیم محمود خان کے سانحہ ارتحال کی خبر نے آنکھوں میں پانی بھر دیا جنم شہر کے دوستانِ عزیز میں سے ایک دوست مزید کم ہوا ۔ سامان سفر ہم بھی باندھے ہوئے ہیں بلاوا کب آئے یہ کون جانے البتہ یہ طے ہے کہ یہاں ہمیشہ کوئی نہیں جیتا بستا ۔
حکیم محمود خان کے والد اپنے دور کے معروف طبیب تھے حکمت نسل در نسل چلتی محمود خان تک پہنچی ۔ طبیہ کالج ملتان سے باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور والد بزرگوار کے ساتھ مطب پر بیٹھنا شروع کردیا ۔
ملتان کے منظور آباد چوک سے اگر دہلی دروازہ کی طرف سفر کریں تو چوک سے بمشکل پندرہ بیس دکانوں کے بعد اُلٹے ہاتھ پر محمود خان کے والد کا مطب قائم تھا وہ ہمیشہ دوپہر کے کھانے اور آرام کے لیے گھر جایا کرتے تھے لگ بھگ پانچ بجے ان کی واپسی ہوتی بس ان تین گھنٹوں کے دوران اس دواخانہ پر مریض کم اور محمود خان کے دوستوں کی چنڈال چوکڑی جمع رہتی دنیا جہان کی باتیں اور بحثیں عجیب سا شور و غل درمیان میں چائے کے دور اور پونے پانج بجے کے لگ بھک یہ چنڈال چوکڑی ایک ایک کرکے کھسکنا شروع ہوجاتی ۔
مطب کی جھاڑ پونچھ ہوتی چنڈال چوکڑی کے اُدھم کی نشانیاں ضائع کی جاتیں کچھ دیر میں بڑے حکیم صاحب (محمود خان کے والد بزرگوار ) تشریف لاتے اور مریضوں کی آمد بھی شروع ہوجاتی بڑے حکیم صاحب کبھی کبھی محمود خان سے دریافت کیا کرتے
” کوئی مریض تو نہیں آیا ؟”
جواب نفی میں ہوتا ۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتے
” وہ تیرے لفنٹر تو آئے ہوں گے ” اب محمود خان خاموشی میں عافیت جانتا ۔ شام کو مطب بند کرنے سے قبل جب سامنے سڑک کی دوسری طرف موجود چائے والے کو بلاکر بڑے حکیم صاحب پوچھتے ” ہاں بھئی کتنے پیسے ہیں آج کتنے کپ چائے آئی ؟
تو چائے والا اپنی پرچی پیش کرتا جس پر اس دن کا حساب لکھا ہوتا تھا
بڑے حکیم صاحب پیسوں کی ادائیگی کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے محمود کی طرف مسکرا کر دیکھتے اور بس اتنا کہتے
” تیرے یہ لفنڑ دوست سگریٹ بھی میرے کھاتے میں پیتے ہیں ”
مجھے یاد پڑتا ہے حکیم محمود خان سے پہلا تعارف سال 1976 ء میں ہوا تھا میری والدہ محترمہ نے منظور آباد چوک کے قریب ایک گھر میں وعظ کرنا تھا اتفاق سے میں ایک دودن قبل ہی کراچی سے ملتان آیا اور اس وقت گھر میں موجود تھا امی جان برقعہ پہن چکیں میری بڑی ہمشیرہ کہنے لگیں ” جاوید ! یہ امی جان کی کتابوں والی ٹوکری رکشہ میں رکھ آؤ ۔ پرانے طرز کی پلاسٹک کی اس ٹوکری میں رومال کے اندر چند مذہبی کتب اور ایک نعت خوانی کی کتاب بندھی ہوتی تھی ۔ ٹوکری اٹھا کر رکشہ تک والدہ کے پیچھے چلتا ہوا سڑک پر پہنچا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے رکشہ میں بیٹھنے کو کہا ۔
خونی برج چوک سے براستہ ٹی بی ہسپتال اور چودہ نمبر چونگی سے ہوتے ہوئے رکشہ منظور آباد چوک سے الٹے ہاتھ کی پہلی گلی پر روک لیا گیا جس گھر میں وعظ تھا اس کے دروازے پر کھڑی ایک خاتون نے گھر کے اندر کی طرف منہ کر کے آواز لگائی ” بی بی جی آگئیں ” والدہ نے اسی خاتون سے کہا کسی کو کہیں میرے جاوید کو کہیں بٹھا دے یہ کہتے ہوئے انہوں نے کتابوں والی ٹوکری مجھ سے لے لی۔
اس خاتون نے گلی میں موہڑے پر بیٹھے ایک صاحب سے کہا
” بی بی جی دے پتر نوں کدھرے بٹھاؤ ”
وہ صاحب مجھے لیے گلی سے باہر نکلے اور ایک دو دکانیں چھوڑ کر مطب نما دکان میں داخل ہوتے ہوئے بولے حکیم صاحب ” اے ساڈا مہمان تہاڈے کول بیٹھا وے ” جی بہتر اس نوجوان نے جواب دیا ۔
دکان میں پہلے سے تین چار نوجوان موجود تھے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نوجوان نے اپنا نام محمود خان بتاتے ہوئے تعارف کروایا مجھ سے نام دریافت کیا اور پوچھا کہاں سے آئے ہو ؟
چوک خونی برج سے میں نے جواب دیا ۔ ان لوگوں سے کیا رشتہ ہے ؟ دوسرا سوال ہوا ۔ جی کوئی بھی نہیں میری والدہ جس گھر میں وعظ کرنے آئی ہیں اس گھر والوں کے کہنے پر وہ مجھے یہاں چھوڑ گئے ہیں
تم عاشو بی بی جی وعظ والی کے بیٹے ہو ؟ دکان میں
پہلے سے موجود ایک نوجوان نے پوچھا ۔ جی
دیکھا نہیں کبھی اس نے کہا ۔ میں کراچی میں رہتا ہوں جواب دیا ۔ پوچھنے والے کا نام توثیق انصاری تھا
خیر یہ محمود خان سے پہلی ملاقات تھی لیکن یہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی اگلے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں ہم کافی بے تکلف ہوگئے خوب باتیں ہوئیں ۔
محمود خان ان دنوں اپنے والد کا مطب سنبھالنے کے لیے ملتان طبیہ کالج میں سال آخر کے طالبعلم تھے دکان میں ان کے ہمراہ موجود نوجوانوں میں ایک کفیل بخاری تھے دوسرے توثیق انصاری باقی کے دوتین افراد کے نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہے توثیق انصاری میرے گھر کے قریب فاران سکول والی گلی میں رہتے تھے اور کفیل ملتان کے ایک خاص فہم والے مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد سید وکیل بخاری پروفیسر تھے ۔
یہیں علم میں آیا کے میرے مستقل ملتانی میزبان اور دوست عمر علی خان بلوچ مطب میں موجود افراد میں سے زیادہ تر کے دوست ہیں مشترکہ دوستی کا یہ تعارف ابھی جاری تھا کہ عمر علی خان بلوچ کی سائیکل مطب کے باہر آن کھڑی ہوئی ۔ جونہی وہ مطب میں داخل ہوئے مجھے دیکھ کر بولے ” بخاری توں ڈوپہر دی روٹی تے نئیں آیا اماں( عمر علی خان بلوچ کی والدہ محترمہ ) انتظار کریندی رئی اے ” ۔ میں نے جواب دیا امی جان یہاں قریب ہی وعظ کے لیے آرہی تھیں مجھے ساتھ لے آئیں۔ باتوں کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے شروع ہوگیا ۔ سیاست عصر ہی موضوع تھا ۔
اس پہلی ملاقات نے جس دوستی کی بنیاد رکھی وہ ہمیشہ قائم رہی توثیق انصاری وفات پاچکے ۔ ایک صاحب ( ادیب افسانہ نگار اور مرتب کی شہرت رکھتے ہیں ) جو کبھی اچھے دوست تھے چند برس قبل لمبے عرصے کی دوستی فقط اس بات پر ترک کر گئے کہ فلاں صاحب جو میرےمخالف ہیں ان سے کیوں ملتے ہو ۔
ایک دودوست اور بھی دوست نہیں رہے انہیں فرقہ وارانہ تعصب کھا گیا ۔
محمود خان سال 1977ء میں حکیم محمود خان بن گیے پھر انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور نوابزادہ نصراللہ خان کی جماعت پی ڈی پی کو پیارے ہوگئے ۔ سفید پوش طبقے کے ہمارے اس دوست نے اُجلے سیاسی کارکن کے طور پر ملتان میں خوب عزت پائی اور انتھک جدوجہد کی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ملتان کی ایک یونین کونسل کے دوبار ناظم منتخب ہوئے وہ پہلی بار ناظم بنے تو میں نے کالم لکھا ” نواب صاحب کی اکلوتی سیاسی نشانی ” حکیم محمود خان کا فون آیا کالم کے مندرجات پر ہم دونوں کافی دیر تک ہنستے رہے ۔ کچھ عرصہ قبل جو چند برس قسمت یا حالات کی بدولت جنم شہر میں بیتائے ان برسوں میں جن پرانے دوستوں سے تجدید تعلق ہوا محمود خان ان میں شامل تھے لیکن اب وہ حکیم محمود خان غوری ایڈووکیٹ کے طور پر معروف تھے ۔
دوہزار گیارہ سے پندرہ کے درمیان ان سے ہفتے میں ایک دوبار ملاقات رہتی ان کی محبت وضعداری اور مکالمے کی عادت جوں کی توں تھی ملتان کی ضلع کچہری میں عزیز نیازی ایڈووکیٹ کی وفات کے بعد حکیم محمود کا چیمبر ہمارا ٹھکانہ ہوا یا حافظ یحیحیٰ ممتاز کا چیمبر جہاں سارے دوست میری آمد کی اطلاع پاکر جمع ہوتے اور پھر ہم ملکر بابر سوئیکارنو ( مرحوم عارف محمود قریشی ایڈووکیٹ کے صاحبزادے ) کو جگتیں مارتے رہتے
حکیم محمود خان کا خاندان 1947 ء کے بٹوارے میں مشرقی پنجاب سے ملتان آن بسا تھا ان کا خاندان کئی نسلوں سے طب کے شعبہ سے منسلک تھا سند یافتہ حکیم نے جو کئی برس باقاعدہ مطب سنبھالنے کا تجربہ رکھتا تھا ایک دن خاندانی شناخت سے الگ شناخت بنانے کا فیصلہ کیا
ایل ایل بی کیا اور ملتان کی ضلع کچہری میں وارد ہولیا ۔
سچ یہ ہے کہ یہ فیصلہ غلط بھی ثابت نہیں ہوا محنت اور لگن سے انہوں نے وکالت کے شعبہ میں خوب نام کمایا ۔ مطالعے اور مکالمے کا شوق جوانی بلکہ یوں کہیں زمانہ طالبعلمی سے ہی تھا وہ ان سیاسی کارکنوں میں سے تھے جو سیاسی عمل کی آبرو سمجھے جاتے ہیں ایک طویل اور پرعزم سفر حیات طے کرکے وہ دنیا سرائے سے رخصت ہوئے ان کے سانحہ ارتحال سے ملتان میں علم و فہم سیاسی دانش اور دوست نوازی کا ایک ایسا زندہ کردار رخصت ہوا جس سے ملتان کی روشنی اور کم ہوئی
سال 1976 ء میں قائم ہوا تعلق ان کے سانسوں کی ڈور ٹوٹنے پہ تمام ہوا ۔
ملتانی دوستوں کی جو تسبیح سعدی خان کی وفات سے ٹوٹی تھی اس کا ایک ایک دانہ مرحلہ وار موت کا رزق ہوتے جارہا ہے کسے یاد کرو کون بھلائے بھولتا ہے ۔ عارف محمود قریشی. لالہ زمان جعفری ۔ نذر بلوچ ۔ عزیز نیازی ۔ سید حسن رضا شاہ بخاری( رضو شاہ ) پروفیسر شمیم عارف قریشی ،توثیق انصاری _
لالہ عمر علی خان بلوچ ۔ تاج محمد خان لنگاہ اور اب حکیم محمود خان بھی رخصت ہوئے اجل کو کون روک سکا ہے ۔
حق تعالیٰ مغفرت فرمائے اس مرد آزاد کی جس نے بہت محنت و مشقت کے ساتھ اپنی دنیا آپ تعمیر کی ، میں بھی کیسا بدنصیب ہوں ہردوچار برس بعد جنم شہر کے کسی روشن فکر دوست کے سانحہ ارتحال پر اس کا نوحہ لکھنا پڑتا ہے ۔
آئیے دست دعا بلند کریں ان سارے پیارے ملتانی دوستوں کے لیے جو اس سفر حیات میں بچھڑ گیے منوں مٹی کی چادر اوڑھ کے شہر خموشاں میں چین کی نیند سولیے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker